او آئی سی حضرت عمر بن عبد العزیز کی قبر کی بر حرمتی کا فوری ایکشن لے: علماء وم شائخ

او آئی سی حضرت عمر بن عبد العزیز کی قبر کی بر حرمتی کا فوری ایکشن لے: علماء ...

  

لاہور (این این آئی) ملک کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شام میں حضرت عمر بن عبد العزیز کی قبر کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے موثر احتجاج کرنے اور اسلامی تعاون تنظیم سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسنددہشت گرد تکفیری گروہوں نے مسلمانوں کے مقدسات کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے جو کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث علامہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری، پیر مولانا محفوظ مشہدی، مرکزی رہنما جمعیت علما پاکستان مولانا محمد خان لغاری،سید یوسف شاہ، صدر مجلس علما امامیہ علامہ جاوید اکبر ساقی، مولانا اسد اللہ فاروق، علامہ زبیر عابد، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر، مولانا شمس الحق، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا عصمت اللہ معاویہ، علامہ طاہر الحسن، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد القیوم فاروقی، علامہ ایوب صفدر، مولانا اسلم صدیقی، مولانا نعمان حاشر، مولانا ابو بکر صابری، مولانا امین الحق اشرفی، مولانا عبد اللہ رشیدی نے کہا کہ انتہا پسند اور دہشت گرد گروہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کے مقدسات پر حملہ آور ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز اور ان کی اہلیہ کی قبر کی توہین سے واضح ہے ان گروہوں کا اسلام، مسلمانوں اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام مذاہب مقدسات اور قبروں کی حرمت اور احترام کا درس دیتے ہیں، کوئی مسلمان قبر کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انتہا پسند گروہوں نے مسجد نبوی، بیت اللہ شریف، پاکستان اور دیگر مقامات میں مزارات، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے کیے ہیں، ایسے گروہوں کے مقابلے کیلئے عالمی فکری اتحاد کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔5جون کو ملک بھر میں یوم عمر بن عبد العزیز منایا جائے گا۔ بعض عناصر ارض حرمین شریفین کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کر کے عالم کفر کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ارض حرمین شریفین کی عظمت، حرمت اور دفاع پر پوری امت مسلمہ قربان ہونے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ام کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے اور مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل کیلئے متحد ہونا ہو گا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کو ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کیلئے بھی فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ شام کے صوبہ ادلب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے مزارات کی بیحرمتی پرعلمائے کرام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس دل ہلا دینے والے واقعے سے عالم اسلام کے دل و دماغ لرز اٹھے ہیں، اندوہناک واقعے پر امت مسلمہ کے دل رنجیدہ اور خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ واقعے پر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ اسلامی دنیا اور او آئی سی تنظیم فوری ایکشن لیکر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی اصل حالت میں بحالی یقینی بنائے۔دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے اہل سنت سے وابستہ مقدس مکانات خاص کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کے مزار کی توہین اور تباہی اور اس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ملوث ہونے کی من گھڑت خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اسلام آباد میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلاشبہ اس طرح کے جعلی خبروں کی اشاعت اسلامی مسالک کے پیروکاروں میں تفریق پیدا کرنے، عوامی جذبات کو اکسانے اور مسلمانوں کے احساسات کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے اور یہ صرف بین الاقوامی صہیونیت اور اسلام دشمن قوتوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مقدس مکانات کی تباہی اور مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے مقبروں کی بے حرمتی کا اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد یقینا الہامی مذاہب کو نہیں سمجھتے ہیں اور ان کو اللہ رب العزت کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔

مزمت

علماومشائخ

مزید :

صفحہ آخر -