پمز کے مختلف شعبوں میں کورونا پھیل گیا، وجوہات جاننے کیلئے تحقیق کا فیصلہ

پمز کے مختلف شعبوں میں کورونا پھیل گیا، وجوہات جاننے کیلئے تحقیق کا فیصلہ

  

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے 91 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد بڑی تعداد میں ملازمین کے متاثر ہونے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیق کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق پمز کو 12 وینٹی لیٹرز موصول ہوئے جو نامکمل تھے تاہم دیگر ضروری آلات کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے رابطہ کیا تھا۔پمز کے ایک ڈاکٹر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہسپتال کے ڈاکٹر، نرس اور ملازمین سمیت 91 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اوران میں سے ایک کا انتقال ہوا۔بیماری پھیلنے کا سبب بنے والے حالات کا تعین کرنے کیلئے تحقیق کی جارہی ہے اور محققین نتائج کا جائزہ لیں گے۔ ڈاکٹر کے مطابق نیوسرجری ڈپارٹمنٹ میں 13 ڈاکٹر، 2 نرسز، پیتھالوجی میں 3 ڈاکٹر، 13 ملازمین اور 3صفائی کا کام کرنے والے وائرس کا شکار ہوئے۔ اسی طرح گیسٹرو ڈپارٹمنٹ میں 2ڈاکٹر اور ایک نرس، نیورولوجی ڈپارٹمنٹ میں ایک ڈاکٹر، ریڈیالوجی میں 4 ڈاکٹر اور یورولوجی میں 3 ڈاکٹروں میں وائرس مثبت آیا۔مدر اینڈ چائد ہسپتال میں 8 ڈاکٹر متاثر ہوئے، پیڈز سرجری اور آپریشن تھیٹر میں 2 ڈاکٹر اور 9 ملازمین، انستھیزیا ڈپارٹمنٹ میں تین ملازمین، آرتھو پیڈک میں دو ڈاکٹر، جنرل میڈیسن میں 5 ڈاکٹر اور اورومیکسیلوفیشل سرجری میں ایک ڈاکٹر بیمار ہوا۔بچوں کے شعبے میں 3 ڈاکٹر، ایک ملازم اور ایک صفائی والا متاثر ہوا، کارڈیک سرجری میں ایک ملازم، جنرل سرجری میں دو ڈاکٹر، تین ڈاکٹر ایڈمن، دو ڈاکٹر اوفتھالمولوجی، ایک ملازم پیتھالوجی اور دو ڈاکٹر دیگر شعبہ جات میں متاثر ہوئے۔ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر اسفندیار خان نے کہا کہ متاثر ہونے والے اکثر افراد کورونا وارڈ کے علاوہ دیگر شعبوں میں کام کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) کو بند کردینا چاہیے اور ٹیلی میڈیسن پر توجہ دینی چاہیے۔پولی کلینک سے ریٹائرڈ طبی ماہر ڈاکٹرشریف استوری نے کہا کہ حکومت کوسرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز کھولنے کا نہیں سوچنا چاہیے۔ او پی ڈیز کو اس وقت بند کردیا گیا تھا جب کیسز سیکڑوں میں تھے تاہم اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔پمز جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر منہاج سیراج نے تحقیق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہسپتال میں 91 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہاکہ متاثر ہونے والے اکثر ملازمین آئسولیشن وارڈ سے باہر کام کررہے تھے اور میں نے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد وبائی تحقیق کی ہدایت کی تاکہ ہم مزید اقدامات کرنے کیلئے بہتر پوزیشن میں ہوں۔ڈاکٹر منہاج سیراج نے کہا کہ ہسپتال میں پی پی ایز کی کمی نہیں ہیں۔پمز کو این ڈی ایم اے کی جانب سے 12 وینٹی لیٹر ملے تھے جو نامکمل تھے تاہم دیگر آلات کی فراہمی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ آئسولیشن وارٹ میں ابتدائی طور پر 8 وینٹی لیٹر تھے لیکن چند دن قبل کارڈیک آئی سی یو سے 3 وینٹی لیٹر بھی آئسولیشن وارڈ منتقل کردیے گئے ہیں۔

پمز کورونا

مزید :

صفحہ آخر -