پاکستان میں بے روزگاری کی ایک بڑی لہر آنے کا خدشہ،زبیر طفیل

پاکستان میں بے روزگاری کی ایک بڑی لہر آنے کا خدشہ،زبیر طفیل

  

کراچی(کامرس رپورٹر)سابق صدر،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سیکرٹری جنرل یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)زبیرطفیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں بے روزگاری کی ایک بڑی لہر آنے کا خدشہ ہے، ملک کی بڑی صنعتیں بھی بندش کا شکار ہیں، پیداواری عمل رْکنے کے سبب بے روزگاری بڑھ رہی ہے جبکہ حکومتی آمدنی میں کمی بھی خاطر خواہ واقع آرہی ہے۔ آٹو موبیل، ٹیکسٹائل جیسی تمام بڑی صنعتیں کام نہیں کر پا رہی ہیں جس کے سبب حکومت کو ٹیکس وصول نہیں ہو رہا ہے،پاکستان کی ٹیکس آمدن مسلسل کم ہورہی ہے اور پاکستان کا ٹیکس آمدنی کا ہدف ساڑھے 55 کھرب روپے تھا لیکن اب خدشہ ہے کہ یہ 40 کھرب کے قریب وصول ہوگا، ان حالات میں حکومت کیلئیایک متوازن بجٹ تیار کرنا ایک مشکل دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے آئندہ مالی سال 2020-21 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے کورونا سے متاثرہ افراد کیلئے 12کھرب کا ریلیف پیکیچ کا اعلان کیا ہے لیکن یہ پیسے کہاں سے آئیں گے، حکومت اس کیلئے مزید قرض لے گی یا نوٹ چھاپے گی جس کا اثر افراط زر پرمنفی پڑے گا، حکومت مثبت پالیسی کے ذریعے عوام کو ریلیف مہیا کرے، عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک بھرپور اندازمیں پہنچایا جائے۔

، بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی حد تک کمی ہوئی ہے اس لئے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے، اس سے مہنگائی میں کافی کمی واقع ہو سکتی ہے اور عوام کی قوت خرید میں اضافہ کیا جا سکتا ہے،بجٹ میں صنعتوں کیلئے مراعات کا اعلان کیا جائے۔زبیرطفیل نے کہا کہ پاکستان کے قرضے گزشتہ دو برسوں میں تیزی سے بڑھے ہیں اور ان کی ادائیگی وقت کے ساتھ ساتھ مشکل تر ہوتی جا رہی تھی تاہم کورونا کے سبب ہمارے بیرونی قرضے ری شیڈول کئے جا رہے ہیں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر اداروں نے پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی میں ایک سال کی مہلت دی ہے۔ اس سے پاکستان پر سے وقتی دباؤ ہٹ جائے گا کیونکہ بجٹ میں ایک بڑا اماؤنٹ قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے اور اس برس اندازہ تھا کہ یہ رقم مجموعی آمدنی کے تقریباً برابر ہوگی۔ امریکا اور دیگر بڑے ممالک غریب ملکوں کا قرضہ معاف کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں اگر ایسا ہوا یا پاکستان کو دو تین سال کی مہلت مل جاتی ہے تو پاکستان کی معیشت کو سانس مل جائے گی۔

مزید :

کامرس -