عدالتیں بھی آج سے کام شروع کریں گی

عدالتیں بھی آج سے کام شروع کریں گی

  

!

عدالت عظمےٰ اور عدالت عالیہ آج(پیر) سے باقاعدہ طور مقدمات کی سماعت شروع کر رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں ماتحت عدالتیں بھی کھل جائیں گی، اس سلسلے میں یہ کنفیوژن پایا جاتا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں ماتحت عدالتوں کی پوزیشن کیا ہو گی، ابھی تک ان صوبوں معہ بلوچستان میں ان عدالتوں کو کھولنے کی اطلاع نہیں ہے،جہاں تک عدالت عظمےٰ اور عدالت عالیہ کا تعلق ہے تو ان کے احاطے، کمرہئ عدالت میں داخلے اور مقدمات کی سماعت کے لیے جو معیار کار مقرر کئے گئے وہ یہ ہیں کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ کچہری اور عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔صرف متعلقہ وکلاء، سائل، گواہ یا مدعا علیہ وغیرہ ہی اندر آ سکیں گے۔ عدالتوں اور کچہریوں کے مرکزی دروازوں پر چیکنگ ہو گی اور کوئی متعلقہ شخص بھی ماسک، دستانوں اور سینی ٹائزنگ کے بغیر عدالتی حدود میں داخل نہیں ہو گا،غیر متعلق وکلاء پر بھی پابندی ہو گی اور کمرہئ عدالت میں سماعت مقدمہ/ درخواست کے وقت بھی صرف اسی مقدمہ یا درخواست کے مدعی اور مدعا علیہ کے ساتھ فریقین کے وکلاء موجود ہوں گے،ان کے سوا کسی اور کو داخلہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عدالتی عملے کے تحفظ کے لیے ہاتھ دھونے کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں اور فاضل سربراہ عدالت سمیت عدالتی عملے کے راکین کے لئے بھی فیس ماسک لازمی ہیں۔ یہ نرمی یا سہولت اس حقیقت کے پیش ِ نظر دی گئی ہے کہ گذشتہ قریباً تین ماہ سے عدلیہ کا کام ٹھپ ہے۔ عدالت عالیہ اور عدالت عظمےٰ میں بھی ارجنٹ اور اہم کیسز ہی کی سماعت ہی ہو پا رہی تھی۔ یوں ہزاروں کی تعداد میں مقدمات التوا کا شکار ہو گئے، جبکہ پہلے ہی زیر التوا کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔فوجداری مقدمات بھی تاخیر کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے کہ ملزموں تک کو پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ موجودہ صورتِ حال میں عدالت عالیہ اور عدالت عظمےٰ نے تو ایس او پیز کو نافذ کر دیا ہے،تاہم جہاں ماتحت عدالتوں کے حوالے سے صوبائی حکومتوں میں کنفیوژن ہے وہاں یہ امر یقینی بنانا بھی لازم ہو گا کہ جو ایس او پیز تیار کئے گئے ہیں ان پر ہر صورت عمل ہو۔ دوسری صورت میں کورونا متاثرین میں اضافہ ہو گا،اس سلسلے میں وکلاء کا تعاون بہت اہم ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر خود کو گھروں تک محدود رکھیں اور صرف وہی وکلاء عدالتوں میں آئیں جن کے مقدمات کی تاریخ اور پیشی ہو، مقدمات نمٹانے کے لیے یہ فیصلے کر لیے گئے ہیں تو اب خیریت کے لیے دُعا اور متعلقین سے احتیاط کی اپیل ہی کی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -