کورونا مزید 88زندگیاں نگل گیا، اسلام آبا د، خیبر پختونخوا میں ماسک نہ پہننے والوں کو قید جرمانہ ہوگا، ماسک نوسروسز کی تجویز بھی سامنے آگئی ہسپتالوں کا ڈیٹا یکجا کرنے کیلئے ریسورس مینجمنٹ سسٹم متعارف

کورونا مزید 88زندگیاں نگل گیا، اسلام آبا د، خیبر پختونخوا میں ماسک نہ پہننے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)پاکستان میں کورونا وائرس کی تباہیوں میں تیزی آگئی،چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس 88 زندگیاں نگل گیاجبکہ چوبیس گھنٹوں میں 3039 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد ملک بھر میں وبا کے مجموعی کیسز کی تعداد 69 ہزار 496 ہوگئی۔ اتوار کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ اپڈیٹ جاریکی گئیں جس کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد 27360 ہوگئی، پنجاب میں 25056، خیبر پختونخواہ میں 9540 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں،بلوچستان میں 2418، اسلام آباد گلگت میں 678 کیسز رپورٹ ہوچکے،اسلام آباد میں 2418 اور آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 251 ہوگئی،چوبیس گھنٹوں میں 14972 کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے، ملک بھر میں ابتک ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں،کورونا وائرس کے 723 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، ہسپتالوں میں 4480 مریض زیر علاج ہیں،گھروں، ہسپتالوں اور قرنطینہ میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 42742 تک پہنچ گئی۔ اتوار کوملک میں کورونا سے مزید 88 افراد جاں بحق ہو گئے جس سے اموات کی مجموعی تعداد 1533ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 70868 تک پہنچ گئی ہے جن میں پنجاب سے 952 کیسز 36 اموات خیبرپختونخوا سے 487 کیسز اور 20 ہلاکتیں جبکہ سندھ میں 885 کیسز اور 16 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد سے 226 کیس اور 4 ہلاکتیں سامنے آئیں جبکہ 17 کیسز آزاد کشمیر سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

لندن، واشنگٹن،نئی دہلہ،ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) کورونا وائرس کے مریضوں اور اس سے اموات میں دنیا بھر میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، دنیا بھر میں 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث مزید 500 افراد دم توڑ گئے جبکہ اس دوران اس کے 9 ہزار 816 نئے مریض سامنے آئے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار 299 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 3 لاکھ 71 ہزار 6 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 30 لاکھ 51 ہزار 7 مریض اب بھی اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 53 ہزار 515 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 27 لاکھ 38 ہزار 286 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 1 لاکھ 5 ہزار 557 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 18 لاکھ 16 ہزار 820 ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 76 ہزار 25 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 17 ہزار 163 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 5 لاکھ 35 ہزار 238 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 99 ہزار 966 تک جا پہنچی ہے جبکہ یہ وائرس 28 ہزار 849 زندگیاں نگل چکا ہے۔کورونا وائرس سے روس میں کل اموات 4 ہزار 555 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 96 ہزار 575 ہو چکی ہے۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 86 ہزار 308 مصدقہ متاثرین سامنے آئے جب کہ اس وباء سے اموات 27 ہزار 125 ہو چکی ہیں۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 38 ہزار 376 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 826 ہو گئی۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 33 ہزار 340 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 32 ہزار 664 رپورٹ ہوئے۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 28 ہزار 771 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 88 ہزار 625 ہو گئے۔جرمنی میں کورونا سے کْل اموات کی تعداد 8 ہزار 600 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 83 ہزار 294 ہو گئے۔بھارت میں کورونا وائرس سے 5 ہزار 185 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 82 ہزار 143 ہو گئی۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار 515 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 63 ہزار 103 ہو گئے۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 7 ہزار 734 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 48 ہزار 950 ہو گئے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 480 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 83 ہزار 384 تک جا پہنچی ہیاسرائیلی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے نئے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا ہے۔ملک بھر میں کرونا کے مزید ایک سو ایک کیس سامنے آئے ہیں۔ کئی ہفتوں کے بعد اسرائیل میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں یہ اضافہ حیران کن ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزارت صحت نے بتایاکہ القدس میں ایک اسکول میں کئی نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد حکومت نے القدس میں اسکول کھولنے کے فیصلے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہیدوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 7ممالک کے گروپ(جی سیون)کے سربراہی اجلاس کو ستمبر تک ملتوی کردیں گے۔جی سیون کو ملکوں کا ایک انتہائی فرسودہ گروپ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ روس، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور بھارت کو سربراہی اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دینا چاہیں گے۔جی سیون سربراہی اجلاس کے التوا کا اعلان ان میڈیا رپورٹس کے ایک دن سے کم وقت کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ جرمن چانسلر اینگلا مرکل نوول کروناوائرس کی وجہ سے سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گی۔ بھارتی وزیرداخلہ امیت شانے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کو ختم کردیا گیا ہے۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن کو ختم کیا جائے، تاہم لاک ڈاؤن ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں تمام ریاستوں اور اداروں کو کھول دیا گیا ہے بلکہ یہ مرحلہ وار ہوگا، جب کہ 30جون تک مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن برقرار رہے گاسعودی عرب میں ڈھائی ماہ کے تعطل کے بعد داخلی فضائی پروازوں کا آغاز کردیا گیا، فی الحال 11 ہوائی اڈوں سے اندرون ملک پروازوں کا آغاز کیا گیا ہے۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ملک میں جاری کرونا کی وبا پرقابو پانے کے لیے نئے اور سخت حفاظتی انتطامات کیلیے نئے کرونا پروٹوکول کا اعلان کیا ہے۔عر ب ٹی وی کے مطابق وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ نئے ضابطہ اخلاق کے تحت پبلک مقامات میں چہرے پر ماسک کو لازمی قرار دیا ہے اور ماسک نہ پہننے پر ایک ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔اسی طرح سعودی وزارت داخلہ نے شہریوں کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ پبلک مقامات پر سماجی دوری کو یقینی بنائیں اور اپنا بخار چیک کرائیں۔اٹلی کا مشہور پیسا ٹاور، کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہونے کے تین ماہ بعد ایک بار پھر سیاحوں کے لیے کھل گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سب سے پہلے آنے والے سیاحوں میں 10 سالہ میٹلڈے اور ان کے والد شامل تھے جنھوں نے 280 سیڑھیاں چھڑ کر ٹاور کا دورہ کیا۔

کورونا ہلاکتیں

اسلام آباد، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وبا پھوٹنے کے بعد بند کیے گئے مزید معاشی شعبے کھولنے کی تجاویز کو حتمی شکل دینے کیلئے صوبوں سے رائے طلب کرلی۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں طویل المعیاد اور مختصر مدت کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔این سی او سی نے تجویز دی کہ تعلیمی ادارے اگست کے اختتام تک بدستور بند رکھنے جائیں جبکہ شادی ہالز کو مہمانوں کی محدود تعداد، ون ڈش اورایس او پیز پر عملدرا?مد کے ساتھ کھولنے کی اجازت دینی چاہیے۔اجلاس میں کوروناکے حوالے سے عوام میں آگاہی دینے کے لیے بہتر پیغامات اور رابطوں کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ایس او پیز کو نافذ کرنے کے لئے مارکیٹ ایسوسی ایشنزکی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسد عمر نے ہدایت کی کہ لاک ڈاون میں نرمی کے منصوبے پر توجہ دیتے ہوئے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے،فورم نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت سزا دیئے جانے کی تجویز پیش کی۔ اسد عمر نے کہاکہ کورونا پر قابو پانے کے لئے بھرپور عوامی مہم چلائی جائے، اس مہم میں لوگوں کے طرز عمل میں تبدیلی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے اور اس بات پر بھی روشنی ڈالی جائے کہ حکومت کا بنیادی مقصد لوگوں کو وبائی امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ متاثرہ افراد کی معلومات کے لئے بستروں اور دیگر متعلقہ سہولیات کی دستیابی کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماکیٹ ایسوسی ایشنز کو اس بات کا پابن کیا جائے گا کہ وہ ایسے خریدار کو خریداری کی اجازت نہ دیں جس نے ماسک نہ پہنا ہوا ہو دوسری طرف سلام آباد میں تمام عوامی جگہوں پر ماسک پہننا اور منہ ڈھانپنا لازمی قرار دے دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت میں مارکیٹس،عوامی مقامات، مساجد،پبلک ٹرانسپورٹ،لاری اڈہ،گلیوں،سڑکوں، دفاتر میں چیکنگ ہوگی۔ مجسٹریٹ تین ہزار روپے تک جرمانے کریں گے اور دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت جیل بھی بھیجا جا سکتاہے۔ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات نے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے شہریوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی ماسک نہیں پہنے گا اس کیخلاف ضابطہ فوج داری کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کارروائی کریں گے اور جرمانہ بھی کیاجائے گا۔انتظامیہ نے ماسک پہننے کے لیے ہدایات بھی جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب ماسک پہنیں تو اسے ہاتھ مت لگائیں اور اگر ماسک کو ہاتھ لگ جائے تو ہاتھ فورا دھوئیں۔ڈی سی حمزہ شفقات کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے جاری شدہ گائیڈ لائنز کے تحت ہی اسلام آباد میں ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جو لوگ کسی بیماری کے باعث ماسک نہیں پہن سکتے وہ کم از کم اپنے منہ کو ضرور ڈھانپیں، منہ کور کیے بغیر دیکھے گئے شہریوں کو جرمانہ کیا جائے گا۔حکومت نے ملک بھر کے تمام ہسپتالوں کے ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کرنے اور افواہوں کے سدباب کے لیے ایک نیا ریسورس مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا جس کی بدولت تمام ہسپتالوں اور وینٹی لیٹرز کی معلومات ایک جگہ میسر آسکیں گی۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹوں میں 15ہزار ٹیسٹ کیے گئے جس میں 3 ہزار 39 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ 42 ہزار 742 کیسز میں سے ہسپتالوں میں 4 ہزار 480 مریض داخل ہیں، جن میں سے 723 کی بیماری کی نوعیت کافی شدید ہے اور ان میں سے 201 وینٹی لیٹرز پر ہیں اور بقیہ مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 88 اموات رپورٹ ہوئیں جو پاکستان میں ایک دن میں ہونے والی اموات کی اب تک سب سے بڑی تعداد ہے۔ان کہنا تھا کہ یہاں مختلف خبریں زیر گردش کرتی ہیں کہ پاکستان کا نظام صحت انتہائی پہنچ چکا ہے، آئی سی یو بیڈز ختم ہو چکے ہیں، پاکستان میں وینٹی لیٹرز ختم ہو گئے ہیں لیکن ایسی قطعاً کوئی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کووڈ-19 کے لیے مختص کیے گئے وینٹی لیٹرز میں سے صرف 28فیصد اس وقت زیر استعمال ہیں اور اس کے علاوہ وینٹی لیٹرز فارغ پڑے ہیں لیکن بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں اکثر دباؤ پڑ جاتا ہے جس سے یہ تشویش شروع ہو جاتی ہے پاکستان میں کوئی بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے ریسورس مینجمنٹ سسٹم وضع کیا ہے جس کا مقصد جو بلاوجہ تشویش شروع ہوجاتی ہے اس کا حل نکالا جائے اور یہ سسٹم پاکستان کے تمام ہسپتالوں کے بارے میں بنیادی معلومات جیسے کہ کتنے بستر ہیں، کتنے وینٹی لیٹرز ہیں ان سب کے بارے میں ریئل ٹائم میں معلومات مل سکے گی۔اس موقع پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شباہت علی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس ریسورس مینجمنٹ سسٹم کا مقصد ایک ایسا نظام تیار کرنا تھا کہ جس کی بدولت تمام صوبوں اور ان کے ہسپتالوں میں بستروں، وینٹی لیٹرز سمیت تمام معلومات ایک جگہ میسر آ سکیں اور اس کا صوبوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صوبے ایک ہی جگہ اپنے تمام تر وسائل کو دیکھ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے آغاز کیا تھا تو ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے ہسپتالوں کا بہت سارا ڈیٹا مل گیا تھا جو نامکمل تھا تو ہم نے سب سے پہلے جو ہر صوبے میں جتنے بھی ہسپتال ہیں ان کی فہرست بنائی اور ان کے مالکان کو ایک لاگ ان آئی ڈی دے کر سینٹرالائزڈ ڈیٹا بیس سسٹم تک ان کو رسائی دی جس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں کے ڈیٹا کا خود اندراج شروع کیا لیکن یہ قلیل مدتی حل تھا۔شباہت علی کا کہنا تھا کہ طویل المدتی حل یہ تھا کہ صوبوں میں تمام انفرادی سسٹم ان کے ساتھ سینٹرالائزڈ ڈیٹا بیس کو لنک کریں اور جیسے جیسے صوبوں کے ہسپتالوں کے سسٹم اپ ڈیٹ ہوتے ہیں، ویسے ہی ہمارا سینٹرالائزڈ سسٹم اس کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو۔انہوں نے کہا کہ جب ہمیں تمام جگہ سے ڈیٹا موصول ہوا تو ہم نے اسے میپ پر بنایا جس کی بدولت آپ یہ پتہ لگا سکیں گے کہ ایک رداس میں کتنے ہسپتال ہیں اور ان میں کتنے بستر، کتنے وینٹی لیٹرز سمیت کتنی سہولیات میسر ہیں اور ہم نے 4 سے 6 ماہ میں مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ڈیٹا کا استعمال یقینی بنانے کے لیے نیشنل ایمرجنسی رسپانس کے نام سے ایک موبائل ایپ بنائی ہے اور اسے نجی اور سرکاری اداروں میں وہ تمام افراد استعمال کر سکیں گے جو ایمرجنسی رسپانس کی فراہمی جیسے ایدھی وغیرہ سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کی بدولت کوئی بھی کورونا کا مریض ملتا ہے تو وہ اس کی بدولت پتہ چلا سکتے ہیں کہ قریب ترین بستر اور وینٹی لیٹر کہاں دستیاب ہے۔خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازم قرار دے دیا، خلاف ورزی پر سخت سزا ملے گی۔ تفصیلا ت کے مطابق خیبر پختونخوا میں ماسک کے بغیر باہر نکلنے والے سلاخوں کے پیچھے جانے کو تیار ہو جائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں این ڈی ایم اے کے پی ایکٹ 2010ء کے تحت نقد جرمانہ اور سزا ہو سکتی ہے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں۔

اجلاس/ فیصلے

مزید :

صفحہ اول -