آمدن چھپانے اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ بڑھانے کی تجویز 

آمدن چھپانے اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ بڑھانے کی تجویز 

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے آئندہ مالی سال 2020-21کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی شرح میں مزیداضافہ کرنے کی تجویزکاجائزہ لیناشروع کردیاہے۔ایف بی آرفیلڈ فارمشنز کی جانب سے دی گئی تجویز کے مطابق ایف بی آرٹیموں کوروکنے، ریکارڈ تک رسائی نہ دینے والے ٹیکس دہندگان،ویلتھ اسٹیٹ منٹس و ری کنسی لئیشن اسٹیٹ منٹس جمع نہ کروانے سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانے لاگو ہونگے۔مختلف ٹیکس قوانین پر عملدرآمدنہ کرنے پرجرمانہ5ہزار سے بڑھا کر50ہزار کرنازیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل رواں مالی سال کے بجٹ میں فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 182 میں متعدد ترامیم کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس اکٹھا نہ کرنے والے ود ہولڈنگ ایجنٹس کیلئے جرمانہ کی شرح 25ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار روپے کی گئی ہے اب اس شرح میں مزید اضافہ کرکے 70ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ویلتھ اسٹیٹ منٹس اور ری کنسلیئیشن اسٹیٹمنٹس جمع نہ کروانے والے ٹیکس دہندگان پر جرمانوں کی شرح ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کرنے کی تجویز ہے۔رجسٹریشن نہ کروانے پر جرمانے دس ہزار سے پندرہ ہزار کرنے کی تجویز ہے۔اصل آمدن چھپانے پرجرمانہ ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کرنے کی تجویزہے۔

جرمانے

مزید :

صفحہ اول -