بہتر تعلیم، روزگار اور سکیورٹی ملے تو کوئی شخص پاکستان سے ہجرت نہ کرے، سروے میں شہریوں کا موقف

بہتر تعلیم، روزگار اور سکیورٹی ملے تو کوئی شخص پاکستان سے ہجرت نہ کرے، سروے ...

  

اسلام آباد(این این آئی)ایک سروے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ دیگر ممالک میں ہجرت کرنے والے اکثر پاکستانیوں نے بتایا ہے کہ اگر ملک میں ملازمت کے بہتر مواقع ہوں تو وہ وہیں رہیں گے تاہم لوگوں کی ایک کم شرح نے کہا کہ اگرمعیاری تعلیم ہو تو وہ اپنے ملک میں رہنے کو ترجیح دیں۔یہ باتیں پاکستانیوں کو ہجرت کرنے پر کیا چیز مجبور کرتی ہے سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر برائے مائیگریشن کی جانب سے کیے گئے سروے میں سامنے آئیں۔یہ اعداد و شمار رواں برس جنوری میں جمع کیے گئے جو 19 اضلاع کے 761 افراد کے انٹرویوز پر مبنی تھے۔سروے کے شرکا ء سے پوچھا گیا تھا کہ ملک میں رہنے کے لیے پاکستان میں کیا تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے جس پر 65 فیصد نے کہا کہ ملازمت کے بہتر مواقع اور 20 فیصد نے کہا کہ بہتر تعلیم کی ضرورت ہے تاہم 19 فیصد نے کہا کہ اگر ملک میں مثبت تبدیلیاں بھی آجائیں وہ تب بھی پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔58 فیصد لوگوں نے کہا کہ ملازمت کے مواقع کی بنیاد پر وہ ملک میں رہنے پر غور کریں گے، 42 فیصد کے مطابق تعلیم کے مواقع اور 46 فیصد نے کہا کہ اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو تو وہ ایسا سوچیں گے۔سروے کے مطابق روزگار کے مواقع کی کمی، مالی مسائل اور ناقص معیار تعلیم ملک سے ہجرت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ان میں سے 39 فیصد افراد نے ملازمت کی کمی کی وجہ سے، 12 فیصد نے مالی مسائل اور قرضوں، 8 فیصد نے بیرون ملک دوستوں اور اہلِ خانہ کے پاس جانے اور 14 فیصد نے تعلیمی مواقع کی وجہ سے مائیگریشن کا فیصلہ کیا۔مائیگریشن کے حتمی فیصلے کو متحرک کرنے والے خاص لمحات سے متعلق 22 فیصد نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ نے یہ فیصلہ کیا، 18 فیصد کے خاندان کے افراد یا وہ دوست جو پہلے سے بیرون ملک موجود تھے انہوں نے حوصلہ افزائی کی اور 16 فیصد کے خاندان کے بیرون ملک مقیم افراد نے بتایا تھا کہ وہاں کا معیار زندگی پاکستان سے اچھا ہے۔ دیگر 21فیصد نے بیروزگار ہونے کے بعد ہجرت کا فیصلہ کیا۔سروے کے اکثر فریقین نے ایشیا پیسیفک کے ممالک میں مائیگریشن کا فیصلہ کیا، ملازمتوں کی وجہ سے 23 فیصد نے یورپی، 20 فیصد نے ترکی اور 62 فیصد خلیجی ممالک جانے کا انتخاب کیا۔ رشتہ داروں اور دوستوں کی موجودگی کے باعث 20 فیصد نے یورپی، 21فیصد نے ترکی اور 18 فیصد نے خلیجی ممالک کا رخ کیا۔

سروے

مزید :

صفحہ آخر -