ایٹمی ھماکوں کا حمایتی اور مخالف کون تھا اور جب بھارت نے دھماکے کیے تو نوازشریف کس ملک کے دورے پر تھے ؟ سینئر صحافی نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

ایٹمی ھماکوں کا حمایتی اور مخالف کون تھا اور جب بھارت نے دھماکے کیے تو ...
ایٹمی ھماکوں کا حمایتی اور مخالف کون تھا اور جب بھارت نے دھماکے کیے تو نوازشریف کس ملک کے دورے پر تھے ؟ سینئر صحافی نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )اس وقت سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر ایٹمی دھماکوں پر ایک بحث جاری ہے جس پر حال ہی میں شیخ رشید نے بھی ایک بیان دیا اور وہ وائرل ہوا تھا تاہم اب حامد میر نے 28 مئی 1998ایٹمی دھماکوں کے حامی اور مخالفت کرنے والوں سے متعلق کالم لکھا ہے جو کہ ” جنگ نیوز “ شائع ہواہے ۔

سینئر صحافی حامد میر کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ بھارت نے جب 11مئی 1998ءکو ایٹمی دھماکا کیاتو وزیراعظم نواز شریف قازقستان کے شہر الماتے میں تھے۔ انہوں نے وہاں سے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو فون کیا اور کہا کہ آپ ایٹمی دھماکوں کی تیاری کریں۔ جنرل جہانگیر کرامت نے یس سر یا اوکے نہیں کہا بلکہ یہ گزارش کی کہ آپ واپس پاکستان آجائیں، کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور پھر کوئی فیصلہ کریں۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات مشاہد حسین الماتے میں نواز شریف کیساتھ تھے۔ نواز شریف نے مشاہد حسین سے پوچھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

مشاہد حسین نے نواز شریف سے کہا کہ تاریخ نے آپ کو موقع دیدیا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیں (اب یا کبھی نہیں ) والی صورتحال ہے لہٰذا آپ بھارت کے کڑاکے نکال دیں۔ نواز شریف قازقستان سے واپس اسلام آباد پہنچے تو ایئرپورٹ سے وزیراعظم ہاﺅس جاتے ہوئے پی ٹی وی کے چیئرمین سنیٹر پرویز رشید انکے ہمراہ تھے۔

پرویز رشید نے ان سے پوچھا کہ ایٹمی دھماکوں پر ہمیں کیا پالیسی رکھنی چاہئے؟ نواز شریف نے انہیں کہا کہ قوم کو قربانی کیلئے تیار کریں کیونکہ اگر ہم نے دھماکے کر دیئے تو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگ سکتی ہیں جس سے یہ تاثر ملا کہ نواز شریف ذہنی طور پر دھماکوں کا فیصلہ کر چکے تھے۔ پھر وزیراعظم ہاﺅس میں سینئر صحافیوں کیساتھ نواز شریف کی ایک ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات میں مجید نظامی صاحب نے کہا تھا کہ نواز شریف صاحب اگر آپ نے ایٹمی دھماکا نہ کیا تو یہ قوم آپ کا دھماکا کر دے گی۔ میں نے مجید نظامی صاحب کی تائید کی تھی تاہم ایک خاتون ایڈیٹر کے علاوہ نواز شریف کے قریب شمار ہونیوالے ایک اور سینئر صحافی نے ایٹمی دھماکوں کیخلاف رائے دی۔ دوسری طرف پی ٹی وی پر بھی بحث شروع ہو چکی تھی اور اس بحث میں مجھے اپنی رائے کھل کر ظاہر کرنے کا موقع ملا۔

ہمیں پتا چل گیا کہ ایٹمی دھماکے بلوچستان کے کسی پہاڑ میں کھودی جانے والی سرنگ میں ہونگے۔ 20مئی 1998ءکو میں نے اپنے کالم میں لکھا ”بلوچستان میں صرف دھماکے نہ کیجئے“ بلکہ یہاں تعمیر و ترقی پر توجہ دیجئے اور یہاں کے وسائل مقامی لوگوں کو بھی مہیا کئے جائیں۔ 28مئی 1998ءکے تاریخی دن میرے کالم کا عنوان تھا ”گھاس خوری اور ڈالر خوری“ یہ کالم اخبار فروش یونین کی تقریب حلف وفاداری میں ہونیوالی تقاریر پر تھا۔

اے پی این ایس کے صدر مجید نظامی نے یہاں تقریر کرتے ہوئے اس وقت کے وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خاں پر بہت تنقید کی تھی کیونکہ انکے بقول چوہدری صاحب ایٹمی دھماکوں کیخلاف تھے۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر تجارت اسحاق ڈار اور وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق بھی موجود تھے اور جب میں نے ایٹمی دھماکوں کی حمایت کی تو ان دونوں نے بھی تالیاں بجا کر میری تائید کی۔

اس تقریب میں سابق وزیراعظم ملک معراج خالد نے کہا کہ ہمیں ایٹمی دھماکوں کے بعد گھاس خوری سے ڈرایا جا رہا ہے لیکن ڈرانے والے خود ڈالر خور ہیں۔ آخرکار اسی شام دھماکا ہوگیا اس دھماکے کا کریڈٹ پاکستان میں جمہوریت کو جاتا ہے۔ عوام کی منتخب جمہوری حکومت نے عوامی دباﺅ پر دھماکوں کا فیصلہ کیا۔ آرمی چیف جہانگیر کرامت کی کوئی رائے سامنے نہ آئی، نیول چیف ایڈمرل فصیح بخاری دھماکوں کیخلاف تھے۔

حامد میر نے اپنے کالم میں کے اختتام میں لکھا کہ ایئرچیف پرویز مہدی قریشی دھماکوں کے حامی تھے اور جس دن دھماکے ہونا تھے شیخ رشید احمد پاکستان سے باہر بھاگ گئے تھے۔ کیوں بھاگ گئے وہ خود بتائیں گے لیکن دھماکوں کا فیصلہ کسی ایک فرد کا نہیں پوری قوم کا تھا اور قوم کی ترجمانی میں اہم ترین کردار مجید نظامی صاحب کا تھا جنہوں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ آپ نے دھماکا نہ کیا تو قوم ا?پ کا دھماکا کر دے گی۔

مزید :

قومی -