پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر دکھانے کے معاملہ، پی سی بی کے سخت کارروائی سے متعلق تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، معاملہ کس طرح نمٹایا گیا؟

پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر دکھانے کے معاملہ، پی سی بی کے سخت ...
پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر دکھانے کے معاملہ، پی سی بی کے سخت کارروائی سے متعلق تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، معاملہ کس طرح نمٹایا گیا؟

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 5 کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر دکھانے کے معاملے پر بھی ڈالرز کی ’چمک‘ اصولوں پر بھاری پڑ گئی ہے اور اس کیس کو صرف معافی پر ختم کر دیا گیا ہے جس کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سخت کارروائی کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مارچ کو نجی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ایک غیرملکی ویب سائٹ پر لائیو دکھائے گئے جس پر شرطیں لگیں جس پر پی سی بی نے ابتداءمیں موقف اختیار کیا کہ کمرشل پارٹنر نے یہ معاہدہ کیا اور ایسا صرف ان ممالک میں ہوا جہاں جواءقانونی ہے، بعد میں تردید کی کوشش کرتے ہوئے یہ اعتراف بھی کر لیا کہ میڈیا رائٹس پارٹنر نے بغیر اجازت جوئے کی کمپنی کوبیچے۔

اپریل کے وسط میں چیئرمین احسان مانی نے بھی پی سی بی پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ ”بیٹنگ کمپنی کو سٹریمنگ رائٹس ہماری اجازت کے بغیر فروخت کئے گئے اور جیسے ہی ہمیں پتہ چلا اسے رکوا دیا، میڈیا پارٹنر سے بات چیت جاری اور وہ معافی مانگنے کو تیار ہے،ہمیں پاکستانی ساکھ کی فکر ہے، صرف کرکٹ نہیں یہ ملک کی بات ہے یہاں بیٹنگ غیرقانونی اور اس پر پابندی ہے“۔

مئی کے اوائل میں پی ایس ایل کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شعیب نوید نے نجی خبر رساں ادرے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بغیر اجازت معاہدے پر میڈیا پارٹنر کیخلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے متعلق آئندہ ماہ اعلان کر دیا جائے گا البتہ گزشتہ روز جاری کردہ پریس ریلیز سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ میڈیا پارٹنر کی جانب سے معذرت پر ہی اس معاملے کو نمٹا دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ میڈیا اور سابق کرکٹرز کے دباﺅ میں آ کر کر پی سی بی نے سخت کارروائی کا اعلان تو کر دیا مگر بعد میں متوقع نقصان کا سوچ کر جوش ٹھنڈا پڑ گیا، 10 لاکھ ڈالر کا تین سالہ معاہدہ آئندہ سال تک کارآمد رہے گا،بورڈ کی اندرونی میٹنگز میں یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ حالات میں کوئی اور اتنی بڑی رقم نہیں دے گا،اسے آئندہ 3 سال کیلئے پاکستانی نشریاتی حقوق بھی فروخت کرنے ہیں، مارکیٹ میں اس وقت کوئی کمپنی بڑی رقم دینے پر تیار نہیں ہے۔

پی ایس ایل کے میڈیا پارٹنر سے بورڈ کو توقع ہے کہ وہ یا اس کی دوسری کمپنی پاکستان کرکٹ کے حقوق خریدنے میں بھی دلچسپی دکھائے گی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں پی سی بی مشکل میں پڑ جاتا کیونکہ لائیو سٹریمنگ میں جوئے کی تشہیر کی مشروط اجازت معاہدے کا حصہ ہے، یہ نکتہ اٹھا کر میڈیا پارٹنر مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔

واضح رہے کہ کنٹریکٹ کے تحت پی سی بی کو تین لاکھ 33 ہزار 333 ڈالر 30 جون 2019ءتک ملنا تھے،83 ہزار 333 ڈالر پی ایس ایل 2020ءشروع ہونے سے 4 ہفتے پہلے اور اتنی ہی رقم آخری میچ سے قبل آنا تھی، ایک لاکھ 66 ہزار 667 ڈالر ٹورنامنٹ ختم ہونے کے 2 ماہ بعد تک وصول کرنے ہیں، 83 ہزار333 کی 2 ادائیگیاں جبکہ ایک لاکھ 66 ہزار 667 ڈالر کی آخری قسط اگلے سال ٹورنامنٹ سے پہلے اور بعد میں واجب الادا ہوں گی۔

مزید :

کھیل -PSL -PSL News Update -