آزادکشمیر میں انتخابات کے التوا کی تجویز

آزادکشمیر میں انتخابات کے التوا کی تجویز

  

این سی او سی نے مشورہ دیا ہے کہ آزادکشمیر کے انتخابات دو ماہ کے لئے ملتوی کر دیئے جائیں۔ یہ تجویز آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط کے ذریعے پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آزادکشمیر میں بڑے بڑے سیاسی اجتماعات کورونا وبا پھیلانے کا باعث بنیں گے کیونکہ وہاں پہلے ہی وائرس کے پھیلاؤ کی شرح بہت زیادہ ہے اگر انتخابات جولائی میں ہوئے تو اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عرصے میں آؔزاد کشمیر میں لوگوں کو کورونا کی ویکسین لگائی جائے گی اور ستمبر تک دس لاکھ آبادی کو ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔ چیف الیکشن کمیسن نے تو ابھی تک اس خط کا جواب نہیں دیا،تاہم وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے خط لکھنے پر ہی سوال اٹھا دیا ہے اور کہا ہے کہ این سی او سی کس حیثیت میں الیکشن ملتوی کرنے کے لئے خط لکھ رہی ہے؟ الیکشن کا التوا صرف ناگزیر صورت میں آزادکشمیر اسمبلی ہی کر سکتی ہے، یہ آزادکشمیر میں گلگت والی صورت حال دھرانا چاہتے ہیں دو ماہ کا وقت لے کر توڑ پھوڑ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان جو مرضی کر لیں آزادکشمیر پاکستان کا صوبہ نہیں بن سکتا۔

پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس فروری 2020ء کے آخری عشرے میں منظر عام پر آیا تھا اس لحاظ سے اس وبا سے لڑتے ہوئے پاکستان کو پندرہ ماہ ہو چکے ہیں۔ اس وقت کورونا کی تیسری لہر جاری ہے جو مارچ کی بلند ترین شرح کے بعد اب زوال پذیر ہے اور مثبت کیسوں کی تعداد میں بھی کمی ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ملک بھر میں اس وقت نئے کیسوں کی تعداد 2500کے لگ بھگ ہے جس میں آزادکشمیر بھی شامل ہے۔ دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے۔ سندھ میں بھی تشویشناک شرح سے جو تعداد بڑھ رہی تھی وہ بھی اب قابو میں ہے، تاہم سخت حفاظتی اقدامات بھی جاری ہیں اور ان کے مثبت نتائج نکلنے کی امید ہے۔ کورونا کی وبا کے عروج کے زمانے میں گزشتہ برس گلگت بلتستان میں انتخابات ہوئے جن میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، تینوں جماعتوں نے بلا روک ٹوک جلسے کئے جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے رہے انہی جلسوں کی حاضری کی بنیاد پر تمام جماعتوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے بھی کئے تاہم تحریک انصاف فاتح ٹھہری اور دوسری دو جماعتیں چند نشستیں ہی حاصل کر سکیں، زیادہ نشستیں آزاد امیدوار جیت گئے۔

 ان انتخابات میں حکمران جماعت کے جلسوں سمیت کسی جماعت نے ایس او پیز کا کوئی پاس لحاظ نہیں رکھا، موسم چونکہ ٹھنڈا تھا اس لئے جلسوں کے شرکا نے جو چادریں لپیٹی ہوتی تھیں انہی سے ماسک کا کام بھی لے لیتے تھے اس سے زیادہ کوئی احتیاط نہیں کی گئی، یہ تو انتخابی مہم کا حال تھا پولنگ والے دن لوگ جوق در جوق ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے، قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہے اور پھر ووٹ ڈالے یہاں بھی کسی نے ایس او پیز کا خیال نہیں کیا۔ یاد نہیں پڑتا کہ کسی وزیر مشیر نے جو انتخابی مہم چلا رہے تھے یا بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے پوری انتخابی مہم کے دوران کسی کو اس جانب متوجہ کیا ہو، یا سرے سے اس کی ضرورت ہی محسوس کی ہو۔ انتخاب کے بعد تحریک انصاف کی حکومت بنی۔ تشکیل حکومت  کے بعد دوبار جناب وزیراعظم وہاں تشریف لے جا چکے ہیں،ان عام اجتماعات میں بھی ایس او پیز کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران پورے ملک کے کئی حلقوں میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں، ڈسکہ میں تو ایک نہیں دوبار ضمنی انتخاب ہوا دونوں بار بھرپور انتخابی مہم چلی، جلسے ہوئے اور لیڈروں نے خطاب کیا، کراچی کا ضمنی انتخاب تو ابھی چار ہفتے پہلے کی بات ہے،جب کورونا عروج پر تھا اس لئے ووٹوں کی شرح کم رہی تاہم انتخاب ملتوی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔حالانکہ اس حلقے کے ضمنی انتخاب کے التوا کے لئے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا گیا تھا۔ یہ تمام ضمنی انتخابات اور کورونا کی وبا ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ اس دوران رمضان کا مقدس مہینہ بھی آیا جس میں حکومت نے سینکڑوں شہروں میں رمضان بازار لگائے، اعلان تو یہی کیا گیا کہ لوگ ماسک پہن کر آئیں لیکن یہ اختیار صوابدیدی تھا یعنی جو ماسک پہنے اس کا بھی بھلا اور جو نہ پہنے اس کا بھی بھلا۔ چینی کی قطاروں میں تو لوگ کئی کئی گھنٹے ایک دوسرے سے جُڑ کر کھڑے رہے تآنکہ ہائی کورٹ کو اس صورت حال کا نوٹس لینا پڑا۔ کورونا کی وبا کے دوران ہی سینیٹ کے الیکشن بھی ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آزادکشمیر میں کیا خاص ہے کہ وہاں الیکشن ملتوی کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور این سی او سی نے اس ضمن میں چیف الیکشن آزادکشمیر کو خط بھی لکھ دیا ہے۔التوا کے خواہش مندوں کو اپنے موقف کے حق میں زیادہ بہتر دلائل لانے کی ضرورت ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ اگر اتنے سارے انتخابات کورونا کے ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں تو آزاد کشمیر میں کیوں نہیں ہو سکتے، پھر اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ دو ماہ کے بعد حالات لازماً الیکشن کے لئے سازگار ہو جائیں گے۔ ویکسین لگانے کا عمل اگرچہ شروع ہے لیکن آزادکشمیر میں کتنے لوگ اب تک اس عمل سے گزر چکے اور ستمبر تک دس لاکھ لوگوں کو ویکسین لگانے کا دعویٰ خاص طور پر اب کیا جا رہا ہے اس تجویز سے پہلے تک تو آزادکشمیر میں ویکسی نیشن کی رفتار خاصی سست تھی۔ آزادکشمیر کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ الیکشن کے التوا کا اختیار صرف آزاد کشمیر اسمبلی کو حاصل ہے یعنی چیف الیکشن کمشنر بھی الیکشن ملتوی نہیں کر سکتے اور وہ وقت مقررہ پر الیکشن کرانے کے پابند ہیں، اگر ایسا ہے تو کیا آزادکشمیر اسمبلی کو الیکشن کے التوا کے سلسلے میں متحرک کیا جائے گا؟ یہ کام تو وہاں کی حکمران جماعت ہی کر سکتی ہے جسے شبہ ہے کہ التوا کے ذریعے تحریک انصاف وقت حاصل کرکے ”توڑ پھوڑ“ کرنا چاہتی ہے۔ آزادکشمیر میں پاکستان کی طرح الیکشن سے پہلے ”الیکٹ ایبلز“ کو توڑنے کی روایت موجود ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس غلط روایت کو خیرباد کہہ دیا جائے اور بروقت انتخابات ہونے دیئے جائیں، جو جماعت جیتے وہ اقتدار حاصل کرلے، بے جا مداخلت سے سیاسی تلخیاں پیدا ہوں گی اور اس کے مسئلہ کشمیر پر مثبت اثرات مرتب نہ ہوں گے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -