گرمی بڑھ گئی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بل بھی بڑھ گئے!

گرمی بڑھ گئی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بل بھی بڑھ گئے!

  

ملک بھر میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی قلت بھی سامنے آ گئی۔ بڑے شہروں میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری تھی کہ اب غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس انقطاع کا نشانہ شہروں کے نواحی علاقے، چھوٹے شہر اور دیہات بن رہے ہیں۔ کراچی، سکھر، حیدرآباد، ملتان، ساہیوال، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور تک معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی تھی۔ درجہ حرارت 43سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھونے لگا تو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی شروع کر دی گئی۔ کراچی کے شہری کاروباری اور تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سامنا کر رہے ہیں تو لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی یہی حالات ہیں، لیسکو کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ چار ہزار میگاواٹ کی ضرورت کے مقابلے میں ساڑھے تین ہزار میگاواٹ بجلی مل رہی ہے، یہ کمی پوری کرنے کے لئے لوڈمینجمنٹ ہو رہی ہے، جسے یہ نام دیا گیا اس کی وجہ سے 6گھنٹے تک بجلی بند رہتی ہے۔ اسی صورت حال میں ہائی کلاسز کے تعلیمی ادارے بھی کھول دیئے گئے اور گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی ڈیڑھ سے دو ماہ کی کمی کرکے صرف 30روز تک محدود کرنے کی تجویز ہے، شدید گرمی میں عوام کا بُرا حال ہے تو طلبا و طالبات کیسے برداشت کر سکیں گی، اسی دوران یہ اطلاع بھی ملی کہ حکومت نے چار پاور سٹیشن بھی بند کر دیئے ہیں۔ حکومتی ذرائع تو بجلی کی پیداوار فاضل ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کا اعلان کیا، لیکن تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے جاری بلوں سے سبسڈی کم تر کرکے سلیبس میں رد و بدل کر دیا گیا، اب گیس کی طرح بجلی کے بل بھی اسی تناسب سے بڑھ گئے ہیں، قیمت میں اضافے کا یہ طریقہ گیس کمپنیوں سے مستعار لے کر شروع کیا گیا، عوام دونوں یوٹیلٹی سروسز کے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے مزید پریشان ہو گئے ہیں، وزیر خزانہ اگر نرخوں میں اضافہ نہیں کر رہے تو وہ نئے طریق سے زیادہ رقم وصول کرنے کا جائزہ لیں اور بجلی کی ذمہ دار کمپنیوں سے یہ جواب بھی لیا جائے کہ بجلی فاضل ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں؟

مزید :

رائے -اداریہ -