سخن گسترانہ بات!!

 سخن گسترانہ بات!!
 سخن گسترانہ بات!!

  

 جس کسی نے بھی ڈاکٹر شہباز گل کو مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں مخالفین کے چھکے چھڑاتے، بدتمیزی کی حد تک پہنچے ہوئے جارحانہ لتے لیتے دیکھا  اور سنا ہو وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ امریکہ سے تعلیم یافتہ یہ نوجوان مشیر اتنا پرمزاح، ملنسار اور کیئرنگ بھی ہو سکتا ہے جتنا وہ گزشتہ دنوں لیہ میں نظر آیا۔ ہوا یوں کہ بدھ کو ایک انجان نمبر سے فون آیا۔ ”روز نامہ پاکستان میں آپ کے کالم پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کل لیہ میں ہمارے مہمان ہوں۔ اگر آپ رضا مند ہیں تو پی آئی ڈی والے آپ سے رابطہ کر کے انتظامات کر دیں گے۔“ استفسار پر بات کرنے والے نے اپنا نام ڈاکٹر شہباز گل بتایا۔ سچی بات ہے کہ مجھے ان کے اتنے مہذب انداز پر حیرت ہوئی اور فوراً ہاں کر دی۔ پھر پی آئی ڈی سے فون آنا شروع ہو گئے۔ پتہ چلا کہ وزیر اعظم عمران خان پنجاب کے پسماندہ ضلع لیہ کے دورے پر آ رہے ہیں۔ اس موقع پر جنوبی پنجاب کے کالم نگاروں سے ان کی ملاقات طے کی گئی ہے۔ ان میں ملتان سے راقم کے علاوہ نسیم شاہد، میاں غفار احمد، رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، ظہور احمد دھریجہ، شکیل انجم، بہاولپور سے سمیرا ملک اور ڈیرہ غازیخان سے مظہر لاشاری شامل تھے۔ نسیم شاہد کا پیٹ خراب ہو گیا اور شاکر کسی ذاتی وجہ سے نہ جا سکے۔ پی آئی ڈی کی ڈپٹی ڈائریکٹر محترمہ صدف کی قیادت میں کالم نگاروں کا مختصر قافلہ لیہ روانہ ہوا۔

چوک اعظم سے لیہ جانے والی سڑک کی توسیع ہو رہی ہے اس لئے زیر تعمیر سڑک کے پتھروں پر سے ہوتی ہوئی گاڑی لیہ پہنچی تو مسافروں کا انجر پنجر ہلنے کا آغاز ہو چکا تھا چوکوں پر لگے بیریئر بتا رہے تھے کہ ”غریب کے گھر امیر سواری اترنے والی ہے“ پہلے ہی بیریئر پر تعینات پولیس نے کسی بھی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ قافلے کی رہبر صدف نے ابھی پریشان ہونا شروع ہی کیا تھا کہ ایک جھنڈا لگی سیاہ کار پہنچی اس میں سے ایک طویل القامت سفید پوش نوجوان برآمد ہوا وہ ڈاکٹر شہباز گل تھا۔ پولیس مودب ہو گئی۔ بیرئر ہٹ گئے۔ شہباز ہمیں ساتھ لے کر مائل بہ پرواز ہوا۔ سپورٹس کمپلیکس تک راستے کھلتے چلے گئے جہاں وزیر اعظم کی تقریبات کا اہتمام تھا ان کے استقبال کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب وسیم اکرم پلس سردار عثمان بزدار اور ان کے وزیر مشیر اور ارکان پارلیمینٹ موجود تھے۔ شہباز نے فوری طور پر ہمیں گائیڈ کرتے ہوئے کمپلیکس کے ایک کمرے میں پہنچایا اور خود بھی وہیں براجمان ہو گئے دوسرے لفظوں میں مہمانوں کو کمپنی دی۔ باتوں باتوں میں وہ عمران خان کی درویشی اور حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے رہے۔ اسی دوران ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی کمرے میں پہنچ گئیں۔  ڈاکٹر شہباز گل کمرے سے نکل گئے تاہم تھوڑی دیر میں واپس آ کر مژدہ سنایا کہ مقامی ارکان پارلیمینٹ کی وزیر اعظم سے ملاقات جاری ہے اس کے بعد ہماری باری ہے۔ جلد ہی ہماری باری بھی آ گئی۔

ملاقاتی کمرے میں گئے تو وزیر اعظم نے کورونا ضوابط کے مطابق ”لا مصافحہ لا معانقہ“ کا مظاہرہ کیا اور کھڑے ہو کر دور ہی دور سے سینے پر ہاتھ رکھ کر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر استقبال کیا۔ ان کے دائیں ہاتھ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور بائیں جانب معاون خصوصی ملک عامر ڈوگر کھڑے تھے۔ بیٹھنے کے بعد جو مختصر باتیں ہوئیں اور وزیراعظم نے جو کچھ ارشاد کیا وہ سبھی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نمایاں ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کی گفتگو کا حاصل یہ جملہ تھا کہ ”ملکی معیشت کو شوگر مافیا نے ہائی جیک کر لیا“ اب اگر ان کے بقول اور سرکاری اشاریوں کے مطابق ملکی معیشت بحال ہو رہی ہے تو مافیا کے برے دن آنا فطری بات ہے وفاق اور صوبائی معاونین خصوصی نے جو دوستانہ ماحول بنایا تھا اس کا اثر اس ملاقات میں بھی نمایاں تھا۔ جنوبی پنجاب کے کالم نگاروں کی اس سات رکنی ٹیم نے وزیر اعظم پر ایک سوال بھی نہیں داغا۔ رواداری کی اپنی روایات کے عین مطابق گلِا بھی کیا گیا تو تعریف میں لپیٹ کر تجویز بھی پیش کی گئی تو، توصیف کی آڑ لے کر، کسی عالمی یا قومی معاملے پر کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ حالانکہ افغانستان سے امریکہ کی بحفاظت واپسی میں پاکستانی کردار، اڈے دینے نہ دینے کی خبریں اور تردیدیں، لادی گینگ کی انسانیت سوز وارداتیں، فلسطین میں اسرائیل کی دہشت گردی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کارروائیاں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی، سبھی سلگتے معاملات تھے مگر وہاں تک ہم مقامی کالم نگاروں کی توجہ ہی نہیں گئی۔

ملاقات کے بعد تقریب گاہ (یا جلسہ گاہ) پہنچے۔ ایئر کنڈیشنڈ مارکی میں انتظام کیا گیا تھا۔ سسٹم وہی نوازشریف، شہباز شریف والا تھا مگر کفایت کے ساتھ۔ تقریب میں ”دلہا کے منتظر باراتیوں“ کی طرح دو تین سو کے درمیان لوگ صوفوں پر براجمان تھے۔ عقب میں پڑی کرسیاں تقریباً خالی تھیں۔ جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے بیشتر باوردی اور بے وردی اہلکار تھے۔ شرکاء کے لئے ”چائے شائے“ یا کھانے وغیرہ کا کوئی اہتمام نہیں تھا۔ خواتین پولیس اہلکار بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر مرد اہلکاروں کے ذریعے بازار سے ”ریڑھی برگر“ منگوا کر پیٹ پوجا کر رہی تھیں۔ چند سو لوگوں کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ سیکیورٹی کے نام پر ایک دلیر لیڈر کو بزدل بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر حکومتی کارناموں پر مشتمل دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں عمران خان کے ویژن کے ساتھ ساتھ تین بار عثمان بزدار کے ویژن کا ذکر بھی کیا گیا۔ لگتا ہے کہ عمران خان کے ویژن کے مقابل عثمان بزدار کے ویژن کو کھڑا کرنے والوں نے ان کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی۔ تقریب میں بتایا گیا کہ ضلع لیہ کے لئے 14 ارب روپے کا تاریخی ترقیاتی پیکج دیا گیا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی زون ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں 20 ہزار ایکڑ پر بنایا جا رہا ہے جو ٹیکس فری ہوگا۔ ضلع میں سات نئے کالج بنائے جا رہے ہیں جن میں چھ گرلز کالج ہوں گے۔ ڈیرہ غازیخان اور ساہیوال ڈویژنوں کے ہر خاندان کو صحت کارڈ فراہم کیا جار ہا ہے۔ ہر کارڈ پر سالانہ 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا علاج کرایا جا سکے گا۔ اگر یہ پیسے ختم ہو جائیں تو تین لاکھ تک مزید بھی دیئے جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں ناں کہ ”مطلع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات“ایک معمولی سے نکتے کی طرف توجہ دلانے کو دل کر رہا ہے۔ ہوا یوں کہ جب عالمِ انتظار میں معاون خصوصی/ مشیر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کالم نگاروں سے محو گفتگو تھیں تو انہوں نے لادی گینگ کے حوالے سے بتایا کہ ڈاکوؤں کی جانب سے شہری پر وحشیانہ ظلم کی ویڈیو سامنے آتے ہی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈاکوؤں کا صفایا کرنے کا حکم دیدیا ہے اور رینجرز کے دستے روانہ کر دیئے ہیں۔ ایکشن شروع ہو گیا۔ 24 گھنٹے میں  ان شاء اللہ لادی گینگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور آپریشن کی تکمیل کے بعد علاقے میں رینجرز کی مستقل چوکی قائم کر دی جائے گی۔ اس گفتگو کے ڈیڑھ گھٹنے کے بعد جب وزیر اعظم تقریب کے سٹیج پر آئے تو انہوں نے متذکرہ ویڈیو ٹیپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ تقریب سے واپس اسلام آباد جا کر ٹیلی فون کریں گے اور علاقے میں رینجرز بھیجنے کا کہیں گے۔ ارے او اللہ کے بندو (اور بندیو) جو باتیں، فیصلے، کارنامے آپ میڈیا کو بتاتے ہیں وہ اپنے ٹیم لیڈر/ قائد کو بھی بتا دیا کرو۔ آپ نے رینجرز کا آپریشن شروع بھی کرا دیا اور وزیر اعظم کو پتہ تک نہیں چلنے دیا۔ حیرت ہے بھئی حیرت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -