فلسطین کا دفاع اور حماس 

فلسطین کا دفاع اور حماس 
فلسطین کا دفاع اور حماس 

  

نبی اکرمﷺ کی پیدائش سے 55دن پہلے یمن کا بادشاہ ابرہہ اپنی فوج لے کر شہر مکہ پر حملہ آور ہوااس کا ہد ف خانہ کعبہ کو شہید کرنا تھا۔ابرہہ ا نے یمن کے دارالحکومت میں ایک بہت ہی شاندار گرجا گھر تعمیر کیا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ مسلمان بھی وہیں آکر حج کیا کریں۔ جب عرب والوں کو یہ معلوم ہوا تو مکہ معظمہ کے قبیلہ کنعانہ کا ایک شخص بہت غصہ میں اس گرجا گھر گیا  اور اسے شدید گندہ کر دیا۔جب اس بات کی خبر ابرہہ کو ملی تو وہ بہت غصہ میں آگیا اور ایک بڑا لشکر لے کر کعبہ پر چڑھائی کر دی۔ابرہہ کے لشکر سے آگے جو دستہ روانہ ہوا اس نے مکہ والوں کے اونٹ بکریاں اور باقی مویشی چھین لیے۔اس میں کچھ اونٹ حضرت عبدالمطلب کے بھی تھے۔حضرت عبدالمطلب کو اس پر بہت غصہ تھا۔ وہ ابرہہ سے بات کرنے کے لیے اس کے لشکر کے پڑاؤ تک پہنچ گئے۔ ابرہہ کو جب معلوم ہوا کہ قبیلہ قریش کا سردار اس سے ملاقات کرنے آیا ہے تو اس نے حضرت عبدالمطلب کو اپنے خیمہ میں بلا لیا۔

حضرت عبدالمطلب کی شخصیت بہت بارعب اور بااثر تھی۔حضرت عبدالمطلب کو دیکھتے ہی ابرہہ تختِ شاہی سے نیچے اتر آیا اور بولا بتائیے سردار آپ کس مقصد کے لیے آئے ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ ہمارے اونٹ اور بکریاں جو آپ کے سپاہی ہانک لائے ہیں وہ ہمیں واپس کردیں۔یہ سن کر ابرہہ حیران ہو گیا اور کہا سردار میں تو آپ کے کعبہ کو تباہ کرنے آیا ہواور آپ اونٹوں کی بات کر رہے ہیں۔حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹ میری ملکیت ہیں اس لئے وہ واپس لے آیا ہوں، جبکہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔وہ خود اسے گرانے والوں سے نپٹ لے گا۔پھر کیا ہوا یہ جاننے کے لیے سورۃ فیل پڑھ لیں۔کہ پرندوں نے چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے سارا لشکر کھائے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دیا۔ کنکر جس جس کو لگا وہ موقع پر مر گیا جو بچ گیا اس کے اعضا ایک ایک کرکے گرتے رہے اور بالآخر وہ بھی موت کے منہ میں چلا گیا۔ابابیل کے پتھروں نے اس لشکر کے جاہ و جلال کو مٹی میں ملا دیا خانہ کعبہ کی حفاظت کی ذمے داری اللہ کریم نے اٹھائی ہے جو پوری ہو رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی، ان شاء اللہ۔

لیکن قبلہ اول مسجد اقصی کی حفاظت کی ذمے داری ہماری ہے وہاں کوئی پرندے نہیں آنے اس کی حفاظت ہمیں ہی کرنی ہے۔میں جانتا ہوں کہ مسلمانوں کے بہت سے ممالک اسرائیل سے اپنے مالی مفادات حاصل کر رہے ہیں،  ان کی فوجوں میں اتنی جرت نہیں کہ یہ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ لیکن ابھی بھی ایک فوج ہے جن میں اسلام اور ایمان زندہ ہے اور وہ ہیں مجاہدین جن کو نہ تو امپورٹ ایکسپورٹ کے کم زیادہ ہونے کے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی ڈالر کی قیمت سے،جو بزدل خود آگے نہیں بڑھ سکتے وہ ان مجاہدین کی مدد کر دیں۔ یہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی جرات بھی رکھتے ہیں اور ہمت بھی۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ موجوہ صورتحال جو اسرائیل نے پیدا کی ہے اس کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے تو آپ غلط ہیں۔یہ تو صرف ٹیسٹر لگایا تھا۔اب وہ مزید حملے کریں گے بہت سے بے گناہ فلسطنیوں کا لہو بہایا جائے گا۔بہت تباہی بربادی ہو گی۔کیونکہ اگر بھیڑیوں کو شدید چوٹ نہ پہنچائی جائے تو وہ پورے کا پورا ریوڑ کھا جاتا ہے۔

اس وقت مسلمانوں کی حالت بھی ریوڑ سے مختلف نہیں۔ ترکی،ملایشیا،روس، چائینہ اور پاکستان کو مل کر اسرائیل پر چڑھائی کرنی ہو گی اسرئیل کو ہر میدان میں شکست دینی ہو گی جب تک اسے ان کے ہر عمل کا منہ توڑ جواب نہیں دیا جائے گا یہ سکون سے نہیں بیٹھے گا مسلمان ممالک کو اپنی فہم و فراست کے ساتھ اس کی ہر چال کا سد باب کرنا ہو گا۔مسجد اقصی کی حرمت خطرے میں ہے حماس کا بھر پور ساتھ دیں ایران کا ساتھ دیں اور یہودیوں کو نیست ونابود کردیں۔ جہاد فی فلسطین کا اعلان کریں۔تمام مسلمان ممالک اس جہاد کے لیے اور فلسطینی مسلمانوں کے لیے فنڈ اکٹھا کر کے انہیں پہنچائیں۔

مزید :

رائے -کالم -