تحریک انصاف کی کارکن دشمن پالیسی 

 تحریک انصاف کی کارکن دشمن پالیسی 
 تحریک انصاف کی کارکن دشمن پالیسی 

  

عمران حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اس نقطہ نظر سے کہ سابقہ دورِ حکومت میں میڈیا کو پیسے کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا،بہت سے اخباروں کے سرکاری اشتہارات بند کردیے اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے لئے میڈیا ہاؤس مالکان پر دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ حکومت انتقام تو میڈیا مالکان سے لینا چاہتی تھی مگر نشانہ کارکن بن گئے۔ میڈیا مالکان پر جب ''عرصہ حیات'' تنگ ہوا تو اداروں میں چھانٹی کا عمل شروع ہوگیا جس کا نتیجہ کارکنوں کی بیروزگاری تھا۔ اس مہم سے الیکٹرانک میڈیا بالعموم اور پرنٹ میڈیا بالخصوص متاثر ہوا۔ اداروں سے ایک ہی دن میں سینکڑوں کارکنوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ پورے پورے دفتر ایک ہی دن میں بند ہوگئے۔ ان میں ایسے لوگوں کی اکثریت تھی جن کا ذریعہ روزگار یہی ملازمت تھی۔

تحریک انصاف کا مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ جو اس پر تنقید کرتا ہے وہ لفافہ صحافی یا لفافہ اخبار ہے۔ اس کی زندہ مثال میں خود ہوں۔ میں پیشے کے لحاظ سے صحافی نہیں، میں نے کچھ سال پہلے جب تحریک انصاف حکومت میں نہیں آئی تھی، ایک ویب سائٹ پر ''تحریک انصاف کے ساتھ دھوکہ'' کے نام سے ایک مضمون لکھا جس میں ایک بددیانتی کی نشاندہی کی گئی تھی جو تحریک انصاف کے ایک امیدوار کی طرف سے (جو بعد میں ملتان سے ایم پی اے بنے)اپنی پارٹی کے ساتھ بددیانتی تھی۔ ہوا یوں کہ تحریک انصاف کی ممبرشپ جاری تھی۔ بہت سے لوگوں سے شناختی کارڈ لئے گئے اور انہیں کہا گیا کہ انہیں راشن دیا جائے گا۔ شناختی کارڈز کے نمبر تحریک انصاف کی ممبر شپ کے لئے استعمال کئے گئے اور چیئرمین کے سامنے اپنی کارکردگی ظاہر کی گئی کہ اتنے ممبرز بن گئے ہیں۔ میرے مضمون کو چار ہزار لوگوں نے شیئر کیا مگر تحریک انصاف کے گالم گلوچ بریگیڈ نے مجھے لفافہ صحافی قرار دے کر خوب رگڑا لگایا۔ حالانکہ میں تو تحریک کا بھلا کررہا تھا کہ اس طرح دھوکہ کیا جارہا ہے۔

تحریک انصاف کے فیصل آباد سے ایک صاحب نے مجھے ای میل کرکے کارکنوں کے اس رویے پر ان الفاظ کے ساتھ معذرت بھی کی کہ جذباتی نوجوان ہیں آپ مائنڈ نہ کریں۔ مجموعی طور پر یہی مائنڈ سیٹ حکمران جماعت کا ہے۔ حالانکہ میڈیا ہی تھا جس کے کندھے استعمال کرکے عمران خان حکومت میں آئے مگر جب ان پر تنقید شروع ہوئی تو اسی میڈیا پر کاری ضرب لگائی۔ حالانکہ تنقید برائے اصلاح برداشت کرنا جمہوری معاشروں کا حسن ہے۔ صرف تعریف و توصیف سے لیڈر نہیں بنتے۔ عمران حکومت کے منشور میں لوگوں کو ملازمتیں دینا شامل تھا۔ ادھر تو کام اس کے برعکس ہوگیا۔ دیکھنے اور سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اس مائنڈ سیٹ سے نقصان میڈیا مالکان کا ہوا یا میڈیا کارکنوں کا؟ میں تو اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ نقصان میڈیا کارکنوں کا ہوا جو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے میڈیا مالکان تو اپنی بقا کی جنگ لڑگئے مگر کارکن رل گئے۔ ایسا بھی ہوا کہ لوگ اپنی ڈیوٹی پر گئے، انہیں اسی وقت گھر بھیج دیا گیا یا انہیں بتادیا گیا کہ کل سے آپ نے دفتر نہیں آنا۔ کئی ایسے بھی تھے جنہیں مستقل ملازمت سے جبری ریٹائر کرکے کنٹریکٹ پر رکھا گیا۔ 

حکومت کو بہت سے محاذوں پر ناکامی کا سامنا ہے اور ہر ناکامی کی ذمہ دار سابقہ حکومت ہے۔ حکومت کو جہاں اور شعبوں میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے وہیں میڈیا کارکن دشمن پالیسی کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ وزارت اطلاعات کو تعصب کی عینک اتار کر حقائق اور انسانیت کی عینک سے دیکھتے ہوئے میڈیا بالخصوص پرنٹ میڈیا کے کارکنوں کی بے روزگاری کا جائزہ لینا چاہئے  اور تمام نکالے گئے کارکنوں کی باعزت واپسی کا انتظام کرنا چاہئے۔ کرونا کی وجہ سے انہیں متبادل ملازمت بھی نہیں ملی۔ حکومت کارکنوں کی بحالی کا مناسب انتظام کرلیتی ہے تو اس کا بگڑا امیج بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ عمران حکومت میں تنقید برائے اصلاح سننے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلتے۔

مزید :

رائے -کالم -