امریکہ افغانستان میں کیا کرنے آیا تھا؟ (2) 

امریکہ افغانستان میں کیا کرنے آیا تھا؟ (2) 
امریکہ افغانستان میں کیا کرنے آیا تھا؟ (2) 

  

 …… ان کے مقاصد پاکستان کو ڈی نیوکلرائز کرنے اور ایران کو نیوکلیرائز ہونے سے روکنے کے گرد استوار تھے اور یہ دونوں مقاصد افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج داخل کرنے ہی سے ہو سکتے تھے۔ چنانچہ آپ نے دیکھا کہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد ان کی ساری توجہ عراق کے خلاف مرکوز ہو گئی۔ صدام حسین کو ٹھکانے لگانے کے بعد معمر قذاقی کو بھی  ایسی موت کی نیند سلا دیا گیا جو امتِ مسلمہ کے لئے حد درجہ ندامت خیز اور شرمناک تھی۔ نیویارک کے جڑواں ٹاور کے انہدام میں ایک بھی یہودی کا ہلاک نہ ہونا جس کہانی کا ثبوت تھا وہ تو آپ قارئین جان چکے ہیں۔ لیکن عراق اور لیبیا کو شکست دینے میں اصل مقصد ایران کے نومولود جوہری پروگرام کو بریک لگانا تھا۔

پاکستان نے 28مئی 1998ء کو جوہری دھماکے کرکے مغربی طاقتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی مغرب کے گلے کی پھانس تھیں۔ اس لئے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بعد جب اس کے میزائلی پروگرام کی ڈویلپمنٹ شروع ہوئی تو اس سے نمٹنا اہلِ مغرب کے لئے ایک سٹرٹیجک معاملہ بلکہ معمہ بن گیا۔ امریکیوں نے سوچا کہ پہلے ایران کے جوہری ری ایکٹر کو کرٹیکل سٹیج تک پہنچنے سے روکا جائے اور پھر پاکستان کی طرف ’توجہ‘ دی جائے۔ چنانچہ ایران کو عراق میں الجھایا گیا اور پاکستان کی طرف نگاہِ التفات کو موخر کر دیا گیا۔ان برسوں میں امریکی جرنیلوں اور وائٹ ہاؤس کے مکینوں کی پاکستان میں آمد و رفت کا تانتا بندھا رہا۔ پاکستانی پبلک اور ہمارا میڈیا امریکی بیانیے کو ’سچ‘ سمجھتا رہا کہ امریکہ (اور ناٹو) افغان طالبان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ لیکن انہوں نے پاکستان پر براہِ راست اور بالواسطہ حملوں کا جو پلان بنایا اس کے لئے فضائی اور زمینی لاجسٹک سپورٹ کی جو ضرورت تھی اس کا حجم بہت زیادہ (Robust) تھا جس کا اندازہ آج ہم سب کو ہو رہا تھا۔ انصرامی انفراسٹرکچر جس تیزی سے بنایا گیا اور ناٹو افواج کے دستوں نے پاکستان پر حملے کی جو پریکٹس، افغان سرزمین پر آپریٹ کرکے طالبان کے ’پردے‘ میں کی الحمدللہ اس کی حقیقت سے پاکستان کی مسلح افواج کی ہائر کمانڈ بخوبی باخبر تھی۔ ان افواج کو کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ وہ اصل دشمن کی عیاریوں سے پوری طرح چوکس تھیں …… پاکستانی میڈیا کی بے خبری (یا سادہ لوحی کہہ لیجئے) اس سلسلے میں اس وقت زیادہ برہنہ ہو کر سامنے آئے گی جب 11ستمبر 2021ء کو تمام غیر ملکی ٹروپس افغانستان سے چلے گئے اور اپنے پیچھے جو عسکری انفراسٹرکچر چھوڑ گئے اس کا طول و عرض طالبان پر تسلط حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ  اس کے آگے نکل کر اپنے سٹرٹیجک اہداف کی تکمیل تھا۔ 

کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے طالبان کو زیرِ دام لانا ان امریکیوں کا ٹیکٹیکل ٹارگٹ تھا جبکہ پاکستان ان کا سٹرٹیجک ہدف تھا!

لیکن افغان طالبان نے اس جنگ میں امریکی اور ناٹو فورسز کو جو ناکوں چنے چبوائے اس کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گا۔ افغان طالبان نے ان بیس برسوں میں غیر ملکی افواج کی جس طرح گو شمالی کی وہ ان کے روائتی ناقابلِ تسخیر ہونے پر مہر ثبت کر گئی اور اس میں پاکستان نے 30لاکھ افغان مہاجرین کا جو بوجھ اٹھایا وہ اگر ایک لحاظ سے Liability تھا تو دوسرے لحاظ سے Assetبھی تھا!…… اس سلسلے میں تین چار نکات کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔

اول: آپ نے جب بھی کسی غیر ملکی سولجر کو افغانستان میں کسی جگہ دیکھا ہوگا تو اسے سر سے پاؤں تک مسلح دیکھا ہوگا۔ اس کے سر پر جو ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے وہ محض ایک ’فولادی ٹوپی‘ نہیں ہوتی بلکہ اس میں درجنوں ایسے آلات ہوتے ہیں جو اسے دورانِ آپریشن دشمن سے محفوظ کرنے کے کام آتے ہیں۔ اس کی یونیفارم گلے سے ٹخنے تک گویا بکتر بند ہوتی ہے۔ اس کے بوٹ بہترین فائٹنگ اینڈ سپورٹنگ گیئر کا کام دیتے ہیں۔ اس کی پشت پر جو کچھ لدا ہوتا ہے اس کا حجم بھی قابلِ غور ہوتا ہے۔ دونوں ہاتھوں میں جو اسلحہ پکڑا ہوتا ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی پاکستانی سپاہی کے پاس نہیں ہوتا۔ وہ سرتاپا ایک مسلح مشین ہوتی ہے جو ہیلی کاپٹروں یا ایسی گاڑیوں میں سوار ہو کر آپریٹ کرتی ہے جس پر طالبان کی کسی رائفل یا مشین گن کا اثر نہیں ہوتا۔

اس جنگجو انسانی مشین کے مقابلے میں کسی طالبان کو دیکھ لیجئے…… سرپر پگڑی، سادہ قمیض شلوار اور پاؤں میں چپل…… ہاتھ میں رائفل اور گولیوں کی بیلٹ…… زیادہ سے زیادہ ایک دور بین ہو گی اور وہ بھی کسی امریکی سے چھینی ہوئی ہو گی۔لیکن جو ویپن کسی امریکی یا یورپین سولجر کے پاس نہیں ہوتا، وہ خوفِ مرگ سے لاتعلقی ہے۔ میں نے کئی بار عالمِ تصور میں ایک سراپا مسلح امریکی کو، ایک طالبان جنگجو کے سامنے کھڑے ہو کر نبردآزما دیکھا ہے اور ہمیشہ طالبان کو فتح یاب پایا ہے۔ ایک طالبان مارا جائے گا تو دوسرا سامنے آ جائے گا اور پھر تیسرا اور پھر چوتھا…… برما کی جنگ میں جو دسمبر 1941ء سے لے کر اگست 1945ء تک جاپانیوں اور برطانوی / انڈین سولجر کے درمیان لڑی گئی اس میں اس جنگ کے فاتح فیلڈ مارشل ولیم سلم (Slim) نے ایک جاپانی سپاہی کی مزاحمت کا جو نقشہ بارہا کھینچا ہے، وہ طالبان کے طریقِ جنگ کے عین مماثل ہے……کسی قاری نے اگر تفصیل جاننی ہو تو اسے ولیم سلم کی حد درجہ دلچسپ تصنیف (Defeat into Victory) کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

دوم: اس 20سالہ افغان وار میں امریکہ نے اپنے جانی نقصانات کی تعداد صرف 2500بتائی ہے۔ علاوہ ازیں 20,000امریکی ٹروپس اپاہج یا معذور بھی ڈیکلئر کئے گئے لیکن یہ اتلافات امریکہ کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ امریکہ اپنے کسی  ہلاک ہونے والے سولجر کی کوئی سُن گُن میڈیا پر نہیں آنے دیتا۔ لاش امریکہ جاتی ہے۔ مرنے والے کے لواحقین کو تدفین کے موقع پر بلایا جاتا ہے لیکن ان کو میڈیا پر آکر ایک لفظ بھی کہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا پادری اپنے مذہبی فرائض ادا کرکے واپس اپنی رجمنٹ کے گرجا گھر چلا جاتا ہے جو سولجرز زخمی ہو جاتے ہیں، ان کو بھی کوئی مغربی نیوز چینل انٹرویو کے لئے نہیں بلاتا۔ہاں اس کا علاج معالجہ خوب ہوتا ہے۔

امریکہ اگر اس 20سالہ جنگ میں اپنے 2500ٹروپس کی ہلاکت تسلیم کرتا ہے تو ویت نام کی جنگ صرف 9برس تک جاری رہی اور اس میں 60,000امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد ان کے علاوہ تھی۔ لیکن اس جنگ میں امریکی فوج کی تعداد تین لاکھ تک تھی۔ اگر اس تعداد کا حساب لگایا جائے تو تب بھی امریکی ہلاکتوں کی یہ کم شرحِ اموات ناقابلِ یقین ہے…… دوسری طرف پاکستان اس جنگ میں براہِ راست شریک نہ تھا لیکن وزیرستان یا سابق فاٹا کے علاقوں (دیر سے لے کر جنوبی وزیرستان تک) پاکستانی فوجی اور سویلین شہدا کی تعداد 70ہزار ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو طالبان (TTP) پاکستانیوں کو اتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ افغان طالبان افرنگیوں کے ساتھ کیا ’سلوک‘ نہ کرتے ہوں گے!

سوم: بہت سے دوستوں کو معلوم ہوگا کہ اس طویل جنگ کے دوران ہزاروں افغان مترجم امریکی اور کولیشن فورسز نے بھرتی کر رکھے تھے۔ ان کو لاسہ لگایا گیا تھا کہ ان کو امریکہ کا ویزہ دیا جائے گا۔ وہ اس لالچ میں ترجمانی بھی کرتے رہے اور اپنی قوم کی جاسوسی بھی…… ہم ہندوستانی تاریخ کے میر جعفروں اور میر صادقوں کا حوالہ ضرور پڑھتے اور ان کو کوستے ہیں۔ لیکن یہ میر صاحبان آج بھی ہمارے اندر پاکستان میں موجود ہیں بلکہ ان میروں کے علاوہ بعض ’میرنیاں‘ بھی یہی کام کرتی ہیں اور یہی کام افغانستان میں بھی 2001ء سے لے کر 2021ء تک ہوتا رہا۔ آج بھی 18000 افغان مترجم اس ملک کے طول و عرض میں مقیم ہیں جن کو امریکیوں نے باقاعدہ تنخواہ دار ملازم بنایا ہوا تھا۔ آج وہ بے یارو مددگار کابل و قندھار و قندوز میں فریاد کناں نظر آتے ہیں۔9752 غیر ملکیوں کی نکاسی کا کام اگر وسط جولائی 2021ء تک مکمل ہو گیا تو ان افغان مترجموں اور جاسوسوں کا کام طالبان آکر ’مکمل‘ کر دیں گے…… اس لئے وہ سب لرزہ براندام ہیں۔ لیکن مسلمان جہاں کہیں بھی بستے ہیں یہ ’فرقہء ملامتیہ‘ وہاں کافی و شافی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ ان میں بہت سے ’محب وطن‘ صحافت کے علاوہ سیاست کے میر اور میرنیاں ہیں …… اللہ بس، باقی ہوس!

چہارم: افغانستان میں گزشتہ 20برسوں میں درجنوں نیوز چینل اور اخبارات ساون کی کھمبیوں کی طرح پھوٹ نکلے ہیں۔ فارسی، دری، پشتو اور انگریزی زبانوں کے افغان میڈیا کو سفید فام صلیبی اور خاکی فام ہندوتوا کی بھرپور تکنیکی مدد حاصل ہے۔ میں اکثر ان کو پڑھتا اور حیران ہوتا ہوں کہ ان کے کالم، مضامین، موضوعات، ٹاک شوز اور تجزیئے پاکستان کے بارے میں زیادہ اور اپنے ملک کے بارے میں کم ہوتے ہیں …… یعنی یہ یلغار، کابل و جلال آباد کے طالبان کے خلاف نہیں بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے وطن پرستوں اور جاں نثاروں کے خلاف ہوتی ہے۔

ایں ہم اندر عاشقی غم ہائے بالائے دگر

جس عہد میں ہم جی رہے ہیں، یہ جوہری دور کی ابتدا ہے۔ اس دور نے آگے بڑھنا ہے۔ قرآن حکیم کے آخری پارے (30واں پارہ) کی بیشتر سورتوں میں قیامت کے جن مناظر کی منظرکشی کی گئی ہے وہ انسانی آنکھ نے ابھی دیکھنے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اگر آپ نے ان سورتوں کا ترجمہ اور تفسیر پڑھی ہے تو ازراہ مہربانی ایک بار پھر ان کو پڑھ لیں …… امریکہ اور ناٹو ممالک نے گزشتہ 20برسوں میں پاکستان کو  ’غیر جوہری‘ کرنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں آج جوہری چین اور جوہری پاکستان ایک طرف ہیں اور جوہری انڈیا دوسری طرف ہے۔ جوہری اسرائیل اس خطے سے دور ہے لیکن اگر مستقبل میں جنگ ہوئی تو یہ دوری بے معنی ہو جائے گی۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اگر جوہری جنگ کے ابتدائی دور کی لپیٹ میں بھی آئے تو باقی جوہری ممالک دوسرے اور انتہائی دور کی لپیٹ میں آنے سے نہیں بچ سکیں گے اور قرآن کا وہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا جس کا ذکر ابتدائی نبویؐ دور میں قرآن کے 30ویں پارے میں موجود ہے۔     (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -