پام آئل پیداواری ممالک نے بیلجیم کے شاہی فرمان پر اعتراض اٹھا دیا 

پام آئل پیداواری ممالک نے بیلجیم کے شاہی فرمان پر اعتراض اٹھا دیا 

  

لاہو(پ ر) پام آئل کے پیداواری ممالک کی نمائندہ تنظیم کونسل آف پام آئل پرڈیوسنگ کنٹریز (سی پی او پی سی) نے بیلجیم کی جانب سے یورپی یونین کمشن کو دیے گئے نوٹیفیکشن پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کمشن بائیو فیول کے لیے پام آئل کے بطور ری نیو ایبل سورس استعمال پر پابندی لگانے کا عندیہ دے چکا ہے۔  سی پی او پی سی میں تا حال ملائیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں جبکہ عنقریب پام آئل کی پیداوار رکھنے والے دوسرے ممالک بشمول کولمبیا، گھانا، ہنڈورس او پاپوا نیو گنی بھی ااس تنظیم کے رکن بن جائیں گے۔ سی پی او پی سی نے ہاد دہانی کروائی کہ پا م آئل ان ممالک کی معاشی او اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جانب سے متعین کردہ پائیدار ترقیاتی اہداف(SDGs) کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ بیلجیم کے وزیراعظم اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے متعلقہ آفیشلز کو بھیجے گئے خطوط میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ اس پابندی سے پام آئل کے پیداواری ممالک کی معیشت پہ ضرب لگے گی جو یہ ممالک  تصدیقی سکیموں (Certification Schemes) کے تحت پام آئل کی مناسب اور بروقت سپالائی کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں۔ یہ یورپی یونین کی کامن  زرعی پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے کہ بائیو فیول کے لیے تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے جن کے لیے مختلف ایسے کیمیکلز اور کیڑے مار ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو ماحول کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ پورے یورپ میں پیٹ (Peat) کی خوفناک تباہی بھی اسی پالیسی  کا شاخسانہ ہے۔ کونسل  نے موقف اختیار کیا ہے کہ پام آئل پر پابندی کے لیے کے جو توجیحات پیش کی گئیں وہ ماحولیات سے متعلق ہیں۔

 لیکن دوسری طرف پام آئل کے متبادل کے طور پر تیل کے بیجوں کو فروغ دینا درحقیقت یورپی یونین کی ماحولیات سے متعلق حساسیت کی نفی ظاہر کرتا ہے اور اس پہ کئی سوال اٹھتے ہیں۔ کونسل نے اس ضمن میں یورپی یونین اور کچھ رکن ممالک کے حوالے سے اپنے شبہات کا اظہار کیا ہے کہ وہ  پروٹیکشنزم (Protectionsim) کے لیے ماحولیات کی آڑ لے رہے ہیں اور جن کا مقصد بیلجیم اور پام آئل کے پیداواری ممالک کے مابین روایتی تجارت کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔ کونسل نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس شاہی فرمان کی منظوری کے  آسیان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منصفانہ تجارت پر بھی منفی اثرات پڑیں گے جبکہ یورپی یونین اور آسیان کے ویجیٹیبل آئل کے حوالے سے بنائے گئے جائنٹ ورکنگ گروپ کے تحت حاصل ہونے والی گروتھ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر کام کرتے ہوئے دونوں پارٹیز کو اقام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی مناسبت اور ماحولیات کے حوالے سے مجموعی تناظر میں  ویجیٹیبل آئل بشمول سویا بین، توریا اور سروج مکھی کی مستحکم تجارت کے لیے جائنٹ ورکنگ گروپ کو استعمال کرنا چاہیے۔ بیلجیم کی شاہی ریاست بیلجیم اور یورپی یونین میں پام آئل کے حوالے سے معاملات کو حل۔کنرے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور کونسل اس سمت میں کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرے گی جبکہ شاہی فرمان کی تنسیخ بھی یقیناً اس کا حصہ ہے۔ تاہم اگر بیلجیم اپنی تجویز پر عملدرآمد کے لیے سرگرم رہتا ہے تو کونسل کے رکن ممالک  بیلجیم سے درآمد کیے جانیوالی زرعی مصنوعات  کے حوالے سے پالیسی پرنظرثانی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ 

مزید :

کامرس -