پولیس افسر کا مبینہ تشدد، نوجوان کی یادداشت بری طرح متاثر

پولیس افسر کا مبینہ تشدد، نوجوان کی یادداشت بری طرح متاثر

  

ملتا ن ( خصو صی رپورٹر) پولیس تھانہ بہا الدین زکریا کے سابق ایس ایچ او فیصل کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان ہوش کھو بیٹھا۔ عدالتی حکم پر نشتر ہسپتال تو منتقل کردیا گیا لیکن پڑھا لکھا قیدی افضل پولیس ٹارچر کے باعث کھانے پینے اور بولنے سے بھی قاصر ہے اور بجلی کے جھٹکوں سے کیا گیا ٹارچر نوجوان کی یاداشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ گزشتہ روز ضلع کچہری میں 23 سالہ نوجوان قیدی افضل کی والدہ عزیز مائی اور بھائی ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے(بقیہ نمبر25صفحہ6پر)

 ہوئے بتایا کہ 24 مئی کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان نے افضل کو جیل سے طلب کیا وہ احاطہ عدالت میں ہی بے ہوش کر گرپڑا جسے پولیس نے اٹھا کر بخشی خانے اور وہاں سے جیل منتقل کیا بعدازاں وکیل نے میڈیکل کرانے اور ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی دو روز کی طوالت کے بعد 26 مئی کو افضل کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور وارثان کو 9 نمبر وارڈ کا پتہ دیا لیکن وہ وہاں بھی نہ ملا بعدازاں معلوم ہوا کہ اسے ہسپتال میں ایک علیحدہ جگہ پر رکھا گیا ہے اور وہ زیر علاج ہے ملاقات کے دوران قیدی بھائی افضل نہ تو والدہ کو پہچان رہا ہے اور نہ ہی کھا پی سکتا ہے اسکی گردن، ہاتھوں پیروں اور جسم کے دیگر حصوں پر تشدد کے اثرات موجود ہیں۔ بیٹا پڑھا لکھا ہے اور مختلف ملازمتوں کے لیے درخواستیں بھی گزار چکا ہے اسے پولیس حرم گیٹ میں تعینات ایس ایچ او فیصل نے گزشتہ سال ڈکیتی کے مقدمہ میں گرفتار کیا اور بے گناہی ثابت ہونے پر عدالت نے ضمانت منظور کرلی بعدازاں ایس ایچ او فیصل تھانہ بہا الدین زکریا میں تعینات ہوا تو بیٹے کو دوبارہ اٹھا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا ٹارچر کرکے اسکا ذہنی توازن خراب کیا اب اسکی ذہنی اور جسمانی حالت دونوں درست نہیں اور وہ سگی والدہ اور بھائیوں کو پہچان نہیں پارہا۔ آخری بار جیل میں بہن سے ملاقات کے دوران بیٹے افضل نے شیڈ انچارج ڈسٹرکٹ جیل ثقلین کے ہاتھوں تشدد  کا نشانہ بننے کا ذکر کیا تھا اور اسے جیل میں 302 کا قیدی قرار دیا جارہا تھا جبکہ اس پر ڈکیتی کا مقدمہ اور فرضی برآمدگی ڈالی گئی ہے۔

متاثر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -