شوکت عزیز صدیقی کیس، کیا حاضر سروس جج کو پبلک فورم پر ایسی تقریر زیب دیتی ہے؟ سپریم کورٹ 

    شوکت عزیز صدیقی کیس، کیا حاضر سروس جج کو پبلک فورم پر ایسی تقریر زیب ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے  ہوئے  موقف اپنایا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے کھلی عدالت میں انکوائری نہ کرنے کا جوڈیشل کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا تھا جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا،سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کیخلاف دائرہ اختیار ہونے پر ہی فیصلہ دیا،سپریم کورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر ہی ریلیف دیا، شوکت عزیز صدیقی کے خلاف یکطرفہ انکوائری کی گئی،شوکت عزیز صدیقی کا موقف سنا گیا نہ ان کو گواہان پیش کرنے کا موقع دیا گیا، یہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف چوتھا ریفرنس تھا،شوکت عزیز صدیقی کے خلاف یکے بعد دیگرے  ریفرنس دائر کئے گئے،ایک ریفرنس 2015،دوسرا 2017 اور یہ موجودہ ریفرنس 2018 میں دائر کیا گیا، یہ کیس مفروضات پر مبنی ہے،ان مفروضات پر انکوائری ہونی چاہیے تھی جو کسی نے نہیں کی۔شوکاز سے پہلے کنڈکٹ کی انکوائری ہونی چاہیے تھی،پہلے انکوائری ہوتی بعد میں شوکاز جاری ہوتا ہے،یہاں معاملہ بالکل متضاد تھا شوکاز پہلے جاری ہوا،جس تقریب سے میرے موکل نے خطاب کیا  وہ  عوامی اجتماع نہیں وکلاء  کی تقریب تھی،چیف جسٹس اور دیگر جج بھی وکلاء  کے اجتماع میں تقاریر کرتے ہیں،کیس کی آخری سماعت فروری میں ہوئی تھی،جلد سماعت کیلئے متعدد بار درخواستیں بھی دیں،حکومت نے ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا،میرا موکل 30 جون کو ریٹائر ہو جائیں گے۔  کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ اس کیس میں وفاقی حکومت کا جواب دینا بنتا ہی نہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے  کہا کہ آپ آرٹیکل 211 کے اسکوپ پر دلائل دیں،سپریم کورٹ میں ہزاروں مقدمات زیر التوا ہیں،آپ بہتر جانتے ہیں کہ کونسے کیس کی وجہ سے اس کیس میں تاخیر ہوئی26 اپریل کو ختم ہونے والے مقدمے کا فیصلہ ابھی لکھ رہے ہیں،لارجر بینچ کی تشکیل سے دوسرے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،درخواست قابل سماعت سمجھنے اور قرار دینے میں فرق ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ جس بنیاد پر درخواست قابل سماعت سمجھی گئی وہ دیکھنا بھی ضروری ہے، سابق جج نے تقریر کی اور اس میں کی گئی باتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا،یہاں شوکت عزیز صدیقی ملزم ہیں،پیڈا ایکٹ میں بھی کچھ قانون ہیں،ثبوت تو وہ ہیں جن کو ثابت کرنے کی بات ہو یہاں تو ریکارڈ موجود ہے،شوکت عزیز صدیقی صاحب ذہین اور قابل ہیں،حقیقت جو بھی ہو کیا ایک جج کو پبلک فورم پر ایسی تقریر زیب دیتی ہے،ایک حاضر سروس جج نے عوامی اجتماع میں تقریر میں چیف جسٹس اور اداروں پر الزامات لگائے،ہمارا ایک بہت سادہ سا سوال ہے،جج کو اگر کسی سے بھی تحفظات ہوں تو کیا وہ اجتماع میں ایسی بات کر سکتا ہے؟جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ پہلے تین ریفرنس خارج ہو گئے تھے،موجودہ ریفرنس میں حقائق تسلیم شدہ ہیں،جسٹس عمر عطاء  بندیال نے اس موقع پر کہا کہ درخواست گزار کے وکیل چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بات کر رہے ہیں؟سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ہمیشہ لکھی ہوئی تقریر پڑھی،کبھی الزام تراشی نہیں کی نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی تقاریر میں آئینی حدود پار کیں، اس تقریر کو پڑھ لیں تاکہ واضح ہو جائے کس بات پر ریفرنس دائر ہوا۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے  کیس کی  سماعت بدھ 2 جون تک کے لئے ملتوی  کر دی۔

شوکت صدیقی

مزید :

صفحہ اول -