نواز شریف، مریم کی سوچ اسرائیل والی، اداروں کو دباؤ میں نہیں لانے دینگے: فواد چودھری 

  نواز شریف، مریم کی سوچ اسرائیل والی، اداروں کو دباؤ میں نہیں لانے دینگے: ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں) فواد چودھری نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کے آئی ایم ایف پر بیان حیرت انگیز ہے۔فواد نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ آج تک پاکستان نے آئی ایم ایف سے 13.79 ارب ڈالر قرض لیا، ان میں سے پیپلزپارٹی نے 47 فیصد اور نون لیگ نے 35 فیصد قرضے اٹھائے، باقی تمام حکومتوں نے مل کر 18 فیصد قرضہ لیا۔ فواد چودھری نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو مشورہ دیا ہے کہ بات کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں تاکہ شرمندگی سے بچ سکیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ   فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہبازشریف کے بیرون ملک جانے میں بڑی رکاوٹ ان کیخلاف کیسز ہیں،نوازشریف کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دی تو وہ واپس نہیں آئے،اگر شہبازشریف ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں تو ہمارے ووٹرز ہم پراعتماد کرنا چھوڑ دیں گے۔نوازشریف،مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن پارلیمانی سسٹم کا حصہ ہی نہیں ان کو اداروں کے حوالے سے بریفنگ کیسے دے سکتے ہیں؟ شہبازشریف سمیت تمام پارلیمانی لیڈر کو بریفنگ دینے کا اہتمام کرسکتے ہیں اور حوالے سے تمام تر تیاریاں بھی کی جارہی ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن اورمریم نواز موجودہ سسٹم کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور مولانا فضل الرحمن جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے وہ اس کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہ پارلیمان اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف اور مریم نواز کوئی ایسے انقلابی رہنما نہیں ہیں کہ وہ موجودہ انقلاب لاکر موجودہ سٹم کو ختم کردیں گے، ان کی سوچ اسرائیل والی ہے جس طرح اسرائیل فلسطینیوں کو دباؤ میں لاکر فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے بالکل اسی طرح نوازشریف بھی سوچتے ہیں جو ان کی خام خیالی ہے،اگر نوازشریف اور مریم نواز حکومت اور قومی اداروں کو دباؤ میں لانے کی سوچتے ہیں تو وہ غلط فہمی میں ہیں ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔فواد نے مزیدکہا ہے کہ کس نشریاتی ادارے نے کیا پروگرام نشر کرنا ہے اور اس کی ٹیم کیا ہوگی، یہ فیصلہ ادارے خود کرتے ہیں، ہمارا اداروں کے اندرونی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔ پیر کو اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تمام ادارے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اپنی پالیسی بنانے کے خود ذمہ دار ہیں۔

فواد چوہدری 

مزید :

صفحہ اول -