جنوبی وزیر ستان،چلغوزے کی فصل پر فروٹ فلائی کا حملہ

جنوبی وزیر ستان،چلغوزے کی فصل پر فروٹ فلائی کا حملہ

  

 ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان:جنوبی ایشیا میں چلغوزے کی سب سے بڑی جنگلات پر تاریخ میں پہلی بار فروٹ فلائی کا حملہ، سینکڑوں کی تعداد میں قیمتی درخت خشک ہونے لگے،حملہ برفباری نہ ہونے کی وجہ سے لاحق ہوا ہے۔محکمہ جنگلات اور زراعت سے وابستہ ریسرچ افیسر راشیدخان اور ایگری کلچر افیسر سلیمان خان نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ فروٹ فلائی نیچلغوزے سمیت سیب،الوچہ ودیگر میوجات پر پیچھلے کئی سالوں سے حملہ آور ہوگئے ہیں  ریسرچ سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے  سالانہ کی بنیاد پر سینکڑوں قیمتی پودے خشک ہوکر پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہیں راشیدخان مزیدکہا کہ زراعت اور جنگلات کی مد میں پیچھلے چار سالوں سے کسی قسم کی ادویات یا اسپرے نہیں ائی ہیں جسے چلغوزہ کی قیمتی جنگلات اور میواجات  کے باغات بری طرح متاثر ہو گئی ہیں انھوں نے کہا کہ مقامی کسان بازار سے اپنے تجربے کی بنیاد پر پرائیوٹ سٹوروں سے ادویات لیکر پودوں  پر ستعمال کرتی رہتی ہیں جوکہ بغیر ریسرچ کے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے محکمہ جنگلات وانا کے افیسر اعظمت اللہ نے کہا کہ اس بار جنوبی وزیرستان میں برفباری نہ ہونے کے باعث تحصیل برمل کے علاقے شرغیشائی،خمرنگ اور قلندرہ میں فروٹ فلائی  چلغوزے کی قیمتی جنگلات پر حملہ آور ہو گئے ہیں انھوں نے کہا کہ فروٹ فلائی حملے سے ایک پودہ 15 دن کے اندر اندر خشک ہوجاتا ہے بدقسمتی سے محکمہ زراعت اور جنگلات نے اج تک کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے  مقامی لوگ اپنی مدد اپ کے تحت فروٹ فلائی پر موبل آئل کا استعمال کرتے ہے جبکہ موبل آئل فروٹ فلائی سے زیادہ خطرناک ہے یاد رہے جنوبی ایشیا میں چلغوزے کا سب سے بڑا جنگل جنوبی وزیرستان تحصیل برمل زینداور پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جس سے ہرسال اربوں روپے کا چلغوزہ چین،ترکی اور عرب ممالک سپلائی ہوتا ہے اس بابت محکمہ جنگلات اور زراعت سے وابستہ افراد نے وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ اور مقامی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ واقعے کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر ریسرچ سنٹر قائم کرکے اقدامات اٹھائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -