بنوں مسیحی ملکیتی اراضی کے آمدن اور منظور شدہ فنڈز میں خرد برد کا انکشاف

بنوں مسیحی ملکیتی اراضی کے آمدن اور منظور شدہ فنڈز میں خرد برد کا انکشاف

  

 بنوں (بیو رورپورٹ) بنوں مسیحی ملکیتی اراضی کے آمدن اور منظورشدہ فنڈز  میں خرد برد کا انکشاف ہوا ہے مسیحی رہنماوں نے احتساب اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا مسیحی برادری کے غریب خاندانیں مشکلات کا شکار ہیں لیکن ان کی ملکیتی اداروں کے آمد ن پر ایک ٹھیکیدار قابض ہے جو کہ مختلف کرایہ جات اور منصوبوں کی مد میں لاکھوں روپے بٹور رہا ہے،گزشتہ روز بنوں پریس کلب میں مسیحی رہنماوں یوسف جاوید، یعقوب مسیح، شریف گوگا،لعل مسیح، سابقہ کونسلر چوہدری پیٹر، روبن گل سابقہ ڈسٹرکٹ کونسلر اور سابق تحصیل کونسلر سنیل جان اور سابقہ کونسلر داود جان، امان، کنٹونمنٹ بورڈ ممبر نعیم گیل اور شہزاد بھٹی و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ساہیوال سے تعلق رکھنے والا مسیحی ٹھیکیدار یونس پرویز گل جو کہ ایک عرصے سے مسیحی ملکیتی اراضی پر قابض ہیں جو کہ مسیحی برادری کو مستفید کرنے کی بجائے کرپشن کے ذریعے سے اُن کے ذاتی خاندان کو استفادہ حاصل ہے انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کی اراضی چرچ،مشن ہسپتال اور پینل سکول وغیر ڈایوسز اف پشاور کے زیر انتظام ہیں لیکن 1996سے غریب مسیحی گھرانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے 1998میں مشن کمپاونڈ میں درجنوں خاندانوں کو بے گھر کرکے وہاں دکانیں تعمیر کی گئی اور اُن سے یہ وعدہ کیا گیا کہ یہ دکانیں ان افراد کو دی جائینگی جو تاحال اُنہیں دی گئی اس طرح مشن ہسپتال،پینل ہائی سکول اور چرچ کی اراضی پر دکانیں تعمیر کرکے کرایہ جات پر لگا ئے جا چکے ہیں جس کو مسیحی برادری کے غریب خاندانوں کو دینے کا وعدہ اور آمدن سے ان افراد کے علاج معالجہ اور بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے خرچ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ٹھیکیدار یونس گل جو کہ ان دکانات سے اپنے لئے فوائد حاصل کر رہا ہے مگر غریب گھرانوں کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا انہوں نے کہا کہ پینل ہائی سکول کے ساتھ متصل اراضی پر یونس گل نے مسیحی بچوں کو پڑھانے اور علاج معالجہ کے اخراجات برداشت کرنے کیلئے ایک پلازہ تعمیر کیا لیکن اب وہ رقم ان غریبوں پر خرچ نہیں ہو رہی نہ ہی مسیحی لوگوں کو دکانیں دی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ چرچ اور کمیونٹی ہال کی تعمیر اور رنگ و روغن کیلئے لوکل گورنمنٹ کی طرف سے فنڈ ریلیز ہو چکا ہے لیکن ٹھیکیدار یونس گل نے پینل ہائی سکول سے 48لاکھ روپے لیکر دوبارہ واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحا ل وہ رقم واپس کی گئی اور نہ ہی اُن پیسوں سے کرک میں مسیحی برادری کیلئے چرچ تعمیر کیا جا رہا ہے جو کہ کھلی کرپشن ہے انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کے غریب گھرانے اب کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے حقوق غصب کرنے والا ٹھیکیدار یونس گل سے پوچھنے والا کوئی نہیں لہذا خیبر پختونخوا حکومت،ضلعی انتظامیہ،ایف آئی اے،انٹی کرپشن سمیت دیگر متعلقہ حکام نوٹس لے کر ان کے خلاف تحقیقات اور کاروائی عمل میں لائیں اور مسیحی برادری کی رہائش کیلئے خصوصی کالونی بھی تعمیر کی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -