صو بے بھر کے یونیورسٹی ملازمین کو اسمبلی تک مارچ اور دھرنا مہنگا پڑ گیا 

صو بے بھر کے یونیورسٹی ملازمین کو اسمبلی تک مارچ اور دھرنا مہنگا پڑ گیا 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) صو بے بھر کے یونیورسٹی ملازمین کو اسمبلی تک مارچ اور دھرنا مہنگا پڑ گیا یونیورسٹی سے یونیورسٹی کے ملازمین نے پواسا کے پی چیپٹر کے زیر اہتمام یونیورسٹی کیمپس پشاور سے اسمبلی چوک تک اپنے مطالبات کیلئے پید ل مارچ کیا شید گرمی کے باوجود مارچ میں کثیر تعداد میں اساتذہ اور ملازمین نے شرکت کی اور بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی گرمی کے باعث مظاہرین نے جگہ جگہ مارچ روک کر گرمی سے بچنے کی کوش کرتے رہے تاہم مطاہرین اسمبلی چوک تک پیدل پہنچنے میں کامیاب رہے مارچ کی قیادت فپواسا خیبر پختونخوا چیپٹرکے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہ عالم اور دیگر اساتذہ اور ملازمین تنظیموں کے عہدیداران نے کی مارچ کے شرکاء جب اسمبلی پہنچے تو مظاہرین کی جانب سے شیر شاہ سوری روڈ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور انسو گیس کا استعمال کیا جسکی وجہ سے متعدد اساتذہ  اور ملازمین زخمی ہوئے جبکہ فپواسا اور دیگر تنظیموں کے صدور کو بھی گرفتار کیا گیا اور اسمبلی چوک  جنگ کا منظر پیش کرنے لگا یونیورسٹی ملازمین تنخواہ سے مختلف الاونسز کی کٹوتی،صوبائی ایچ سی کے قیام،پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے بجٹ بڑھانے اور یونیورسٹیز میں صوبائی ھکومت کی جانب سے بے جاں مداخلت کے ھوالے سے پچھلے پانچ دنوں سے یونیورسٹی کیمپس پشاور میں احتجاج پر تھے جبکہ گزشتہ روز اسمبلی تک پیدل مارچ کیا جہاں پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اس سے قبل فپواسا کے عہدیداران نے واضح کیا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -