مردان میڈیکل کمپلیکس میں ایم ٹی آئی کا اجلاس

مردان میڈیکل کمپلیکس میں ایم ٹی آئی کا اجلاس

  

مردان (بیورورپورٹ) مردا ن میڈیکل کمپلیکس (ایم ٹی آئی) میں مصنوعی ذہانت سے شناخت کرنے والی خصوصیات کے حامل سی سی ٹی وی کیمرے خریدنے کی منظوری بھی دی جبکہ دیگر تشخیصی آلات کو بجٹ تجاویز میں شامل کرنے اورموثر حکمت عملی اختیارکرنے کی ہدایات جاری کردی،بورڈ آف گورنرز (بی اوجی) نے کورونا میں ڈیوٹی انجام دینے والوں کے لئے مراعات کی بھی منظوری دے دی باچا خان میڈیکل کالج کے نیو ایڈمنسٹریشن بلاک میں ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین بی او جی پروفیسر ڈاکٹر سید فضل ہادی نے کی بورڈ ممبرز طاہر علی خان، ڈاکٹر شاہد خٹک، عطا اللہ خان طورو نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے ویڈیو لنک کے شریک ہوئے۔ڈین بی کے ایم سی پروفیسر ڈاکٹر محمد فاضل، میڈیکل ڈائریکٹر (ایم ڈی) پروفیسر ڈاکٹر مختیار علی، اسپتال کے ڈائریکٹر (ایچ ڈی) ڈاکٹر طارق محمود، ڈپٹی اسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اقبال، سیکریٹری بی او جی اظہر خان، ڈاکٹر عبد الجمیل، ڈائریکٹر فنانس محمد شیراز، کوویڈ 19 کے لئے فوکل پرسن ڈاکٹر سجاد علی، منیجر آئی ٹی محسن خان، منیجر ایچ آر الطاف احمد اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ڈاکٹر طارق محمود نے بورڈ کو جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیاچیئرمین بی او جی نے ترقیاتی کاموں خصوصاً لائبریری اور لفٹوں کی تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر طارق محمود نے بتایا کہ حال ہی میں ایک نیا 5000 مکعب میٹر مائع آکسیجن کی صلاحیت والا ایک نیا ٹینک نصب کیا گیا ہے اور تمام آئسولیشنز وارڈوں کو اس سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ایچ ڈی نے بتایا کہ اسپتال میں آکسجن کی وافر مقدار کی فراہمی کو یقیں نی بنانے کیلئے ایک اور 15000 مکعب میٹر آکسیجن ٹینک کا بھی انتظام کیا گیا ہے ڈاکٹر مختیارعلی نے بتایاکورونا کی تیسری لہر میں  کل 1،315 افراد کے ٹسٹ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 818 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ انہوں نے بتایا کہ جاری لہر میں 287 مریض جابحق ہوے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کے 57 کے سٹاپ ممبرز بشمول 27 ڈاکٹروں، 17 نرسوں، سات ٹیکنیشنز اور انتظامیہ کے پانچ افراد کو کوروناکا عارضہ لاحق ہوا۔انہوں نے کہا کہ آب تک 16،031 ہیلتھ کیئر ورکرز اور شہریوں کو کورونا ویکسین لگا جا چکیں ہیں بی او جی نے اسپتال میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات دی جس سے مریضوں کو علاج معلجے کی بہتر سہولیات میسر آ سکیں گیں بورڈ نے اسپتال میں کرونا کے داخل مریضوں کی تعداد میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے وسائل اور طبی عملے پر بوجھ بہت حد تک کم ہوجائے گا۔اجلاس میں کورونا کے مریضوں کیلئے مختص وارڈوں میں کام کرنے والے طبی اور دوسرے عملے  کے لئے مراعات کی منظوری دی گئی۔اجلاس نے اسپتال میں سیکیورٹی بڑھانے کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی بورڈ نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر سے ایچ ایم آئی ایس سسٹم اور حفاظتی نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت اور چہرے کی شناخت کرنے والی خصوصیات کے حامل سی سی ٹی وی کیمرے حاصل کرنے کی منظوری بھی دی۔بورڈ نے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کی ایم ٹی آئی مردان میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی لینے اور اس کے لئے مختص رقوم جاری کرنے پر ان کی خدمات کی تعید کی اور ان کو خراج تحسین پیش کی۔آکسیجن سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسپتال میں طبی اور دوسے فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لئے 3 انیسنیٹرز مشینز لگائے گئے ہیں اور آئندہ دنوں میں نء مشین بھی لگاء جاے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک سماجی بہبود کی تنظیم انیشیٹو فار ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپاورمنٹ ایکسس (آئی ڈی ای اے ایس) نے اسپتال میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے دو آتش انسننیر یٹرز اسپتال میں عطیہ کئے ہیں۔پروجیکٹ ڈائریکٹر بے نظیر بھٹو چلڈرن اسپتال (بی بی سی ایچ) ڈاکٹر جاوید اقبال نے بتایا کہ اس سہولت پر 70 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کے لئے الگ ہاسٹل بنائے گئے ہیں اور عملے کے ممبروں کو کمرے مختص کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپتال میں وی آر ایف اور لفٹ کی تعمیر پر ترقیاتی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو منزلوں میں وی آر ایف سسٹم لگا دیا گیا ہے جبکہ تیسری منزل میں کام جاری ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر بی کے ایم سی ڈاکٹر عبد الجمیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 2020/2021 کے لئے رواں مالی سال میں اس اسکیم کے لئے 149 ملین روپے کے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منصوبے پر بقیہ کام مکمل کرنے کے لئے مزید 120 ملین روپے درکار ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر مختیار علی نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر میں  کل 1،315 افراد کے ٹسٹ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 818 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا انہوں نے بتایا کہ جاری لہر میں 287 مریض جابحق ہوے۔انہوں نے کہا کہ اسپتال کے 57 کے سٹاپ ممبرز بشمول 27 ڈاکٹروں، 17 نرسوں، سات ٹیکنیشنز اور انتظامیہ کے پانچ افراد کو کوروناکا عارضہ لاحق ہوا۔انہوں نے کہا کہ اب تک 16،031 ہیلتھ کیئر ورکرز اور شہریوں کو کورونا ویکسین لگا جا چکیں ہیں۔انہوں نے بتایا تیسری لہر میں پچاس سے ساٹھ سال کے عمر کے افراد کو دورسرے عمر کے افراد کی بنسبت زیادہ متاثر کیا اور اس عمر کے افراد میں مرنے کی شرع بھی سب سے زیادہ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -