ملازمین پر پولیس کی جانب سے تشدد کے بعد صوبے کی یونیورسٹیز میں نیاء بحران کھڑا ہوگیا 

 ملازمین پر پولیس کی جانب سے تشدد کے بعد صوبے کی یونیورسٹیز میں نیاء بحران ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی اسمبلی کے باہر خیبر پختونخوا کے یونیورسٹیز کے اساتذہ اور ملازمین پر پولیس کی جانب سے تشدد کے بعد صوبے کی یونیورسٹیز میں نیاء بحران کھڑا ہوگیا ہے یونیورسٹیز کے اساتذہ  کی نمائندہ تنظیم فپواسا اور ال یونیورسٹیز ایمپلائز نے خیبر پختونخوا کے وائس چانسلر ز کو ہٹا نے کا مطالبہ کر دیا ہے اس حوالے سے گزشتہ روز پیوٹا ہال میں فپواسا خیبر پختونخوا چیپٹر اور یونیورسٹیز کے دیگر ملازمین تنظیموں کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جسمیں  پولیس کی جانب سے اساتذہ پر تشدد،انسو گیس اور لاٹھی چارج کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کو سرچ کمیٹی کی سربراہی سے ہٹایا جائے اور اسکے جانب سے خیبر پختونخوا میں لگائے گئے وائس چانسلرز کو فوری رخصت کیاجائے جبکہ معاون خصوصی کی جانب سے پروفیسرز کو شر پسند کہنے کی مذمت کی اور اسکی فوری رخصتی کا مطالبہ کیا گیا  بصورت دیگر آج سے قلم چھوڑ اور کتاب چھوڑ ہڑتال غیر معینہ مدت کیلئے شروع کرینگے  جبکہ آج سے ملک بھر کے یونیورسٹیز میں تدریسی عمل بند رہے گا اجلاس میں پیوٹا کی جانب سے پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا اور عندیہ دیا ہے کہ وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کوہٹانے تک کوئی مذکرات نہیں کیے جائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -