چارسدہ میں دفعہ 144 کا نفاذ معدنیات نکالنے پر پابندی

چارسدہ میں دفعہ 144 کا نفاذ معدنیات نکالنے پر پابندی

  

چارسدہ(بیورورپورٹ) ڈپٹی کمشنر چارسدہ کی جانب سے ضلع بھرمیں ہر قسم کی معدنیات نکالنے پر دفعہ 144 کے تحت ایک ماہ کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم وزیراعلیٰ کے معاون حصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی کے اپنے حلقہ نیابت اور ضلع میں غیر قانونی طور پر معدنیات نکالنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس سے صوبائی خزانہ کو سالانہ 157.13ملین روپے کا نقصا ن پہنچ رہا ہے۔، دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کے اس اقدامات کے خلاف ایک سال کے لئے معدنیات نکالنے کا ٹینڈر حصول کرنے والے کنٹریکٹرز نے عدالت سے رجوع کرنے کافیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چارسدہ کے پندرہ مختلف مقامات پر معدنی وسائل پر محیط معدنیات کے15 بڑے ذخائر موجود ہے جس کی بندش سے صوبائی حکومت کو سالانہ 157.13ملین روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ حال ہی میں عدالت کی جانب سے حکم امتناعی ختم ہونے پر محکمہ معدنیات کی جانب سے معدنی ذخائر کے تمام مقامات کو مختلف کنٹریکٹرز کو لیز پر دیئے گئے تھے لیکن محکمہ ایری گیشن اور ٹورازم کی جانب سے ایک بار پھر موقف احتیار کیا گیا کہ محکمہ معدنیات کی جانب سے ان معدنی ذخائر کو لیز پر دینے سے نہ صرف دریاں اپنی شکل کھو بیٹھے ہیں جس سے ایک زمینی کٹا?ں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف محکمہ ایر ی گیشن کی جانب سے دریا کابل پر اربوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے پروٹیکشن وال کو بھی نقصان پہنچ رہا،جبکہ دریا کنارے ٹورازم سپاٹ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔اس تناظر میں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر سعادت حسن نے نوٹیفکیشن نمبر DC(CHD)AG4665-77 کے تحت تمام پندرہ مقاما ت جن میں منظورے،خیالی،ڈھیری زرداد،پانڑہ جرندہ،کنیور،سبحان خوڑ،حاجی زئی،زیارت چلغزئی آگرہ،سردریاب،شابڑہ، نستہ ٹاپو،سبحان خوڑبلاک بی،نوے ڈنڈ،منڈہ پل اور ہیٹ کینال کے مقامات شامل ہیں سے ہر قسم کے معدنیات نکالنے پر ایک ماہ کے لئے دفعہ144کے تحت پابندی عائدکر دی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے، تاہم ضلع بھر کے مختلف مقامات پر مافیاں کی جانب اب بھی غیر قانونی طور پر معدنیات نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جس پر اب تک محکمہ معدنیات کی جانب سے پولیس کو چار سو سے زائد مراسلے لکھے جا چکے ہیں جن میں پولیس کی جانب سے ایک سو پچاس تک افراد پر مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ چارسدہ میں مختلف وجوہات سمیت حکومت کی عدم توجہ کے باعث وزیراعلیٰ کے معاون حصوصی برائے معدنیات عارف احمد زئی کے اپنے حلقہ نیابت اور ضلع میں 13ہزار ایکڑ رقبہ پر واقعہ معدنیات کے15چھوٹے بڑے ذخائر موجود ہیں جو پچھلے تین سال سے بند پڑے ہیں جس سے صوبائی خزانے کو سالانہ 157.13ملین روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے تاہم حال ہی میں پابندی ختم ہونے پر ان تمام معدنی ذخائر کو بنڈنگ پراسس کے ذریعے مختلف کنٹریکٹر کو لیز پر دیئے گئے تھے لیکن ایک بار پھر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے پابندی لگنے پر کنٹریکٹرز نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -