لاہور کے ہسپتالوں میں مطلوبہ ڈگری کے بغیرسیاسی،سفارشی ایم ایس تعینات

لاہور کے ہسپتالوں میں مطلوبہ ڈگری کے بغیرسیاسی،سفارشی ایم ایس تعینات

  

لاہور(جاوید اقبال) شہر لاہور کے ہسپتالوں میں سیاست کا راج قائم ہے جس کی بنیاد پر ہسپتالوں میں تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سیاسی سفارشی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں ایک بھی ہسپتال میں ریگولر میڈیکل سپریٹنڈنٹ تعینات نہیں کیا گیا 99فیصد ہسپتالوں میں من پسند ڈاکٹروں کو ایم ایس کے عہدے کا اضافی چارج دیا گیا ہے جس سے ہسپتالوں کا نظم و ضبط بگڑ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جناح ہسپتال کو پچھلے تین سالوں سے ریگولر ایم نصیب نہیں ہو سکا ڈاکٹر یحییٰ سلطان ایڈیشنل ایم ایس ہیں مگر انہیں پچھلے ڈیڑھ سال سے عارضی بنیادوں پر ایم ایس کا چارج دیا گیا ہے ان کے پاس مطلوبہ ڈگری بھی نہیں ہے۔ جنرل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر زاہد بھی ایم ایس لگنے کی ڈگری نہیں رکھتے وہ بنیادی طور اے پی ایم او (اسسٹنٹ پرنسپل میڈیکل آفیسر)ہیں انہیں بھی عارضی بنیادوں پر چارج دیا گیا ہے۔پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسز میں بھی ریگولر ایم ایس موجود نہیں جو ایم ایس لگائے گئے ہیں ان کے پاس پبلک ہیلتھ کی ڈگری ہی موجود نہیں۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو بھی گزشتہ ڈیڑھ سال سے ریگولر کوالیفائڈ ایم ایس نصیب نہیں ہو سکا اس اہم ترین ہسپتال کے اے ایم ایس پرچیز ڈاکٹر خالد کو ایم ایس کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔میو ہسپتال کو پچھلے اڑھائی سالوں سے مستقل بنیادوں پر ایم ایس نہیں مل سکا ڈاکٹر امجد شہزاد کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایشیا کے اس بڑے ہسپتال کو عارضی بنیادوں پر ایم ایس دیئے گئے۔ڈاکٹر طاہر خلیل بھی ایم ایس تھے جنہیں اعلیٰ سفارش پر عارضی ایم ایس لگایا گیا وہ دو سال ایڈہاک بنیادوں پر ہسپتال کو چلاتے رہے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر زاہد کو اضافی چارج دیا گیا بعد میں ڈاکٹر زاہد کو تبدیل کر کرے سروسز ہسپتال لگا دیا گیا بعد ازاں سروسز ہسپتال میں بھی انہیں ایم ایس کے عہدے کا اضافی چارج مل گیا۔دوسری طرف ڈاکٹر افتخار حسین جو کہ اے پی ایم او ہیں ان کو میو ہسپتال کے ایم ایس کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔لیڈی ولنگڈن اور لیڈی ایچیسن جیسے اہم ترین ہسپتال پچھلے دو سال سے ریگولر ایم ایس سے محروم ہیں یہاں بھی ڈاکٹروں کو اضافی چارج دیئے گئے ہیں۔گورنمنٹ سید مٹھا ہسپتال اور گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ کو قائم مقام ایک ہی ایم ایس ڈاکٹر مسعود چلا رہے ہیں ان میں سے ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ ایک ایسا بد قسمت ہسپتال ہے جس کو پچھلے سات سال سے کوئی ریگولر ایم ایس ہی میسر آسکا جس سے اس ہسپتال کے حالات ایک تحصیل ہسپتال سے بھی زیادہ خراب ہیں حالانکہ یہ شہر لاہور کا ٹیچنگ ہسپتال ہے۔گورنمنٹ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں لگائے گئے ڈاکٹر احمد ندیم نامی ایم ایس کے پاس بھی مطلوبہ ڈگری ہی موجود نہیں۔گورنمنٹ مزنگ ہسپتال میں بھی کوئی ایم نہیں ہے اس ہسپتال میں ایم ایس ڈاکٹر منیر غوری کی معطلی کے بعد کوئی ایم ایس میسر نہیں اس ہسپتال کا اضافی چارج گنگا رام کے ایم ایس ڈاکٹر احتشام کو دیا گیا ہے ڈسٹرکٹ میاں منشی ہسپتال میں بھی ریگولر ایم ایس موجود نہیں۔میاں میر ہسپتال میں بھی ایکٹنگ ایم موجود ہے اس حوالے سے محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایم ایس میرٹ پر لگائیے گئے ہیں ضرورت اور ایمرجنسی بنیادوں پر ایم ایس لگانے کے لئے ایم بی بی ایس کا ہونا ضروری ہے پھر بھی تحقیقات کریں گے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ 

مزید :

صفحہ آخر -