نارووال روڈ کی تعمیر سے متعلق کیس: حکومت کو تبادیں شیر کی ایک دن کی زندگی ہی کافی ہے، لاہور ہائیکورٹ 

نارووال روڈ کی تعمیر سے متعلق کیس: حکومت کو تبادیں شیر کی ایک دن کی زندگی ہی ...

  

 لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے نارووال روڈ کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران برہمی کااظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو بتادیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی ہی کافی ہے،پنجاب حکومت آنکھ مچولی کھیل رہی ہے، سرکاری افسران نے تماشہ بنا رکھا ہے،فاضل جج نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے سے متعلق کیس میں سیکرٹری پلاننگ،سیکرٹری،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے ،عدالت نے سیکرٹریز کو فرد جرم کے لئے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو جون تک ملتوی کردی،نارووال روڈ کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی شروع ہوئی تو عدالتی حکم پر وفاقی سیکرٹری پلاننگ حامد یعقوب شیخ اور سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب عدالت میں پیش ہوئے پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ ناروال روڈ کی تعمیر کے لیے منصوبہ پر مجموعی طور پر لاگت 25ارب روپے ہے، صوبائی حکومت10ارب روپے تک لاگت کے منصوبے کی منظوری دے سکتی ہے،اگر وفاق نے اس معاملے کو دیکھنا ہے تو اس کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کرنا ہے گا، پنجاب حکومت نے تئیس منصوبے منظوری کیلئے بھیجے تھے،سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب نے بتایا کہ26 ترقیاتی سکیموں کی تفصیلات وفاقی حکومت کو ارسال کی تھیں، تمام منصوبوں پر صوبائی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں مشاورت ہوئی مزید مہلت دی جائے تاکہ اس پرجیکٹ کو عملی طور پر شروع کیا جاسکے۔فاضل جج نے دونوں سیکرٹریز پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ سیکرٹری صاحب حکومت کو بتادیں شیر کی ایک دن زندگی کافی ہے،مجھے محسوس ہورہا ہے کہ تاخیری حربے کیوں استعمال کئے جارہے ہیں پنجاب حکومت نے کہا کہ وہ بری الذمہ ہے،وفاق کہتا ہے کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں، تو کون ذمہ دار ہے،؟   تقریباً سال سے زائد عرصہ ہوگیا عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا،بابا گرو نانک کی پیدائش کی پانچ سو سالہ تقریبات منائی جا رہی ہیں،پوری دنیا سے کروڑوں سکھ ان مذہبی مقامات پر آ رہے ہیں،حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھ رہی،درخواست گزار کے وکیل کاموقف ہے کہ عدالتی احکامات کے باجود ناروال روڈ کی تعمیرنہیں کی جارہی۔

لاہور ہائیکورٹ 

مزید :

صفحہ آخر -