چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو شریف ٹرسٹ کی اپیل پر 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم

   چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو شریف ٹرسٹ کی اپیل پر 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا ...

  

 لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے شریف ٹرسٹ کی غیر منافع بخش حیثیت تبدیل کرنے کیخلاف دائر درخواست پر چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کو شریف ٹرسٹ کی اپیل پر 2 ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا شہباز شریف اور نواز شریف خاندان کے شریف ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو شریف ٹرسٹ کی طرف سے رانا انتظار حسین ایڈووکیٹ نے چیئرمین ایف بی آر، چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو، کمشنر لیگل ان لینڈ ریونیو کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ شریف ٹرسٹ ایک نامور غیر منافع بخش ادارہ ہے، غیر منافع بخش ادارہ ہونے کی وجہ سے شریف ٹرسٹ کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے شریف ٹرسٹ کے زیر انتظام شریف میڈیکل کالج سمیت متعدد عوامی مفاد کے ادارے چلائے جا رہے ہیں،2018ء سے 30 جون 2020ء تک شریف ٹرسٹ کی حیثیت غیر منافع بخش ادارے کی رہی لیکن کمشنر ان لینڈ ریونیو نے شریف ٹرسٹ کی غیر منافع بخش ادارے کی حیثیت کی تجدید کی درخواست مسترد کرتے ہوئے شریف ٹرسٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا جواز بنا کر غیر منافع بخش ادارے کی حیثیت کی درخواست مسترد کردی  درخواست میں. مزید کہا گیا کہ شریف ٹرسٹ کے انتظامی اخراجات میں بھی 15 فیصد اضافے کو بھی جواز بنا کر غیر منافع بخش ادارہ کی حیثیت کی تجدید نہیں کی گئی جبکہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے فیصلے کے خلاف اپیل 3 ماہ سے زیر التواء ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک شریف ٹرسٹ کی غیر منافع بخش ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے اور شریف ٹرسٹ کی حیثیت کی تجدید کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

شریف ٹرسٹ

مزید :

صفحہ آخر -