سول سرونٹ ایکٹ میں او ایس ڈی تعینات کرنے کی کوئی شق موجود نہیں‘عدالت

 سول سرونٹ ایکٹ میں او ایس ڈی تعینات کرنے کی کوئی شق موجود نہیں‘عدالت

  

 لاہور(نامہ نگار)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے نامکمل اے سی آرز والے افسروں کی محکمانہ ترقیوں سے متعلق کیس میں قراردیاہے کہ سول سرونٹ ایکٹ میں او ایس ڈی تعینات کرنے کی کوئی شق موجود نہیں، او ایس ڈی  اے سی آرز لکھے جانیکا کوئی سوال پیدانہیں ہوتا، او ایس ڈی والے افسران کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے،یہ عمل غیر آئینی ہے،عدالت نے گریڈ 18کے افسرنجف اقبال بخاری کی درخواست کی سماعت کے دوران مزید ریمارکس دیئے کہ او ایس ڈی  اینی مرضی سے نہیں بلکہ حکومت لگاتی ہے،، او ایس ڈی بنانا خزانے پر بوجھ کے مترادف ہے، کسی افسرکے او ایس ڈی بننے کے دوران اے سی آر مکمل کروانا اس کی ذمہ داری نہیں، درخواست گزار کی جانب سے وقار اے شیخ ایڈووکیٹ کی جانب سے موقف اختیارکیا ہے کہ حکومت اکثر افسران کو او ایس ڈی بنا دیتے ہیں اور وہ سال سال تک او ایس ڈی ہی رہتے ہیں،درخواست گزار پی سی ایس آفیسر اور گریڈ اٹھارہ میں ڈائریکٹر پراسیکیوشن  تعینات ہے،درخواست گزار اپنی تعیناتی کے ایک سال کے دوارن او ایس ڈی رہا،ایک سال کی اے سی آرز نامکمل ہونے کو جواز بنا کر اسے پروموشن کیلئے نظر انداز کردیا گیا او ایس ڈی تعیناتی کے دوران اے سی آر مکمل کروانا درخواست گزار کی ذمہ داری نہیں،عدالت سے استدعاہے کہ موشن بورڈ کو محکمانہ ترقی کے کا جائزہ لینے کاحکم دیا جائے،پنجاب حکومت کے لاء افسر کی جانب سے درخواست کی مخالفت کی گئی  اور موقف اختیار کیا گیاکہ نامکمل اے سی آر والے آفیسرز ترقی کے اہل نہیں۔

ریمارکس 

مزید :

صفحہ آخر -