وزیرا عظم عمران خان کا بلوچستان میں ایل پی جی پلانٹ لگانے کا اعلان

وزیرا عظم عمران خان کا بلوچستان میں ایل پی جی پلانٹ لگانے کا اعلان
وزیرا عظم عمران خان کا بلوچستان میں ایل پی جی پلانٹ لگانے کا اعلان

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیرا عظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کو خوشخبر ی سنا نا چاہتا ہوں کہ ہمار ا ملک مشکل وقت سے نکل چکا ہے، بلوچستان میں اب صیح معنوں میں ترقی ہوگی۔بلوچستا ن کو پچھلے ادوار میں نظر انداز کیا گیا ہے،صوبے کو جو پیسہ دیا گیا وہ صیح معنوں میں خرچ نہیں کیا جا سکا، یہاں گیس پائپ لائن بچھانے کی بجائے ایل پی جی پلانٹ لگانا زیادہ بہتر رہے گا اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اگلے مالی سال میں یہاں ایل پی جی پلانٹ لگائیں گے۔زیارت بھی سیاحت کا حب بن سکتاہے۔جن کی عیدیں ،علاج باہر ہوں ان کو کیا پتہ کہ اللہ نے پاکستان کو کیا نعمتیں دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق زیارت میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج قائد اعظم ریذیڈنسی آنے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے، 20سال پہلے زیارت آیاتھا،سارا پاکستان گھوما ہوں زیارت کا پہلی بار فضائی نظارا کیا ہے جو بہت زبر دست رہا۔بلوچستان حملے میں شہید ہونے والے ایف سی کے جوانوں نے آج شہادتیں دیں ہیں ان جوانوں اور ان کے اہلخانہ کے لئے دعا کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہپہلے والی حکومتوں نے بلوچستان کو اپنا نہیں سمجھا مگر ہم نے سمجھا ہے،بلوچستان کو سب سے بڑا 700ارب کا پیکج دیا ہے،بلوچستان کے لئے جہاں سے بھی گجائش نکلے گی فنڈز دیں گے۔مجھے پیسہ خرچ کرنے کے لئے وزیرخزانہ سے بات کرنا پڑتی ہے، کہا جاتا ہے بلوچستان میں پیسہ کیوں خرچ کررہے ہیں وہاں تو ہماری حکومت نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت سڑکیں بنا رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں ٹریفک کم ہونے سے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ سے بھی سڑکیں بنانا ممکن نہیں ہے۔ہمارا زیادہ پیسہ قرضوں کے سود ادا کرنے میں چلاجاتا ہے مگر اس کے باجود جتنا پیسہ بلوچستان کو دے سکتے تھے اتنادیا۔ پنجاب اور کے پی حکومت کہتی ہے کہ بلوچستان پر زیادہ ہی مہربان ہوگئے ہیں، پہلی بار بلوچستان میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔

ملکی معاشی صورتحا ل کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ہماری گروتھ ریٹ منفی میں تھی اور معاشی صورتحال بہترنہیں تھی، رواں سال کے معاشی اعدادو شمار کے مطابق ہماری ملکی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور اگلے سال گروتھ ریٹ مزید اوپر جائے گا،جب ہماری اگلی حکومت آئے گی تو ملک اورتیزی سے اوپر جائے گا۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو مقروض کردیا، فضل الرحمان کا نام زبان پر نہیں لانا چاہتا کیوں کہ وہ قابل ذکر آدمی نہیں،اپوزیشن والےکبھی کہتے ہیں کہ تین مہینوں میں حکومت گرادیں گے اور کبھی کچھ او ر تاریخ دے دیتے ہیں، ہمار ی حکومت آتے ہیں ان لوگوں نے شور مچایا کہ ملک کا بیڑ ا غرق ہوگیا،قوم کو یہ کہتے رہے کہ ملک تباہ ہوگیا، معیشت تباہ ہوگئی اور غریب کا براحال ہوگیا۔گروتھ ریٹ کے اعدادوشمار چار سے اوپر آئے تو اپوزیشن نے ماننے سے انکار کردیا ، اپوزیشن مشکل میں پڑی ہے مجھے ان پر ترس آتاہے۔

عمرا ن خان کا کہنا تھا کہ میں اقتدار میں لندن محل بنانے کے لئے نہیں آیا ہوں ، میں یا اپنے لئے پیسہ بنا سکتا ہوں یا اپنی قوم کے لئے ، آپ ملائیشیا کو دیکھیں کہ کیسے مہاتیر محمد نے وہاں ترقی کروائی، مہاتیر محمد کی کسی باہر ملک میں کوئی جائیدادنہیں ہے،مہاتیر محمد کے بعد ایسا شخص آگیا جس کو پیسہ باہر لے جانے کا شوق تھا،وہ شخص آج جیل میں ہے اور اس کی کرپشن کی وجہ سے ملائیشیا مشکل حالا ت میں ہے۔

وزیرا عظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کارڈ کی شکل میں پورا ہیلتھ سسٹم آرہا ہے،خیبر پختونخوا میں میں ہم نے اپنے پچھلے دور حکومت میں سب سے تیزی سے غربت کم کی، وہاں ترقی کی سب سے بڑی وجہ سیاحت تھی،دوسری چیز ہیلتھ کارڈ تھی اور ہماری حکومت نے آدھی آبادی کو ہیلتھ کارڈ دیا۔اب خیبر پختونخوا کی ساری آبادی کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہیں اور اس سال کے آخر تک پنجاب کے تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ مل جائے گا۔ہیلتھ کی وجہ سے دیہاتوں میں بھی پرائیویٹ ہسپتالوں کا جال بچھ جائے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -