"حامد میر کی اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر کی ذمہ داری لینا ہمارے لیے مشکل ہوگیا" جیو انتظامیہ نے واضح موقف دے دیا

"حامد میر کی اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر کی ذمہ داری لینا ہمارے لیے ...

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنگ جیو گروپ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے اسد طور پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں جو تقریر کی گئی وہ دائرہ اختیار سے باہر تھی جس کی ذمہ داری لینا ادارے کیلئے مشکل ہوگیا تھا اس لیے پروگرام کیپٹل ٹاک عارضی میزبان کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، اس دوران قانونی اور ایڈیٹوریل ٹیم حامد میر کے بیان کا جائزہ لے گی۔

"جنگ، جیو گروپ کا مؤقف" کے عنوان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ " سول سوسائٹی اورمیڈیا حقوق کی تنظیموں کی جانب سے صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں جیو کے سینئر اینکر حامد میر نے تقریر کی جس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ ہم ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلاء کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔"

جنگ جیو انتظامیہ نے ماضی میں ادارے پر عائد کیے جانے والے الزامات اور پابندیوں کا حامد میر کی حالیہ تقریر سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ " ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دوسری میڈیا آرگنائزیشن کے مقابلے میں کرپشن، توہین رسالت ﷺ اور غداری جیسے سیکڑوں جھوٹے الزامات پر جنگ جیو گروپ کو بند کیا گیا، ہمارے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، اپنے ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھنے میں آرگنائزیشن کو 10 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ تاہم گروپ اور اس کے ایڈیٹرز کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر یا تحریر کے مواد کی ذمہ داری کیسے لیں، جو واقعتاً ایڈیٹوریل ٹیم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی منظوری دی ہو۔"

جنگ جیو انتظامیہ نے حامد میر کی احتجاجی مظاہرے میں کی گئی تقریر سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے کہا کہ " حامد میر اور دوسرے صحافی اپنے ساتھی صحافی پر حملے کے حوالے سے جس غم و غصے یا مایوسی کا شکار ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تاہم صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے بہتر طریقے اور ذرائع موجود ہیں۔"

اپنے بیان میں جنگ جیو انتظامیہ نے حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات نہ کرنے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ " پاکستان میں صحافیوں کی بہت بڑی تعداد عوام کے جاننے کے حق کے لیے لڑتے ہوئے جانوں اور آزادی سے محروم ہوئی۔ پی ایف یو جے، ایچ آر سی پی، اے پی این ایس سی، اے ایم ایم ای ڈی اور سی پی این ای اس کے ساتھ ساتھ میڈیا حقوق کی عالمی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ صحافیوں کو ایسے اقدامات کے خلاف تحفظ دیا جائے مگر اب تک کسی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔"

خیال رہے کہ صحافی اسد طور پر حملے کے بعد نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرے میں تقریر کرتے ہوئے حامد میر نے پاک فوج پر براہ راست الزامات لگائے تھے جس کے بعد جنگ جیو انتظامیہ نے انہیں پروگرام کیپٹل ٹاک کی میزبانی سے ہٹا کر چھٹیوں پر بھیج دیا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -سندھ -کراچی -