پی آر سی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں ’نیو کلیئر تحقیقی مرکز‘ قائم کرنے کا مطالبہ کردیا

پی آر سی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں ’نیو کلیئر تحقیقی مرکز‘ قائم ...
پی آر سی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں ’نیو کلیئر تحقیقی مرکز‘ قائم کرنے کا مطالبہ کردیا

  

مکہ مکرمہ (محمد عامل عثمانی )مجلس محصورین پاکستان (PRC) نے 28 مئی 1998 کو پاکستان کے ایٹمی دھماکہ کی23 ویں برسی کے موقع پر "ایٹمی ٹیکنالوجی کا پرامن استعمال ’ ہماری ضرورت اور ذمہ داری" پر مذاکرہ کیا۔ چیئرمین (پی آر سی) احتشام الدین ارشد نظامی کی صدارت میں ہونے والے اس مذاکرہ کے مہمان خصوصی مشہور دانشو ر ، سکالر اور سابق سعودی سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی تھے۔اعزازی مہمانان میں ثوبیہ خان نیازی ، طاہرہ رباب ، زیب النسا زیبی شامل تھیں۔ مقررین اور شاعروں میں فیصل طاہر خان ’ ملک ز بیر ، انجیر نیاز احمد، طارق ملک ، شمس الدین الطاف، فہد کھوکھر، زمرد خان سیفی، انجیر محسن علوی ، سیدمسرت خلیل اور راقم محمد عامل عثمانی شامل تھے۔ 

انجیر قاری محمد آصف نے قرآن پاک سے تلاوت کلام پاک اور ترجمہ پیش کیا جس کے بعد احتشام الدین ارشد نے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی 28 مئی 1998 میں پاکستان کو دنیا کے ایٹمی ممالک کی صف میں شامل کردینے کی تعریف کی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ سوال بھی یاد دلایا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر اورمحصورین پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کیا حقیقی کارروائی کی ؟۔ انہوں نے ڈاکٹر اے کیو خان سے درخواست کی کہ وہ محصورین پاکستانیوں پر مضمون لکھیں نیز ہماری حکومت کو محصورین کی جلد وطن واپسی پر آمادہ کریں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر علی الغامدی نے اپنے خطاب میں 1998 کا ایٹمی دھما کہ کو پاکستانی دفاع کے لئے ایک اہم سنگ میل بتاتے ہوے ہوے اسے پوری امت کے لئے بھی اہم قرار دیا۔کنوینر سید احسان الحق نے سمپوزیم میں شریک تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوے ذوالفقارعلی بھٹو ’ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ’ صدر ضیا الحق ’ غلام اسحق اور نواز شریف سمیت تمام ان محبان وطن پاکستانیوں کو ایٹمی صلاحیت کی تکمیل تک کے کرداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے ۔مندرجہ ذیل قرارداد پیش کی جسے سامعین نے منظور کیا ۔

 ہم وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی سربراہی میں "نیوکلیئر ریسرچ یونیورسٹی" بنائیں ، تاکہ بجلی کی پیداوار کو تعلیم دی جا سکے۔ جس کے  نتیجہ میں زراعت ، میڈیکل اور صنعتی ضروریات وغیرہ کو بڑھاوا ملے گا اور مجموعی طور پر نا صرفپاکستانیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے نیز وہ برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کما یاجاسکتا ہے۔ 

 ہماری حکومت او آئی سی ، یو این او ، امریکہ اوردیگر سپر طاقتوں کو بھارت پر اثر و رسوخ کے لئے اثر و رسوخ کے لئے استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہ ظلم و ستم کو روک سکے اور اپنے عوام کی مرضی کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرے۔ ہندوستان کو لازمی ہے کہ وہ کشمیر میں اپنی افواج کو ختم کرے اور اگست 2019 میں منسوخ شدہ حیثیت کو بحال کرے۔ 

علاوہ ازیں ہم وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ تنظیم تشکیل دیں اور محصورین پاکستانیوں کی وطن واپسی اور بحالی کے عمل کو دوبارہ شروع کریں۔  رابطہ ٹرسٹ کا تخمینہ 50 ملین ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کو محصورین میں رایے شماری کرانی چاہئے تاکہ وہ بنگلہ دیش یا پاکستان کو اپنی پسند کے مطابق ان کے تصفیہ کا انتظام کریں۔ معروف شاعر انجینئر سید محسن علوی کو اس سمپوزیم کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا گیا۔ سمپوزیم میں سید محسن علوی اور زمرد خان سیفی نے حمد باری تعالٰی و نعت کے علاوہ یوم تکبیر اور محصورین پاکستانیوں پر نظمیں پیش کیں۔

مزید :

تارکین پاکستان -