سیا سی نر سر ی کہیں مر جھا نہ جائے

سیا سی نر سر ی کہیں مر جھا نہ جائے
سیا سی نر سر ی کہیں مر جھا نہ جائے

  



دنیا کے تما م حقیقی جمہوری ممالک میں مقا می حکومتوںکے قیا م کے لئے بلدیا تی انتخا بات اپنے مقر رہ آئینی وقت پر ہو تے رہتے ہیں اور ان جمہوری ممالک میں قو می سیا ست کی سطح پر ہر دور میں نئی جمہوری اور حقیقی قیادت سامنے آتی رہتی ہے ، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں عام انتخا بات کی طر ح مقا می حکو متو ں کے قیام کے لئے بلدیاتی انتخا با ت بھی اپنے آئینی وقت پرشاذونادر ہی ہو ئے ہیں ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خو د کو آئین اور جمہوریت کی محافظ سمجھنے والی ہماری جمہوری حکومتیں بھی مقامی حکو متو ں کے لئے بلد یا تی انتخا بات کے انعقاد میںہمیشہ ٹال مٹو ل سے کا م لیتی آئی ہیں ۔آئین کی رو سے ہمارے ملک میں ہر چار سال بعدبلدیا تی انتخابات ہونے چاہیے، لیکن ملک کے تین صو بوں میں بلد یاتی انتخابات آخر ی مرتبہ 2005میں ہوئے تھے،جبکہ پچھلے سال 7دسمبر 2013کو بلو چستان کی حکو مت نے بلد یا تی انتخا بات کر کے نہ صرف اپنی آئینی ذمہ داری پور ی کی ہے، بلکہ الیکشن کمیشن کی طر ف سے دیے گئے قلیل مدتی شیڈول میں بلد یا تی انتخا بات کرو اکر ایک تاریخ رقم کی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ 7دسمبر 2013کو ہو نے والے بلد یا تی انتخا بات بلو چستان میں کسی پر امن سیا سی اور جمہوری انقلا ب سے کم نہ تھے تو غلط نہ ہوگا ۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کاکہنا ہے کہ صو بے میں ہو نے والے بلدیاتی انتخا بات نے بلو چستان کو پاکستان کے مز ید قر یب کر دیا ہے ، لیکن افسو س کہ ملک کے باقی تین صو بو ں پنجا ب ، سندھ اور خیبر پختو انخو ا میں بلد یاتی انتخا بات کے انعقا د میں تاخیر اور غیر یقینی صو رت حا ل کی وجہ سے کئی سو ال اٹھ رہے ہیں۔

سند ھ اور پنجا ب میں بلد یاتی انتخا بات کے لئے کی گئی غیر قا نو نی حلقہ بند یو ں کی وجہ سے دو نو ں صو بوں میں بلد یا تی انتخا بات کا عمل غیر معینہ مد ت کے لئے رک گیا ہے ، حالانکہ الیکشن کمیشن کی طر ف سے دیئے گئے شیڈول (جو دونوں صو بائی حکومتو ں نے تجویز کیاتھا) کے مطابق پنجا ب اور سندھ میں جنو ری میں ہو نے والے بلدیاتی انتخا بات میں حصہ لینے والے امیدواران نے اپنی رابطہ مہم نہ صر ف شر وع کر دی تھی، بلکہ مختلف گلیو ں محلو ں میں اپنی سیا سی طاقت کا مظاہر ہ کر تے ہو ئے بھی نظر آرہے تھے ۔ الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق صر ف پنجا ب میں تقر یبا دو لا کھ چھ ہز ار چار سو چھیالیس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے ۔ تما م سیا سی جماعتو ں چا ہے ان کا تعلق حز ب اقتدار سے ہو یا حزب اختلا ف سے انہیں یا د رکھنا چاہیے کہ بلد یا تی انتخابات میں حصہ لینے امیدوارن کی اکثر یت ایسے سیا سی کارکنو ں کی ہے جنہوں نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے نہ صر ف قر بانی دی ہے، بلکہ آمر یت کے دور میں ان سیا سی کارکنو ں نے اپنی اپنی سیا سی جماعتو ں کا وجو دبر قر ار رکھنے میں بھی اہم کر دار ادا کیا ہے ۔ 2008ءمیںجب ملک کئی سا لہ آمر یت کے دور میں جمہوریت کی پٹڑ ی پر چڑ ھا تو تما م سیا سی جما عتو ں کے کار کنو ںنے امید لگا ئی تھی کہ اب ملک میں مقا می حکومتو ں کے لئے بلد یا تی انتخابات تسلسل کے ساتھ ہو ں گے تو وہ بھی ان انتخا بات میں حصہ لے کر حکو مت اور جمہوریت کا حصہ بن جائیں گے، لیکن پورے پانچ سال سیا سی کارکنو ں کا یہ خواب پور ا نہ ہو سکا اور اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ ا گر پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں بلدیا تی انتخابات کروا دیئے ہو تے تو شاید مئی 2013ءمیں ہو نے والے عام انتخا بات میں اسے ایسی شکست سے دوچار نہ ہو نا پڑ تا، جس کا اسے سامنا کر ناپڑا ۔

 پھر مئی 2013ءمیںعام انتخا بات کی نتخا بی مہم میں تما م سیا سی جماعتو ں نے قو م اور خصو صااپنے کارکنو ں سے ملک میں بلدیا تی انتخابات کر انے کاوعدہ کیا تھا، جس سے سیا سی جماعتو ں کے کارکنو ں نے عام انتخا بات میں پورے زور و شور سے اپنی اپنی سیا سی جماعتو ں کی انتخا بی مہم چلا ئی تھی، لیکن افسوس کہ مو جو دہ صورت حا ل میں بلوچستان کے علا وہ تینوں صو بے جو تما م سیا سی جماعتو ں کے گڑ ھ سمجھے جاتے ہیں۔ مَیں ابھی تک بلدیاتی انتخابات کا انعقا د مستقبل قر یب میں نظر نہیں آرہا، جبکہ سندھ اور پنجاب میں دو دفعہ بلدیاتی انتخا بات کے شیڈول کی منسو خی نے قو م اور تما م سیا سی کارکنو ں کو شدید مایو س کر دیا ہے ۔ سند ھ، پنجاب اور خیبر پختو انخو ا کی حکومتو ں کے علاوہ تمام سیا سی جماعتو ں کو یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ اگران تین صوبو ں میں مستقبل قر یب میں بلدیا تی انتخابات کے انعقاد میں دیر ہو ئی تو سیا سی کارکنو ں کی مایوسی اوربددلی ایسی طاقتو ں کی راہ ہمو ار کر دے گی، جو ملک میں مو جو د آئینی ، جمہوری اور انتخا بی نظام پر یقین نہیں رکھتیںاور ملک کو جمہوری راستے سے ہٹانے کے بہا نے تلاش کر تی رہتی ہیں ۔تاریخ گو اہ ہے کہ ملک میں غیر جمہوری طاقتیں اس وقت کامیا ب ہو ئی ہیں، جب جمہوری حکو متیں اپنی آئینی ذمہ داریا ں پور ی کرنے میں ناکام ثابت ہو ئیں ۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140A میں واضح لکھا ہو ا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بلدیا تی انتخابات کر انا تما م صو بائی حکومتو ں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اس لئے پنجا ب ، سندھ اور خیبر پختو انخوا کی صوبائی حکو متیں اپنی آئینی ذمہ داریا ں پور ی کر تے ہو ئے اپنے صو بو ں میں جلد از جلد بلدیا تی انتخا بات کا انعقا د یقینی بنائیں،تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کا سفر شر وع ہو سکے اور یہ ایک مسلمہ سیاسی اصو ل ہے کہ مقا می حکو متیں قو می سیاست کی نر سر ی ہو تی ہیں۔  ٭

مزید : کالم