مصر دوبارہ فضائی کارروائی کرسکتا ہے، لیبیا

مصر دوبارہ فضائی کارروائی کرسکتا ہے، لیبیا

  

 قاہر ہ(آن لائن )بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ عبوری لیبی حکومت کے سربراہ عبداللہ الثنی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں موجود مصری شہریوں کو دولت اسلامی’’داعش‘‘ کی جانب سے خطرہ لاحق ہوا تو مصر اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے داعش کے ٹھکانوں پر دوبارہ فضائی کارروائی کرے گا۔انہوں نے عالمی برادری کی جانب سے لیبیا کو بر وقت اسلحہ کی فراہمی نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عالمی برادری نے ہمیں اسلحہ فراہم نہ کر کے بڑی ’’کوتاہی‘‘ کا ارتکاب کیا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق لیبی وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ مصر کے دوران قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔ یاد رہے کہ مصری جنگی طیاروں نے 16 فروری کو لیبیا میں ’’داعش‘‘ کے مبینہ ٹھکانوں پر اس وقت بمباری کی تھی جب شدت پسند تنظیم نے 21 مصری قبطیوں کو یرغمال بنانے کے بعد ذبح کر دیا تھا۔اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے لیبی وزیر اعظم نے کہا کہ جب بھی مصر کو لیبیا میں اپنے شہریوں کو خطرات محسوس ہوئے وہ انہیں بچانے کے لیے فضائی کارروائی ضرور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں داعش کے خلاف مصری فوج کی کارروائی ان کی حکومت کی اجازت سے ہوئی تھی اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ درایں اثناء لیبی وزیر دفاع کرنل مسعود رحومہ نے کہا ہے کہ مصر اور ان کے ملک کے درمیان داعش کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی تاہم مصری فوج کے زمینی آپریشن کا کوئی امکان نہیں ہے۔وزیر اعظم عبداللہ الثنی کے ہمراہ قاہرہ کے دورے کے دوران انہوں نے مصری حکام سے ملاقات کی اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون بڑھانے کے مختلف معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی اور سرحدوں پر امن وامان کے قیام کے لیے لیبیا کو پڑوسی ممالک کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ایک غیر ملکی نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لیبی وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے ان کی فوج کو اسلحہ فراہم نہ کیا تو داعش پورے لیبیا پر قبضہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت طرابلس اور سرت سمیت کئی شہر داعش کی براہ راست کنٹرول میں ہیں۔ ان گروپوں کو یہی نہ کچلا گیا تو کل کو یہ افریقا کے دوسرے ممالک اور یورپ تک پھیل سکتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -