بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ مذاکراتی عمل کی بحالی خوش آئند ہے

بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ مذاکراتی عمل کی بحالی خوش آئند ہے

  

 سرینگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس ع کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ مذاکراتی عمل کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا کوئی بھی عمل تب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتاجب تک نہ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آتی ۔ جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ بھارت کے خارجہ سیکریٹری کا دورہ پاکستان اور دونوں ممالک کے درمیان معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت اور جموں کشمیر کے عوام بھارت اور پاسکتان کے درمیان ہمیشہ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کے متمنی رہے ہیں کیونکہ دوستی ، خیر سگالی اور اعتماد سازی کا ماحول مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے کروڑوں عوام کے علاوہ جموں کشمیر کے سوا سو کرور عوام کے مصائب کے خاتمے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ حریت چیئرمین نے کہا ۔کہ مسئلہ کشمیر کوئی دو طرفہ ، علاقائی یا زمین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سوا سو کروڑ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے جس کو کسی حکومت سازی یا کسی انتخابی عمل سے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حکومت سازی کا عمل تقدیر سازی یا حق خود ارادیت کا نعم البدل ثابت نہیں ہو سکتا اور نہ یہاں کے عوام کے جذبات اور خواہشات کو پس پشت ڈال کر کسی مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بناجا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت دونوں ممالک کے درمیان ہر اس مذاکراتی عمل میں تعاون دینے کیلئے تیار ہے جس میں کشمیری عوام کی مستند سیاسی قیادت کو شامل کر کے مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نکالنا مطلوب ہو ۔ میرواعظ نے کشمیر میں وبائی بیماری سوائن فلو کو قہر انگیز سیلاب کے بعد پوری قوم کیلئے قدرت کی جانب سے ایک اور آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس آفت سے نجات کیلئے لازمی ہے کہ ہم جہا ں ضروری احتیاطی تدابیر اختیا رکیں وہیں اپنے نفس اور دلوں کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ ہوں ۔

مزید :

عالمی منظر -