جرمن پارلیمان نے یونان کے امدادی پیکج میں چار ماہ توسیع کی منظوری دیدی

جرمن پارلیمان نے یونان کے امدادی پیکج میں چار ماہ توسیع کی منظوری دیدی

  

 برلن (آن لائن)جرمن پارلیمان نے یونان کے دیے جانے والے امدادی پیکج میں چار ماہ کی توسیع کی واضح طور پر منظوری دے دی ہے۔ متعدد ارکان نے نئی یونانی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے باوجود اس قرارداد کی حمایت کی۔جرمن پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ میں 542 ارکان نے اس بات کے حق میں ووٹ دیا کہ یونان کو مزید چار ماہ کی مہلت دی جانی چاہیے جبکہ 32 نے اس کی مخالفت کی۔ اس موقع پر 13 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس سلسلے میں ووٹنگ کے آغاز سے قبل جرمن وزیر خزانہ وولفگانگ شوئبلے نے اس موضوع پر بحث کا آغاز کیا تھا اور جو دو گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔اس موقع پر شوئبلے نے اپنے پارلیمانی ساتھیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ تحفظات اور غلط فہمیوں کے باوجود اس قرارداد کو منظور کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جرمن پارلیمان کا اجلاس طلب کرنا ان کے لیے آسان کام نہیں تھا۔ جرمن ٹیکس دہندگان کی رقم سے یونان کے لیے مزید اربوں یورونہیں دیے جا رہے اور نہ ہی اس امدادی پروگرام میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ توسیع یونان کو جاری منصوبوں پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کے لیے مزید وقت دینے کے لیے دی جا رہی ہے۔شوئبلے نے مزید کہا کہ یورو زون کے اندر دیگر رکن ممالک کے ساتھ یکجہتی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک دوسرے کو بلیک میل کیا جائے۔ انہوں نے یونان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یکجہتی کا تعلق بھروسے سے بھی ہے۔یونان کی نئی حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل ہی عالمی مالیاتی ادارے، یورپی یونین اور یورپی مرکزی بینک کی جانب سے دیے جانے والے امدادی پیکج کی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم دوسری جانب اس ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے امداد کی بھی ضرورت تھی۔ ایسے میں یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک اور یونان کے مابین ایک خلیج سی حائل ہو گئی تھی۔ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ایتھنز حکومت نے اس امدادی پیکج میں توسیع کے لیے دوبارہ باقاعدہ درخواست دی اور ایک بچت منصوبہ بھی پیش کیا۔ یورپی پارلیمان پہلے ہی اس منصوبے کو تسلیم کر چکی ہے۔ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ ایتھنز حکومت توسیع کے اس معاہدے کو منظور کروانے کے لیے پارلیمان سے رجوع کرے گی یا پھر آئینی فرمان کے ذریعے ہی اس کی توثیق کرائے گی۔ یونان کے نئے وزیراعظم الیکسس سپراس کو اس معاہدے کی وجہ سے اپنی جماعت سیریزا پارٹی میں بھی اختلاف رائے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جماعت کے کچھ عہدیداروں کا موقف ہے کہ امدادی پیکج میں توسیع کے لیے سپراس نے بہت زیادہ شرائط تسلیم کی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -