لیبیا کے بعد یمن میں بھی دو متوازی حکومتیں قائم ہو گئیں

لیبیا کے بعد یمن میں بھی دو متوازی حکومتیں قائم ہو گئیں

  

 صنعاء ( آن لائن ) لیبیا کے بعد یمنی بغاوت کے بعد بھی ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہو گئی ہیں۔ دونوں ملکوں میں ایک حکومت کو آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہے جسے عالمی برادری کی بھرپور حمایت حاصل ہے جبکہ دوسری غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔ اس ضمن میں یمن میں حوثیوں کی مسلح بغاوت کے بعد صدر عبد ربہ منصور ھادی نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز جنوبی یمن کے علاقے عدن کو بنایا ہے۔خبر ہے کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت نے اپنے سفارت خانے صنعاء سے عدن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ صدر ھادی کو سفارتی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ نیز یہ بات ثابت کی جا سکے۔ کہ یمن میں آئینی حکومت صدر ھادی کی نگرانی میں کام کر رہی ہے جبکہ حوثیوں کی قائم کردہ متوازی حکومت کو آئینی حیثیت حاصل نہیں ہے۔عرب میڈیا کے مطابق جمعرات کو سعودی عرب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ہم نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کو ملک کا آئینی صدر قرار دیتے ہوئے صنعاء میں اپنے سفارت خانے کو عدن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی سفارت خانوں کی صنعاء سے عدن منتقلی کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے بھی عدن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کویتی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ سفارت خانوں کی صنعاء سے عدن منتقلی حال ہی میں خلیج تعاون کونسل کے وزراء خارجہ سطح کے اجلاس میں طے پائے فیصلے کی روشنی میں کی جارہی ہے۔ اجلاس میں خلیجی ممالک نے یمن میں سیاسی بحران ختم نہ ہونے کی صورت میں اپنے سفارت خانے صدر ھادی کے زیر انتظام علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ انہیں آئینی اور سفارتی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں امن وامان کے قیام کا واحد راستہ خلیجی ممالک کے تیار کردہ امن فارمولے پراس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرنے میں مضمر ہے۔امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ صنعاء میں ان کے سفارت خانے کی عدن منتقلی کا فیصلہ حتمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعاء میں حوثیوں کی غیر آئینی حکومت کے قیام کے بعد خلیجی ممالک کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ صنعاء میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سفارت خانے وسط فروری میں حوثیوں کے ہاتھوں صدر منصور ھادی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد بند کر دیے گئے تھے۔ اب خلیجی رہنما عدن ہی میں صدر ھادی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرن عبدالطیف الزیانی نے بھی حال ہی میں عدن ہی میں صدر ھادی سے ملاقات کی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -