روس سابق نائب وزیراعظم بورس نیمتسوو کو ہلاک کر دیا گیا

روس سابق نائب وزیراعظم بورس نیمتسوو کو ہلاک کر دیا گیا

  

 ماسکو (این این آئی)روس میں حزب اختلاف کے سرکردہ رہنما اور ملک کے سابق نائب وزیراعظم بورس نیمتسوو کو ہلاک کر دیا گیا ۔روسی پولیس کے مطابق ایک نامعلوم حملہ آور نے نیمتسوو کو مرکزی ماسکو میں چار گولیاں ماریں۔پولیس نے بتایا کہ انہیں کریملن کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب وہ پل عبور کر رہے تھے اور وہ اس حملے کے چند گھنٹے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ہلاکت سے قبل انھوں نے اپنے ساتھیوں سے اتوار کو ماسکو میں ہونے والے اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی جو یوکرین میں جنگ کے خلاف منعقد کی جائیگی اپنی آخری ٹویٹ میں نیمتسوو نے روس کی منتشر حزبِ اختلاف کو جنگ کے خلاف ان کی ریلی میں شرکت کیلئے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔انہوں نے نے لکھا تھا کہ اگر آپ روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر آپ پوتن کی جارحیت کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں تو مریانو میں سپرنگ مارچ میں یکم مارچ کو ضرور شرکت کریں انہوں نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ سوبیسدنک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور 10 فروری کو ایک مضمون میں انہوں نے لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ پوتن مجھے مروا دیگا۔انہوں نے لکھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اْن افراد میں سے ہیں جنہوں نے یوکرین پر جنگ مسلط کی میں اس پر انہیں اس پر انہیں کیوں نہ ناپسند کروں۔ روسی صدر کے دفتر کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے بورس کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔صدر پیوٹن کے ایک ترجمان دمیتری پیشکوو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشہ ور قاتلوں کا کام لگتا ہے ٗ صدر نے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو ظالمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں

مزید :

عالمی منظر -