تھری اور فور جی سے 2لاکھ گنا زیادہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کا تجربہ

تھری اور فور جی سے 2لاکھ گنا زیادہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کا تجربہ

  

 لندن(این این آئی) برطانیہ میں تھری اور فور جی سے 2لاکھ گنا زیادہ تیز رفتار ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا گیا میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کم سے کم وقت میں ڈیٹا کو ایک موبائل سے دوسرے موبائل میں منتقل کرنے کا ریکارڈ قائم کردیا اور ایک ٹیرابٹ یعنی ایک کھرب ہندسوں کو صرف ایک سیکنڈ میں منتقل کردیا ۔ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ٹی بی پی ایس کی مدد سے ایک فیچر فلم کے سائز سے سو گنا زیادہ مواد صرف تین سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا یہ اسپیڈ پاکستان میں موجودہ ڈاؤن لوڈ اسپیڈ سے دولاکھ گنا زیادہ تیز رفتار ہے۔ فائیو جی آئی سی کے ڈائریکٹر پروفیسر راحم تفازولی نے کہا کہ ہم نے دس مزید بریک تھرو ٹیکنالوجیز بنائی ہیں، جن کی مدد سے فائبر آپٹکس والی اسپیِڈ وائرلیس پر بھی حاصل کی جاسکے گی۔ پروفیسر راحم تفازولی کے مطابق ابھی یہ تجربہ لیب میں کیا گیا اور یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی دنیا میں بھی اتنی ہی تیز رفتار ہوگی یا نہیں؟ یہ ٹیکنالوجی آئی ٹی یو یا آئی ٹرپل ای کے عالمی معیار پر پورا اترتی بھی ہے یانہیں؟ برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے فاؤ جی انوویشن سینٹر کے سربراہ کے مطابق امید ہے 2020ء تک یہ ٹیکنالوجی برطانیہ میں دستیاب ہوگی۔

مزید :

عالمی منظر -