قطار کو پھلانگنا ضروری نہیں ہوتا

قطار کو پھلانگنا ضروری نہیں ہوتا

  

ہمارے ٹی وی چینلوں کے مقابلہ میں اخباروں کی اچھی بات یہ ہے کہ ان میں بریکنگ نیوز نہیں ہوتی ۔ اخبارات خبر کی اہمیت کو اجاگر تو کرتے ہیں، مگر یہ صحافیانہ شدت پسندی ذرا اور قسم کی ہے ۔ صفحہۂ اول کی شان سب سے الگ ہے ، اس سے کم سطح کی خبروں کے لئے بیک پیچ اور مزید نچلے درجہ پر اندرونی صفحات ۔ فرنٹ پیج پر سرخی کا سائز بھی اہم ہوتا ہے اور خبر کی ظاہری شکل و شباہت بھی ۔ مراد ہے بینر ہیڈ لائن ، باکس آئٹم ، سپر لیڈ اور کبھی کبھار ریورس رنگوں میں چھپی ہوئی نمایاں خبریں ۔ آج سے ٹھیک چار دن پہلے ایک انگریزی روزنامہ کے میٹرو صفحات پر یہ خبر چھپی کہ موبائل فون کی بائیو میٹرک تصدیق کرانے والے ایک عدالتی افسر کو اس لئے جسمانی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے طویل انتظار سے تنگ آکر بے چینی کے عالم میں قطار کو پھلانگنے کی کوشش کی تھی ۔ خبر نواحی شہر قصور کی ڈیٹ لائن سے شائع ہوئی ہے اور واقعہ بلکہ وقوعہ ہے تھانہ پتوکی کے علاقے کا ۔ اخباری اطلاع کے مطابق ، یہ عدالتی افسر جب اپنی سم کی تصدیق کے لئے پہنچے تو وہاں اسی کام کے لئے ایک ہجوم عاشقاں پہلے سے قطار باندھے کھڑا تھا ۔ افسر نے کچھ دیر تو انتظار کیا ، لیکن جیسے ہی صبر کا پیمانہ چھلکا تو جیسا کہ ہمارے پڑھے لکھوں کا دستور ہے ، قطار میں سے نکل کر کاونٹر پہ گئے اور تعارف کرا کے کہا کہ ساڈا کم پہلے کر دیو ۔ عملے نے ان کا کام کسی اور طریقہ سے کیا ۔ یوں ہاتھا پائی ہوئی ، پولیس بلائی گئی اور اس نے عدالتی افسر کو گھر کی دہلیز پر نہیں، تھانے کی چوکھٹ پر اپنے منفرد طریقہ سے انصاف مہیا کرنے کی کوشش کی ۔ ہاں ، یہ پتا چلتے ہی کہ سائل عام آدمی نہیں ، پہلے تو انہیں چائے پلائی ، پھر از راہ احتیاط ان کے حق میں فوجداری مقدمہ بھی درج کر لیا ۔ یہ کہانی اس نہایت پوپلی تربیت کا اچھا نمونہ ہے جس میں پولیس کو ایک ہی سانس میں لوگوں کو دھتکارنا اور چمکارنا سکھا دیا جاتا ہے ۔ اس کا پہلا تجربہ مجھے برسوں پہلے راولپنڈی میں کمیٹی چوک کے عین وسط میں ہوا جہاں ’ریڈ‘ پڑی ہوئی تھی ، یعنی ہر گاڑی کے کاغذات کی چیکنگ کی جا رہی تھی ۔ مانگے کی موٹر بائیک پہ ایک اور پڑھے لکھے دوست کو پیچھے بٹھا کر مری روڈ کے راستے اسلام آباد جانا کوئی جرم تو نہیں ، مگر کار ہو یا موٹر سائیکل ، اس کی ایک رجسٹریشن بک ہوا کرتی ہے ، پھر انشورنس اور ڈرائیونگ لائسنس ۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔ سو ، پولیس افسر کے ساتھ کھڑے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے بڑی تمکنت سے کہا ’اس شریف آدمی کے کوائف نوٹ کر کے موٹر سائیکل امپاؤنڈ کر لیں ‘ ۔ ’میرے کاغذات تو لاہور میں ہیں جہاں میں گورنمنٹ کالج میں پڑھاتا ہوں‘ ۔ یہ سن کر ان کا دل پسیج گیا۔ یہاں تک پہنچ کر آپ کو کہانی کے سبھی کرداروں سے ایک گونہ ہمدردی پیدا ہو چکی ہو گی ۔ ساتھ ہی یہ توقع بھی کر رہے ہوں گے کہ معافی مل جانے پر میرا دوست اور میں خوشی خوشی سنٹرل اسپتال ، چاندنی چوک ، زیرو پوائنٹ والے روٹ پہ روانہ ہو گئے ۔ یہیں مجسٹریٹ صاحب نے احسان جتانے کے لئے انگریزی میں نصیحت کی کہ آپ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں ہیں ، اتنا تو پتا ہونا چاہئیے کہ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلانا جرم ہے ۔ ’مگر جناب ، ایک جوڈیشل افسر کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ نمبر پلیٹ کے بغیر کار چلانا بھی جرم ہے‘ ۔ میں نے تاڑ لیا تھا کہ مجسٹریٹ صاحب مجھ سے بات کرنے کے لئے جس کار سے اترے ہیں اس پہ نمبر پلیٹ نہیں ۔ یہ دیکھ کے اپنا قصور بھول کر میرے اندر بھی یہ جذبہ عود کر آیا کہ برابر چھوٹنے کی بجائے اس میچ کا فیصلہ پانچ پانچ پینلٹی اسٹروک لگا کر ہو ۔ چونکہ یہ ناٹک پولیس اور تماشائیوں کی اچھی خاصی نفری کے سامنے کھیلا جا رہا تھا ، اس لئے موقعے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک ڈی ایس پی نے مجسٹریٹ کے کان میں کچھ کہا ۔ وہ فرمانے لگے ’دیکھیں یہ سرکاری گاڑی ہے ، اس پہ آپ کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ؟‘ ’مجھے کیا پتا کہ سرکاری کار ہے ، ہو سکتا ہے یہ چوری کا مال ہو‘ ۔ اس پر پولیس افسر کی دھیمی سی پنجابی آواز سنائی دی ’چلو جی دفع کرو‘ ۔ ’اصولی طور پہ میری موٹر سائیکل اور ان کی کار ، دونوں کو امپاؤنڈ ہونا چاہئے، مگر یہ ہوگا نہیں ‘ ۔ یہ کہہ کر کیپٹن ہمایوں والی کاوا ساکی کو فاتحانہ کک لگائی اور نکل گئے ۔ عام شائقین تو ہماری پرفارمنس پہ خوش تھے ہی ، صحیح داد تو سارا کھیل دیکھنے والے ایک پولیس والے سے واپسی کے سفر میں کمیٹی چوک کی بتی پر رکنے پہ ملی ۔ ’صاحب سمجھیا کہ ایویں چھوہر شور نیں۔ تسی تے افسر نکل آئے‘ ۔ کولمبس کے امریکہ کی طرح میرے اندر کی افسری کو دریافت کر لینے کا سہرا ہے تو اسی باوردی اہلکار کے سر ۔ پر تحصیل بھلوال میں پیدا ہونے والے اس سیدھے سادے ملازم کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ آگ ، روشنی اور مٹی سے بنائے گئے جنات ، فرشتوں اور انسانوں کی مانند الگ الگ محکموں کے حساب سے صاحب لوگ بھی ناری ، نوری اور خاکی افسران میں منقسم ہیں ۔ مجھے یہ تھیوری گورڈن کالج کے ساتھی شعیب بن عزیز نے سمجھائی جو نور اور نار کے فرق کو سمجھنے کی تگ و دو میں رفتہ رفتہ خود شہ کے مصاحب بن گئے ہیں ۔ درس و تدریس سے وابستہ آدمی کو اگر رسمی طور پہ افسر سمجھ بھی لیا جائے تو چاروں عناصر میں سے اس کے ہاں پانی اور مٹی کا تناسب زیادہ ملے گا ۔ نتیجہ کے طور پر میں نے خود کو سکھی رکھنے کے لئے کمی کمینوں کی طرح قانون کا احترام سیکھ لیا ، جس میں قطار بندی بھی شامل ہے ۔  چنانچہ بس یا ٹرین ٹکٹ لینے کا مرحلہ ہو یا ہوائی جہاز کی بکنگ ، کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ قطار پھلانگنے کے لئے ذاتی یا پیشہ ورانہ تعلقات کیش کرا لئے جائیں ۔ میری اس عزیزہ کو ، جن کے دستخط سے صحافیوں کا فضائی کرایہ آدھا ہو جاتا ہے ، مجھ سے گلہ ہی رہا کہ آپ نے اس سہولت سے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا ۔ اب کسے یاد کہ یہ سہولت تھی ہی رپورٹرو ں کے لئے ، وہ بھی صرف اس صورت میں جب وہ خبر کی خاطر قومی ائر لائن پر پرواز کر رہے ہوں ۔ اس ضمن میں میرے لئے سب سے دلچسپ تجربہ گیس ، پانی اور بجلی کے بل جمع کرانے کے لئے بینک کی کھڑکی پہ قطار باندھنے کا ہے ۔ اپنی سوسائٹی کو سمجھنے کا اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں کہ ہر مرتبہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ڈشکرے رعب داب ، ذاتی واقفیت یا محض لائن سیدھی رکھوانے کی ظاہری کوشش میں ڈائریکٹ اندر پہنچ جاتے ہیں ۔ قطار توڑنے والوں میں ایک تو وہ ہیں جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہوں گے ، اس لئے ہر کام میں ترجیحی سہولتوں کی توقع ان کی سرشت میں شامل ہے ۔ دوسرا گروہ ان کا ہے جو منہ میں سونے کا چمچہ نہیں ، سونے کا مائیکر فون لے کر پیدا ہوئے ۔ اگر ہر مہینے دو مہینے بعد بینک کی کھڑکی ، ڈاکخانہ کے جنگلے یا ٹریفک چالان کے مراکز کے باہر میرے انتظار کے خالی پن میں کسی نے زندگی کے رنگ بھرے تو وہ میرے یہی اجنبی دوست ہیں۔ خدا کی قسم ایسے ایسے برجستہ تبصرے اور سچل جگتیں کہ جن پر اخباروں کے درجنوں اداریے اور چینلوں کے سینکڑوں ٹاک شو قربان کئے جا سکتے ہیں ۔ خاص طور پر اس وقت جب قطار سے آنکھیں چار کئے بغیر دفتر میں جا گھسنے والے سوٹڈ بوٹڈ لوگ ہوں یا طرحدار خواتین یا پھر وہ واسکٹ پوش جو زمین سے بہت اونچی گینڈا نما گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں ۔ عدالتی افسر والے واقعہ کی روشنی میں شائد آپ بھی پوچھنا چاہیں کہ شاہد صاحب ، کیا آپ نے موبائل سم کی بایومیٹرک تصدیق کے لئے بھی وہی راست چنا جو گیس ، پانی اور بجلی کے بل ادا کرنے کے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اگلا سوال ہوگا کہ قطار کتنی لمبی تھی اور کتنا وقت لگا ۔ جواب سُن کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ کہ ساری کارروائی لائن میں لگ کر ہوئی اور کسی سفارش ، اقربا پروری یا ہیرا پھیری کے بغیر بیٹی ، بیوی اور خالہ زاد بہن کے کنبہ سمیت سب کی تصدیق دس منٹ میں ہوگئی ۔ آپس کی بات ہے کہ اس حکمت عملی میں ایک چالاکی تھی ۔ ہم نے موبائل والے دفتر کا رخ عین اس دن کیا جب پاکستان بھر کے مومنین اور مومنات ٹی وی پر پاکستان بھارت کرکٹ میچ دیکھنے میں مست تھے ۔ اس سے حب الوطنی کمپرومائز تو ہوئی، لیکن اگر پتوکی والے جج صاحب بھی اسی روز یہ حرکت کرتے تو انہیں تھانے تو نہ جانا پڑتا ۔

مزید :

کالم -