تیل کی سیاست

تیل کی سیاست
تیل کی سیاست

  

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مارچ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل میڈیا میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ کی خیال آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ان کے اس بیان سے کم از کم ایک ماہ کے لئے تو تیل کے متعلق سکھ کا سانس لیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں تیل نے عالمی سیاست اور طبقات میں اہم ترین کردارادا کیا ہے۔تیل کی دولت نے عربوں کو دنیا میں خصوصی اہمیت دی۔ تیل ان ممالک کی پہچان بن گیا اور اس سے عالمی سیاست بھی متاثر ہوئی۔1970ء کے عشرے میں جب تیل کو پہلی بار بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، تو دنیا کو احساس ہوا کہ تیل کے ساتھ ساتھ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کو 1973ء میں امریکہ اور یورپ کی وہ تصاویر آج بھی یاد ہوں گی، جن میں لوگ پٹرول کی عدم دستیابی کی بنا پر سائیکل استعمال کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ نیویارک، لندن اور پیرس میں کچھ ایسی ہی صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جس کا مشاہدہ ہم چند روز قبل پاکستان میں کر چکے ہیں، جب پٹرول پمپوں پر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور سڑکوں پر پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بند ہونے والی گاڑیوں کو دھکا لگاتے ہوئے نظر آتے تھے۔ تیل کی دولت سے عرب ممالک ہی امیر نہیں ہوئے، بلکہ یورپ عرب کے ان شیوخ سے بھی متعارف ہوا، جن کی حیرت انگیز شاہ خرچی کی داستانیں ذرائع ابلاغ میں بھی حصہ پاتی تھیں اور ایسے لطیفے مشہور ہوئے جن میں دولت کی حماقتوں کو بیان کیا جاتا تھا۔ مثلاًایک عربی شیخ کے بیٹے نے اپنے باپ کو خط لکھا کہ وہ برلن کی جس یونیورسٹی میں پڑھتا ہے وہاں اکثر طلبا ٹرین سے آتے ہیں، جبکہ وہ مرسڈیز پر جاتا ہے اور اسے طلبا و طالبات عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس پر اسے 50ملین ڈالر کے چیک کے ساتھ اپنے باپ کا خط ملا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ ٹرین خریدلے اور اسے ذاتی سفر کے لئے استعمال کرے۔ عرب شیخ جس طرح دولت کو اڑاتے تھے اس سے ان کے متعلق مغرب میں ایک خاص سٹریو ٹائپ تصویر نے جنم لیا جسے آج بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ اب یہ 50ڈالر سے بھی کم ہو گئی ہیں۔ قیمتوں میں اتنی زیادہ کمی کا تو اس وقت کوئی تصور ہی نہیں کر سکتا تھا جب یہ 145ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ تیل کی قیمتوں میں اس کمی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ میں تیل کی قیمتیں عام آدمی کی زندگی زیادہ متاثر نہیں کرتیں۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق امریکہ میں لوگ بڑی بڑی گاڑیاں رکھنے کے شوقین ہیں اور یہ گاڑیاں پٹرول بھی بڑی فراخدلی سے استعمال کرتی ہیں، مگر اس کے باوجود کبھی کسی گاڑی کے اشتہار میں یہ لالچ نہیں دیا جاتا کہ اس گاڑی سے پٹرول میں بچت ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں پٹرول کی قیمتیں ایک تو مستحکم رہی ہیں اور دوسرا عام آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ پاکستان میں قیمتوں میں کمی کی وجہ سے تیل کے استعمال میں اضافہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حکومت اس کو اپنا ایک کارنامہ بھی قرار دیتی ہے کہ اس نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اسے عام آد می تک بھی پہنچایا ۔ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں کمی کرنے کی بھی کوششیں کی ہیں۔ بھارت میں تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مودی کی حکومت کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کی حکومت کی تیل کی کمی کی حکمت عملی نے مودی سرکار کو بالواسطہ ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے اور بھارتی ذرائع ابلاغ بھی اس پر حکومت پر برس رہے ہیں۔تاریخ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تاریخ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ اس سے ہم کچھ نہیں سیکھتے۔ ایسا ہی معاملہ کچھ تیل کی تاریخ کا بھی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مائیکل لیوی کے مطابق تاریخ زیادہ محتاط رہنے کا سبق دیتی ہے۔ محض پندرہ سال پہلے بیشتر تیل ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ خام تیل کی قیمت 20 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہے گی۔ یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ وہ جادوئی قیمت جسے سعودی عرب اور اوپیک ہدف بنائیں گے۔ دو ہزار کی دہائی نے اسے بالکل غلط ثابت کر دیا۔ تیل کی قیمتیں دس سال سے بھی کم عرصے میں 15 گنا بڑھ گئیں جبکہ سعودیوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔  مائیکل لیوی کا خیال ہے کہ اوپیک تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں کوئی کردار ادا کرنے کی پو زیشن میں نہیں ہے۔ وہ اوپیک کے متعلق رقمطراز ہے کہ اوپیک ایسے ملکوں کی تنظیم ہے، جن کے درمیان سوائے تیل کے کچھ بھی مشترک نہیں۔ قطر کو وینزویلا کے مستقبل کی فکر نہیں۔ سعودی عرب، ایران کو کامیاب کے بجائے ناکام دیکھنا پسند کرے گا۔ ہر رکن کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ دوسرے کو پیداوار کم کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کرے، جبکہ خود کچھ بھی نہ کرے اور یہ سوچے کہ شائد اس طرح تیل کی زائد قیمت سے وہ زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کی متعدد وجوہات بیان کی جا رہی ہیں ۔ امریکہ کے تیل کے نئے ذخائر اور ٹیکنالوجی اس کی اہم وجہ ہے۔ امریکی 2008ء سے تقریباً 40لاکھ بیرل روزانہ تیل نکال رہے ہیں اور گزشتہ تین سال میں پہلی بار نائیجیریا سے خام تیل کی درآمد بند کی ہے۔ لیبیا نے اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کر لیا اور عالمی منڈی میں اب اس کا تیل موجود ہے۔ اس سے قیمتوں پر گہرا اثر پڑا ہے۔ سعودی عرب اور کویت جیسے ملک مارکیٹ میں اپنا حصہ کم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور وہ پیداوار بڑھا کر اور نرخ کم کر کے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ڈرلنگ کر کے تیل پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی نے حیرت انگریز ترقی کی ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ پیداواری لاگت میں بھی کمی ہوئی ہے۔ کیا تیل کی پیداوار مزید کم ہو گی یا اب اس میں اضافہ ہو گا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا بہت سے ماہرین جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔غالب امکان یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں تھوڑی سی مزید کم ہو کر مستحکم ہو جائیں گی، مگر کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اگلے چند ماہ میں اضافے کے رحجانات پیدا ہونے کا امکان ہے ، کیونکہ اگر تیل کی قیمتوں میں اتنی ہی تیزی سے کمی ہوتی ہے تو عالمی معیشت خطرات کا شکار ہو جائے گی۔ تیل کے ساتھ مستقبل قریب میں کیا ہوتا ہے۔۔۔؟ اس کا درست جواب دینا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ تا ہم پاکستان میں لوگوں نے تیل کی قیمتو ں میں کمی کے بعد اس کا استعمال زیادہ شروع کر دیا ہے اور یہ رحجان بہرحال کسی نہ کسی انداز میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔

مزید :

کالم -