سٹہ بازوں کا ہنگامی اجلاس

سٹہ بازوں کا ہنگامی اجلاس
 سٹہ بازوں کا ہنگامی اجلاس

  

 ’’دنیائے سٹہ بازی کے عظیم سپوتو، میں آپ کی ایسوسی ایشن کا جنرل سیکرٹری چھیمہ بلیکیا آپ سے مخاطب ہوں۔ آج کا یہ ہنگامی اجلاس ہم نے اس لئے بلایا ہے کہ بفضل جمہوریت ہمیں سٹہ بازی کا ایک اور نادر موقع مل گیا ہے۔ جسے ہم مناسب طور پر کیش کرا کے اربوں روپے کما سکتے ہیں۔ بھائیو جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس وقت فیکے کباڑیئے سے لے کر ارب پتی شہابی بھائی تک اس بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں سینٹ کے جو انتخابات ہونے والے ہیں۔ اُن میں ہارس ٹریڈنگ جسے چوہدری شجاعت نے کھوتا ٹریڈنگ کا نام بھی دیا ہے اور اپنے پیارے وزیر اعظم ضمیر فروشی کا کھیل کہتے ہیں، ہو گی یا نہیں، ایسی صورتِ حال میں ہمارے لئے یہ بہت آسان ہے کہ ہم بڑے پیمانے پر ایسی شرطوں کا اہتمام کریں جن میں اس نکتے کو بنیاد بنایا گیا ہو۔ میرے بھائیو! ہمارا ارادہ تھا کہ ہم ورلڈ کپ کرکٹ میں اربوں روپے کمائیں گے مگر بھلا ہو ہماری کرکٹ ٹیم کا کہ انہوں نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لیکن شکر ہے کہ ہمارے لئے ایک اور راستہ کھل گیا ہے اور عوامی نمائندوں، حکومت نیز سیاسی جماعتوں نے سینٹ انتخابات میں کروڑوں روپے میں ووٹ بیچنے کی تصدیق کر کے ہمارا کام آسان کر دیا ہے اگرچہ ورلڈ کپ ابھی جاری ہے اور چھوٹے موٹے سٹے کا وہاں بھی امکان ہے تاہم جو موقع سینٹ انتخابات کی وجہ سے ملا ہے، اُسے گنوانا حماقت ہو گی۔ اب میں ایسوسی ایشن کے صدر خانو پیسہ خور سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ آج کے اجلاس کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔  میں خانو پیسہ خور، چھیمہ بلیکیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جیسا کہ آپ کو چھیمہ جی کی باتوں سے اندازہ ہو چکا ہے آج کا اجلاس سینٹ میں پیسے لگا کر پہنچنے والے اور اُنہیں زور لگا کر روکنے والوں کے درمیان جاری مقابلے کے حوالے سے سٹہ بازی کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کیا گیا ہے۔ آج کے اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ اس نکتے پر غور کیا جائے کہ سینٹ انتخابات میں ضمیر فروش کامیاب ہوں گے یا انہیں روکنے کا دعویٰ کرنے والے، مجھے یقین ہے ہمارے سٹہ باز اس مقابلے پر بڑی بڑی شرطیں لگانے کو تیار ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ سٹے میں ریٹ کس کا زیادہ رکھا جائے۔ ضمیر فروشی کرنے والوں کی بے غیرتی اور ہٹ دھرمی کا یا پھر اُنہیں آئینی ترمیم یا کسی دوسرے طریقے سے روکنے والوں کا۔ آپ لوگ جس کے حق میں زیادہ ووٹ دیں گے اُس کا ریٹ زیادہ رکھا جائے گا۔ براہ کرم اپنا ووٹ ضمیر کے مطابق استعمال کریں کیونکہ ہم سٹے باز ضرور ہیں لیکن ارکان اسمبلی کی طرح ضمیر فروش نہیں ہیں۔ اب آپ کو بحث میں حصہ لینے کی کھلی اجازت ہے۔ میرا نام ماجھوسٹائی ہے۔ میں اجلاس کی اطلاع ملتے ہی چیچو کی ملیاں سے دوڑا دوڑا آیا ہوں میری ناقص رائے کے مطابق وزیر اعظم نے آئینی ترمیم کا پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ کیونکہ اُنہیں معلوم ہے کہ اگر انہوں نے ارکان اسمبلی کو آئین کی لگام نہ ڈالی تو وہ پیسے کے چکر میں خود ان کے نامزد نمائندوں کا جھٹکا کر دیں گے، جس سے بڑی جگ ہنسائی ہو گی۔ ویسے بھائیو! یہ ارکانِ اسمبلی بھی بڑی ڈھیٹ چیز ہیں حکومت نے اُنہیں دو دو کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز بھی جاری کر دیئے ہیں مگر وہ صافی دو دو کروڑ روپے چاہتے ہیں بعض علاقوں میں تو ریٹ چار کروڑ روپے تک چلا گیا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے ہاتھ ملانے کو ترسنے والے ارکان اسمبلی آج کل اُن سے چھپتے پھر رہے ہیں کیونکہ ہاتھ ملانے کی صورت میں وہ کروڑوں روپے سے محروم ہو سکتے ہیں مسلم لیگ (ن) کے یہ بھوکے شیر کچھ زیادہ ہی خونخوار نظر آتے ہیں بھوکا شیر آخر خالی عزت افزائی پر کیسے صبر کر سکتا ہے سو وہ ہاتھ سے نکلے ہوئے نا خلف بچے ہیں، جنہیں آسانی سے راہ راست پر نہیں لایا جا سکتا، اس لئے میرا خیال ہے کہ ضمیر فروشی کا ریٹ زیادہ رکھا جائے۔ میرا نام کالو امکانی ہے۔ مجھے ماجھو سٹائی کی بات سے اتفاق نہیں بے شک ارکانِ اسمبلی ضمیر فروشی کا کھیل اچھے کھلاڑیوں کی طرح کھیل رہے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دے رہے۔ ملک کا وزیر اعظم بھی اُن کے سامنے بے بس نظر آ رہا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر بالفرض آئینی ترمیم نہیں بھی ہوتی تو بھی ایک امکان موجود ہے کہ فوج اس بارے میں دخل اندازی کرے اور ووٹوں کی خرید و فروخت میں مصروف ضمیر فروشوں اور ضمیر خریدنے والوں کو ایک سخت پیغام دے یا پھر سپریم کورٹ میدان میں آ جائے اور سینٹ کے ووٹوں کی فروخت پر کوئی سوموٹو ایکشن لے کر کوئی فیصلہ جاری کر دے اس صورت میں معاملہ اُلٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے ریٹ ففٹی ففٹی رکھا جائے۔ کیونکہ اس بار جس طرح جمہوریت کی مٹی پلید ہو رہی ہے اور جس طریقے سے علی الاعلان یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سینٹ الیکشن کے لئے ووٹ بک رہے ہیں، اُس کی موجودگی میں پہلے سے ذلت و رسوائی کا شکار جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ایک اور ٹیکہ لگ گیا ہے ظاہر ہے یہ صورت حال ان لوگوں کو قطعاً قبول نہیں ہو گی جو جمہوریت کے نام پر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس جمہوریت نے ان کے کئی عیب چھپا رکھے ہیں۔ اس لئے میرا مشورہ ہے کہ کھوتا ٹریڈنگ نہ ہونے کے امکان کا ریٹ زیادہ رکھا جائے۔ مجھے عامل سلطانی کہتے ہیں ہمیں اس مسئلے پر جذباتی ہونے کی بجائے حقائق کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ کیا آئینی ترمیم لانے کی ضرورت اس بات کا اظہار نہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں نظم و ضبط سے عاری ہیں۔ انِ جماعتوں کے یہ جو بڑے بڑے قائدین آئے روز اپنے آپ کو کبھی قائداعظم ثانی اور کبھی بھٹو ثانی کہتے نہیں تھکتے تو یہ بات کھل چکی ہے کہ ان کا اپنے ارکانِ اسمبلی پر کوئی کنٹرول نہیں عوام کے لئے تو ان حکمرانوں کی زبان سے نکلا ہوا لفظ ان کی تقدیر بن جاتا ہے مگر انہی کی دی ہوئی ٹکٹوں پر رکن اسمبلی بننے والے انہیں سینٹ انتخابات کے موقع پر گھاس تک ڈالنے کو تیار نہیں۔ اپنی اس کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے آئینی ترمیم کا سہارا ڈھونڈا جا رہا ہے۔ حالانکہ آئین ضمیر فروشی کیسے روک سکتا ہے۔ اس بارے میں تو کوئی قانون ہی موجود نہیں عوام اس ساری لڑائی کو حیرت سے دیکھ تو رہے ہیں لیکن اس سے اُنہیں غرض کوئی نہیں کیونکہ اُن کے نزدیک پیسے خرچ کر کے سینٹ میں پہنچنے والا بھی اُتنا ہی خود غرض اور مفاد پرست ہے جتنا وہ لوگ جنہیں کسی نہ کسی تعلق یا بخشش کی وجہ سے سینٹ کا ٹکٹ مل جاتا ہے۔ ویسے بھی ارکانِ اسمبلی اپنے حلقے کے عوام کو اللہ میاں کی شریف گائے سمجھتے ہیں، جسے چھوٹے موٹے لولی پاپ دے کر یا ترقیاتی سکیموں کی گھاس ڈال کے اپنے حق میں رام کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں ہارس ٹریڈنگ کے حق میں سٹے کا ریٹ زیادہ رکھا جائے۔ مجھے اکی سٹہ باز کہتے ہیں، میں عامل سلطانی کی تائید کرتا ہوں۔ دوستو مجھے سٹہ باز فسادی کہتے ہیں میرے جن دوستوں نے یہاں اظہار خیال کیا ہے، اُنہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے عوام بڑی باریک بینی سے سینٹ کے انتخابات کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے لئے جو ووٹوں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے، اس پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ خدا کے بندو کس دنیا کی بات کر رہے ہو۔ یہ پاکستانی عوام کسی یورپی ملک کے لوگ نہیں کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا سکھ و چین برباد کرتے پھریں۔ اُنہیں موبائل سموں کی بائیو میٹرک تصدیق سے زیادہ دلچسپی ہے یا پھر اس بات کی خوشی ہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ وہ اتنے فارغ نہیں کہ اپنے ہی منتخب نمائندوں کی ضمیر فروشی یا گھٹیا حرکتوں پر نظر رکھ سکیں۔ اُن کا کام تو صرف قطاروں میں کھڑے ہو کر کسی وڈیرے، کسی لٹیرے اور کسی نو دولتئے کو ووٹ ڈالنا ہوتا ہے۔ سو وہ یہ کام کر چکے ہیں۔ سو اس بات کی قطعاً امید نہ رکھی جائے کہ ووٹ بیچنے والے ارکانِ اسمبلی کا کوئی گھیراؤ ہوگا یا اس کے ڈر سے وہ ضمیر فروشی سے باز آ جائیں گے۔ بھائیو! میرا نام ماکھا پھڈے باز ہے۔ ہم بلا وجہ ایک بے معنی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں سٹے کا بھاؤ اوپن کر دینا چاہئے۔ جب کسی چیز کا کوئی سر پیر ہی نہ ہو اور اصول و ضوابط بھی موجود نہ ہوں تو کوئی پیش گوئی کیسے کی جا سکتی ہے۔ جب ہر کوئی یہ راگ الاپ رہا ہے کہ اس کا نام جمہوریت ہے پیارے تو ہمیں پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ ہم ایک طرف کی سنیں، جہاں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے سارے موجودہ قوانین ناکام ہو جائیں اور اس کے لئے ایک نئی آئینی ترمیم کی ضرورت پڑ جائے وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لئے ہمیں تیار رہنا چاہئے۔ معزز ممبران کرام! بطور صدر میں آپ کی آرا سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ضمیر فروشی ہو یا نہ ہو، ووٹ بکیں یا نہ بکیں، آئینی ترمیم ہو یا نہ ہو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا دونوں صورت میں فائدہ ہی فائدہ ہے بلکہ جتنا عرصہ تک یہ گومگو کی کیفیت رہے گی ہمارا دھندہ بھی زور و شور سے چلتا رہے گا۔ جہاں قومی مفادات پر حکومت اور اپوزیشن کسی ایک نکتے پر اکٹھی نہ ہو سکیں وہاں بد اعتمادی اور بے یقینی پھیلتی ہے اور یہ چیزیں ہمارے کاروبار کو چار چاند لگا دیتی ہیں، اس لئے آیئے آخر میں حکومت اپوزیشن اور جمہوریت کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگائیں۔ ’’زندہ باد بھئی زندہ باد‘‘

مزید :

کالم -