عمرہ،جہاز کے کرائے اور بلیک مافیا!

عمرہ،جہاز کے کرائے اور بلیک مافیا!

  

 عمرے کا سیزن شروع ہے،پاکستان سے ہزاروں افراد یہ سعادت حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں، اس کے لئے حج آپریٹرز کے ذریعے ویزا اور سفری سہولتوں کا اہتمام کرنا ہوتا ہے، جو حج ٹور آپریٹر نیک نام ہیں وہ عمرہ کے لئے جانے والوں کے لئے سہولتوں کا اہتمام کرتے ہیں تاہم آمدورفت کے لئے جہاز کے کرائے ائر لائنز کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔اطلاع ملی ہے کہ ایک طرف ائر لائنز والے کرایہ بڑھا دیتے ہیں تو دوسری طرف ایک مافیا بھی میدان میں آ گیا ہے، جس نے سرمایہ کاری کر کے عمرے کے لئے ہوائی سفر کو بھی ذریعہ آمدنی بنا لیا ہے۔ یہ حضرات ائر لائنز کے ساتھ ملی بھگت سے بلاکس کی صورت میں بکنگ کر کے ٹکٹ خرید لیتے ہیں اور پھر عمرہ پر جانے والوں کو نشستوں کی پیشکش کی جاتی ہے اور مقررہ کرائے سے زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جو ٹکٹ ایڈوانس بلاکس کی صورت میں59ہزار میں لیا گیا، مافیا زائرین سے 80ہزار وصول کر رہا ہے۔ یوں یہ کاروبار کرنے والے دِنوں میں کروڑ پتی بن گئے کہ عمرے کے لئے ویزا لگوا لینے والے بکنگ کے لئے خوار ہوتے ہیں۔یہ صورت حال تشویشناک ہے ایک مذہبی عبادت کو بلیک میلنگ کے ذریعے ذخیرہ اندوزی جیسا عمل کر کے لوٹ مچا دینا کس شرع اور قانون میں جائز ہے؟وزارتِ مذہبی امور کو اس کا سختی سے نوٹس لینا اور زائرین کو اضافی بوجھ سے بچانا چاہئے۔ عمرہ کے سیزن میں تو ٹکٹ سستا ہونا چاہئے کہ جہاز کی تمام ٹکٹیں بِک چکی ہوتی ہیں۔ یوں خالی نشستوں کا کوئی چکر نہیں رہتا، وزیر مذہبی امور کو جواب دہی بھی کرنا ہو گی۔

مزید :

اداریہ -