حسینہ واجد کا پاکستان مخالف رویہ؟

حسینہ واجد کا پاکستان مخالف رویہ؟

  

 بنگلہ دیش کی برسر اقتدار جماعت اور وزیراعظم حسینہ واجد کی طرف سے اپنے مُلک میں جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا ہے۔ حسینہ واجد نے اپنی مخالف جماعت کو کونے میں لگانے کے لئے ریاستی مشینری اور آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کئے، اس کے بعد وہاں اپوزیشن کا ایک متحدہ محاذ بن چکا ہے، جو نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ان حالات میں بنگلہ دیش حکومت کا رُخ پاکستان کی طرف ہو گیا، پہلے کرکٹ کے معاملات میں اس کے باوجود کہ پاکستان نے ہر موقع پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کی، لیکن ان کی طرف سے پھر بھی اپنی من مانی کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ کرکٹ ٹیموں کے دورے کا شیڈول بھی طے نہیں کیا جا رہا۔بات یہاں تک نہیں رہی،اب ڈھاکہ میں پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز کے دفتر میں منیجر اور عملے کو اتنا ہراساں کیاگیا کہ وہ سب واپس آ گئے۔ پی آئی اے نے ڈھاکہ کے لئے عارضی طور پر اپنی پروازیں بند کر دی ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بنگلہ دیشی سفیر کو بُلا کر احتجاج کیا ہے کہ ایسے رویوں سے تعلقات متاثر ہوں گے۔مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے اور لاہور میں ہونے والی اسلامی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش حکومت کو تسلیم کر لینے کے بعد سے اب تک پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ دونوں ملک ماضی کو بھلا کر اب برادر ملکوں کی طرح رہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اس پر عمل کیا، لیکن جب سے عوامی لیگ کی حسینہ واجد برسراقتدار آئی ہیں کسی طور پر بھی پاکستان کے ساتھ معاندانہ رویہ ترک کرنے پر تیار نہیں ہیں۔موجودہ صورت حال دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو خراب کرے گی۔ پاکستان کو مضبوط موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور بنگلہ دیش کی برسر اقتدار جماعت کو اپنے رویئے کو درست کرنا ہے اِسی صورت میں تعلقات خوشگوار رہ سکتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -