تین صوبوں میں بلا تاخیر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں

تین صوبوں میں بلا تاخیر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں

  

 سپریم کورٹ نے مُلک بھرکے کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے عدم انعقاد کی بنا پر وزیراعظم کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہو کر بتائیں، کہ کیا عدالت کے حکم نامہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں، اگر ہوئی ہے تو عدالت دوسرا حکم نامہ جاری کر کے قانونی تقاضے پورے کرے گی۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اس درخواست میں وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے کے بارے میں عدالت فی الحال احتیاط کر رہی ہے،لیکن اگر ضروری ہوا تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ درخواست گزار نے2009ء سے یہ درخواست کر رکھی ہے، جس میں کینٹ کے علاقوں میں الیکشن کے عدم انعقاد پر کارروائی کے حوالے سے درخواست کی گئی ہے۔ قبل ازیں فاضل عدالت نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت دراصل عوام کو بااختیار بنانا ہی نہیں چاہتی۔ اگر صوبائی قانون سازی نہیں ہوئی یا اس میں کوئی سُقم ہے تو بھی الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے، بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اٹھارہویں ترمیم کے ثمرات کا نتیجہ ہے کہ پانچ سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو رہے، بلدیاتی انتخابات نہیں کرانے تو آئین کو اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیں، سب پڑھے لکھے ہیں، جانتے ہیں کہ آئین پر عمل نہ کرنے کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ سمیت کوئی بھی ادارہ یا فرد الیکشن کمیشن کو اس کے آئینی فرض کی ادائیگی سے نہیں روک سکتا، لیکن الیکشن کمیشن اختیارات رکھنے کے باوجود اپنا فرض ادا کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ وفاق سمیت حکومتوں نے حلف دیا تھا کہ قانون سازی دس روز میں کر لی جائے گی، حلف کی پاسداری نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کے فرائض میں شامل ہے تو وہ الیکشن کیوں نہیں کرا رہا، الیکشن کمیشن کے وکیل محمد اکرم شیخ نے کہا کہ صوبے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رخنہ ڈال رہے ہیں، جس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ اگر کوئی ہمارے کام میں رخنہ ڈالے تو کیا ہم گھر بیٹھ جائیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے، کسی کو تکلیف ہو گی تو عدالت آئے گا، عدالت میںآنے والے سے پوچھیں گے کہ پانچ سال میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کروائے گئے۔ پاکستان میں آخری بلدیاتی انتخابات سٹی ڈسٹرکٹ نظام کے تحت2005ء میں ہوئے تھے، ان بلدیاتی اداروں کی مُدت چار سال کے لئے تھی،اس لحاظ سے بلدیاتی انتخابات2009ء میں دوبارہ ہونے چاہئے تھے، لیکن2008ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں برسر اقتدار آئیں وہ کسی ایک یا دوسری وجہ کی بنا پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر روا رکھتی رہیں، نتیجہ یہ ہے کہ آج تک سوائے بلوچستان کے، کسی بھی صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے اور جو صورت حال ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب ہوں گے؟ سندھ حکومت تو اعلان کر چکی ہے کہ وہ مارچ2016ء (تقریباً ایک سال بعد) سے پہلے الیکشن نہیں کرا سکتی، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں نے بھی اپنی اپنی سہولت کے مطابق کچھ تاریخیں تو دے رکھی ہیں، لیکن ان تاریخوں پر انتخابات کا انعقاد کس حد تک یقینی ہے اس کا اندازہ سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران فاضل ججوں کے ریمارکس اور وکلاء کے دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔ درخواست کی سماعت کے ماحول سے اگر حکومت (یا حکومتیں) بھی کچھ اندازہ لگا سکتی ہیں تو پھر اُن کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ دے دیں اور اس تاریخ پر انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنا دیں، ورنہ اندازہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو خود ہی کوئی نہ کوئی حکم جاری کرنا پڑے گا، جہاں تک کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے وہاں صورت حال اور بھی خراب ہے۔درخواست گزار نے وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دے دی ہے اور فاضل عدالت نے اس ضمن میں نوٹس کے لئے اٹارنی جنرل سے معاونت بھی طلب کی ہے، اس سلسلے میں بھی بہتر یہی ہے کہ حکومت کی سطح پر کوئی مناسب فیصلہ کر لیا جائے اور اس سے فاضل عدالت کو آگاہ کر دیا جائے تاکہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ یہ ہے کہ فوجی حکمرانوں نے انہیں اپنی ترجیحات میں سب سے اونچا رکھا اور اپنے ادوار میں اپنی اپنی پسند کا بلدیاتی نظام متعارف کرا کے انتخابات کراتے رہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سویلین جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے پہلو بچاتی رہی ہیں ، وجہ غالباً یہ رہی ہو گی کہ مارشل لاؤں کے ادوار تو طویل تر رہے، لیکن جمہوری حکومتوں کی مدت مختصر رہی۔ اگرچہ وہ منتخب تو پانچ سال کے لئے ہوتی رہیں، لیکن کسی نے بھی پانچ سال پورے نہ کئے۔1985ء کے انتخابات غیر جماعتی تھے،85ء سے لے کر 1999ء تک کسی حکومت نے اپنی مقررہ مدت پوری نہ کی۔99ء میں پھر فوجی حکومت آ گئی، جس نے اپنے دور میں دو بلدیاتی انتخابات اپنے وضع کردہ نظام کے تحت کروائے اور اس کے بعد2009ء میں کوئی بلدیاتی انتخاب نہیں ہو سکا،سابق حکومت کی پوری مدت اور موجودہ حکومت کے عرصے میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے، اگر حکومتوں کو یہ نظام پسند نہیں تھا تو اس میں تبدیلی و ترمیم کر کے کوئی نیا بہتر نظام وضع کیا جا سکتا تھا، لیکن ہوا کیا کہ پچھلے نظام کو تو ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظام نہ بنایا گیا۔ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ترقیاتی فنڈ اُن کے ذریعے خرچ ہوں۔اس طرح وہ اپنے ووٹ بھی پکے کرتے ہیں اور ترقیاتی رقوم میں سے ’’حصہ بقدر جُثہ‘‘ بھی وصول کرتے رہتے ہیں، ان ناجائز خواہشات نے جمہوری سول حکومتوں کو بلدیاتی نظام سے دور رکھا اور یوں وہ آئین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئیں، اب یہ معاملہ مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ہے، تو عدالت آئین و قانون کی روشنی میں کوئی نہ کوئی فیصلہ تو کرے گی اور حکومت کو اس فیصلے کی روشنی میں اقدام بھی کرنا ہوں گے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی عدالتی حکم سے پہلے پہلے حکومتیں خود بلدیاتی انتخابات کرا دیں اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنے دیں اب معاملہ جس نہج پر آ گیا معاملے کو مزید ٹالنے کی گنجائش کم رہ گئی ہے اور حکومتوں کے لئے مہلت بھی کم ہوتی جا رہی ہے، جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے۔

مزید :

اداریہ -