ریٹنگ بڑھانے کا منفی رجحان

ریٹنگ بڑھانے کا منفی رجحان

  

 نجی ٹی وی چینلوں کے سیاسی ٹاک شوز کی ’’ریٹنگ‘‘ بڑھانے کے لئے ٹاک شوز ہوسٹ کی جانب سے یہ طے کر لیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہر پروگرام میں مہمانوں کے مابین لڑائی اور شدید ترین تکرار کے کچھ ایسے زور دار مناظر پیش کریں گے جو اُن کے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کے لئے ضروری ہوں گے۔ دیکھنے والوں پر اس کے کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟اس سے قطع نظر وہ اپنا یہ ’’کام‘‘ اپنی ہی دُھن میں کئے جا رہے ہیں۔ لڑائی کے ایسے مناظر کو نہ صرف انٹرنیٹ پر ڈال دیا جاتا ہے، بلکہ اس کی تشہیر کا کوئی اور موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم ایسے مناظر کے ذریعے نہ صرف اپنے سیاسی رہنماؤں کے وہ چہرے دیکھتے ہیں جو ہمیں کسی صورت میں نہیں دیکھنے چاہئیں۔ا س سے عوام میں بھی اپنے سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے بے چینی، اضطراب اور بیزاری بڑھ رہی ہے۔ بدقسمتی سے اس روش کی کئی مرتبہ نشاندہی کے باوجود اب تک قابو نہیں پایا جا سکا اور شاید آئندہ بھی نہ پایا جا سکے،کیونکہ اس رجحان میں خود میڈیا ہاؤسز کے مالکان ملوث ہیں۔ اگر اُن کا ہاتھ نہ ہو تو شاید اس’’ رجحان ‘‘ کو اتنی تقویت نہ ملے۔ جو رہنما ٹاک شوز میں لڑائی کرتے ہیں یا اُن سے لڑائی کرائی جاتی ہے۔ اُن میں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے رہنما ہی نہیں، بلکہ تمام ہی سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہوتے ہیں۔ چاہے پیپلزپارٹی ہو، مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ(ق) کے لوگ، ایم کیو ایم والے یا ہمارے اے این پی کے دوست۔ سب ہی لڑتے نظر آتے ہیں اور اُن کو لڑانے میں پروگرام کے ہوسٹ کا ہی سارا عمل دخل ہوتا ہے۔ ہوسٹ کیوں نہ یہ لڑائی کرائیں ،کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اُن کا پروگرام اِسی صورت مقبول ہو سکتا ہے، یا اس کی ریٹنگ بڑھ سکتی ہے، جب تک اس میں لڑائی کا کچھ نہ کچھ کلچر یا عنصر نہ پایا جائے۔لڑائی کرانے یا اُسے بڑھانے میں سارا گورکھ دھندہ اُن تیز، ترش اور معنی خیز سوالات کا ہوتا ہے جو کسی ایک پارٹی کے رہنما سے پوچھے جاتے ہیں اور مجبوراً جب اس رہنما کو اس سوال کا جواب دینا پڑتا ہے تو اُس کے اندر سے جواب کی ایسی تیزابیت نکلتی ہے جو بالاخر لڑائی کا کارن بن جاتی ہے۔ چبھتے ہوئے سوال اور چبھتے ہوئے جواب سے ساتھ بیٹھا اس پروگرام کا دوسرا مہمان جس کا تعلق کسی دوسری سیاسی جماعت سے ہوتا ہے، نہ صرف بھڑک اٹھتا ہے، بلکہ اشتعال میں آ کر اپنی مخالف سیاسی جماعت کے بارے میں دشنام طرازی شروع کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ شور و غل، سخت تکرار اور آپس میں لڑائی جھگڑے کی صورت میں سامنے آتا ہے اور بعض اوقات تو اتنا اُودھم مچتا ہے کہ ٹی وی کی چھوٹی سکرین پر سخت ترین ہنگامے کے سِوا کچھ نظر نہیں آتا۔ مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ میں تمام میڈیا ہاؤسز اور سیاسی ٹاک شوز کے جتنے بھی ہوسٹ ہیں اُن سے یہ دردمندانہ التجا کر سکوں کہ وہ اپنے رویے اور سوچ میں تبدیلی لائیں، کیونکہ ایسے پروگراموں کے ذریعے ہم اپنی قوم، خصوصاً نوجوان نسل کو کوئی اچھا ’’میسج‘‘ نہیں دے رہے۔ اُن کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور قومی سیاسی لیڈر شپ کے بارے میں بھی غلط تاثر ابھر رہا ہے اور مجموعی خیال یہی پیدا ہوتا ہے کہ شاید ہمارے سسٹم کی طرح ہمارے سیاسی رہنما بھی بس ایسے ہی ہیں، یعنی تحمل اور برداشت کی پٹڑی سے اُترے ہوئے۔ جبکہ سیاست کا پہلا سبق ہی یہ ہے کہ اپنے اندر بہت سارا تحمل اور برداشت پیدا کی جائے۔ برداشت اور تحمل نہیں ہو گا تو آپ اپنی سیاسی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے بروئے کار نہیں لا سکیں گے۔ معاشرتی طور پر قد اُسی کا بڑھتا ہے جو بڑی سے بڑی تکلیف دہ اور مشکل بات بھی آسانی سے برداشت کر لیتا ہے اور کوئی بھی موقع ہو، تحمل سے کام لیتا ہے، لیکن ہم ان ٹاک شوز میں جس قسم کی صورت حال یا نظارے دیکھتے ہیں وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہمارا معاشرتی ہی نہیں سیاسی کلچر بھی کتنا انحطاظ پذیر ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو تو قوم کا ہیرو ہونا چاہئے۔ انہیں ایسا سمبل بننا چاہئے کہ جن کے نقشِ قدم پر پوری قوم چلے۔ اگر قوم میں ہی اُن کے بارے میں منفی ردعمل پیدا ہو گا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، ا س کا مظاہرہ ہم روز دیکھتے ہیں۔ پہلے ہم صرف اسمبلیوں میں لڑائیاں دیکھتے تھے۔ اب یہ لڑائیاں براہ راست ٹی وی کی چھوٹی سکرین کے ذریعے ہر گھر کے بیڈ روم تک پہنچ رہی ہیں اور وہ چہرے بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، جو کسی صورت بھی ہمیں نہیں دیکھنے چاہئیں۔ میڈیا ہاؤسز یا ان پروگراموں کے کسی بھی ’’ہوسٹ‘‘ سے جب یہی سوال پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں اور اپنا ’’فارمیٹ‘‘ تبدیل کیوں نہیں کر سکتے؟ تو اُن کا مختصر اور مدّلل جواب یہی ہوتاہے کہ چونکہ ایسے پروگرام پبلک کی ڈیمانڈ ہیں، لہٰذا وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں اور چونکہ اس میں کاروباری تقاضے بھی شامل ہیں اِسی لئے ایسے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں تاکہ اُن کی ریٹنگ آسمان سے باتیں کرے، لیکن میں پھر کہوں گا کہ آسمان سے باتیں کرنے کی فکر کرتے کرتے وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا تعلق ایک ایسے مذہب اور مذہب کے حوالے سے ایک ایسے معاشرے سے ہے جس میں تحمل، برداشت کو اوّلین حیثیت اور ترجیح دی گئی ہے۔ سوالات میں احتیاط برت لی جائے تو کبھی لڑائی کا خطرہ نہیں ہو گا۔ میرا جو فرض تھا، مَیں نے پورا کر دیا۔ اب یہ میڈیا ہاؤسز کا فرض ہے کہ وہ اپنا فرض اور ذمہ داریاں پوری کرے۔

مزید :

کالم -