پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی ۔۔۔!

پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی ۔۔۔!
 پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی ۔۔۔!

  

 ہیلو میرے پیارے پیارے دوستو سنائیں کیسے ہے امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باوجود پاکستانی کپتان مصباح الحق پر امید ہیں کہ وہ کوارٹر فائنل میں ضرور پہنچیں گے ۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ، جناب مصباح الحق کا کہنا بجا ہے کہ پاکستانی ٹیم اگر اب آئندہ تمام میچ جیتے اور ایک مقررہ رن ریٹ کے ساتھ تو پاکستانی ٹیم کوارٹر فائنل مرحلے میں پہنچ سکتی ہے ،جس کے لئے انتہائی سخت محنت کی ضرورت ہے، پاکستان نے ابھی زمبابوے،ساؤتھ افریقہ،بنگلہ دیش اور دیگر ٹیموں سے میچ کھیلنے ہیں ، پاکستانی ٹیم کو اپنی کو تاہیوں خامیوں پر نظر ڈال کر انھیں بہتر بنانا پڑے گا ،،، خاص طور پر بیٹنگ کے شعبے کو بہتر بنانا پڑے گا ، اور فیلڈنگ میں بھی جان مارنی پڑے گی ، پاکستانی ٹیم کی ناقص فیلڈنگ بھی ہار کا سبب ہے ، انڈیا کے میچ میں بھی ویرات کوہلی کا کیچ چھوڑ کر اسے سینچری بنانے کا موقع دیا گیا۔ اب بھی امید کی کرن باقی ہے ، صرف سخت محنت کی ضرورت ہے ، جس میں غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں اور اگر اب پاکستانی ٹیم نے مزید کوئی غلطی کی تو ورلڈ کپ کے باقی میچ بھی گھر بیٹھ کر دیکھنے ہونگے بالکل ایسے ہی جیسے پاکستانی ٹیم کے چیف سیلیکٹر معین خان کو ورلڈ کپ کے دوران پاکستان واپس بلوا لیا گیا،اور اب وہ بھی اپنے گھر بیٹھ کر ورلڈ کپ کے میچ دیکھیں گے ، معین خان کے کسینو جانے اور جوا کھیلنے کے چرچے آج ہر پاکستانی بچے کی زبان پر ہیں معین خان نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ڈنر کے لئے کسینو جانے کی غلطی پرقوم سے معذرت چاہتا ہوں، ایک خبر یہ بھی لگی تھی اخبارات میں کہ معین خان نے دس سے پندرہ ہزار کا جوا بھی کھیلا اخبارات میں ایک خبر یہ بھی شائع ہوئی کے پاکستانی چیف سلیکٹر کے بکیو ں سے بھی رابطے ہیں ۔ یہ بات تو سب کے سامنے ہے کہ جوئے کے الزامات تو ہر دور میں بہت سے کھلاڑیوں پر لگتے رہے، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ موجودہ ورلڈ کپ میں بھی کروڑوں کا جوا کھیلا جا رہا ہے ، سب سے زیادہ جوا پاکستان ، اور انڈیا کی ٹیموں کے میچ پر کھیلا گیا ۔ بات ہو رہی تھی پاکستانی ٹیم کی ،، تو یقیناًپاکستانی ٹیم کو کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے لئے اب جیت کی طرف بڑھنا ہو گا ،اپنی غلطیوں کو دور کرنا ہو گا ۔ یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے باہمی اختلافات کی خبریں بھی اخبار ات میں گردش کر رہی ہیں ، کہا جا رہا تھا کہ آفریدی کو کپتان بنایا جائے گا، لیکن مصباح کو کپتان برقرار رکھا گیا، مصباح اور آفریدی دونوں ہی پرانے اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں ، ایک خبر یہ بھی تھی کہ ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ میں بھی اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں ۔ اب بہت ساری باتیں ٹیم کی انتظامیہ اور کھلاڑیوں کو بھی پس پشت ڈالنی پڑیں گی، اور صرف اور صرف ملکی سامتی و بقا کو مد نظر رکھنا ہو گا ، اور دنیا بھر میں اپنے ملک کا پرچم بلند کرنا ہے تو ، یقیناًآپس میں اختلافات بھلا دینے چاہیں اور متحد ہو نا چاہئے، کھلاڑی اپنے اختلافا ت بھلائیں گے اور محنت سے اور جیت کی لگن سے کھیلیں گے تو یقیناًجیت کر ہی لوٹیں گے ، کیونکہ جیت کے لئے اچھا کھیلنا ہی اولین شرط ہے ، چھوٹی چھوٹی غلطیاں جیت سے دور کر دیتی ہیں ، بالکل ایسے ہی جیسے ورلڈ کپ وارم اپ میچ جیتنے والی ٹیم ورلڈ کپ میں کھیلے گئے دونوں میچ ہار گئی، بہرحال اب دیکھتے ہیں کہ دعا ئیں کام آتی ہیں یا پھر ، کچھ کہا نہیں جاسکتا، اجازت چاہتے ہیں آپ سے تو ملتے ہیں دوستوں ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید :

کالم -