پانی کے 40ہزار بوگس کنکشن، کریک ڈاؤن کا فیصلہ

پانی کے 40ہزار بوگس کنکشن، کریک ڈاؤن کا فیصلہ

  

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں پانی کے گھوسٹ کنکشنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن، پانی چوری کے خلاف آپریشن میں ناکامی اور کوتاہی کے مرتکب ایس ڈی اوز اور ایکسئن کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پہلے مرحلے میں 40 ہزار سے زائد گھوسٹ کنکشنوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلہ میں میٹروں کو ٹمپرڈ کر کے پانی چوری میں ملوث صارفین کے خلاف آپریشن کیا جائے گا اس سے واسا کو درپیش مالی خسارہ میں ایک ارب کی کمی واقع ہو گی۔ واسا ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں واسا کی 30 سے زائد سب ڈویژنوں کی حدود میں ایم ڈی واسا کے حکم پر سروئے کو مکمل کر لیا گیا ہے جس میں چالیس ہزار سے زائد ایسے کنکشنوں کا انکشاف ہوا ہے جن کی واسا سے کسی قسم کی منظوری تک نہیں لی گئی اور ان گھوسٹ کنکشنوں میں 25 ہزار سے زائد ایسے گھوسٹ کنکشن ہیں جن کا واسا کے پاس ریکارڈ تک نہیں اور ان میں سے بیشتر کمرشل اور صنعتی سیکٹر میں بھی پائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے مرحلہ میں فیکٹریوں ، ملوں ، کارخانوں اور دودھ دہی کی دوکانوں سمیت دیگر کمرشل سیکٹر میں پانی کے میٹروں کو ٹمپرڈ کر کے چوری کرنے والوں کے خلافبھی آپریشن کیا جائے گا۔ واسا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے واسا کی ریکوری مہم میں بہتری آئے گی اس کے ساتھ واسا کو درپیش مالی خسارہ میں ایک ارب سے زائد کی کمی واقع ہو گی اور واسا کی مالی حالت کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں واسا کے ایس ڈی اوز اور ایکسیئنز کو گھوسٹ کنکشنوں اور پانی چوری کی روک تھام کے حوالے سے ٹاسک دیا گیا ہے جس میں ٹاسک پر پورا نہ اترنے والے ناکامی اور کوتاہی کے مرتکب ایس ڈی اوز اور ایکسیئن کو معطل کیا جائے گا۔ جبکہ سب ڈویژن میں تعینات سب انجینئروں اور ہیڈ فٹروں کے پانی چوری میں ملوث ہونے پر محکموں سے فارغ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے واسا کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ پانی چوری کے مکمل خاتمہ کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جا رہا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -