عاصمہ جہانگیر کے حمایت یافتہ انڈیپنڈنٹ گروپ نے پروفیشنل گروپ کو شکست دیدی

عاصمہ جہانگیر کے حمایت یافتہ انڈیپنڈنٹ گروپ نے پروفیشنل گروپ کو شکست دیدی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر کے حمایت یافتہ انڈیپنڈنٹ گروپ نے حامد خان کے حمایت یافتہ پروفیشنل گروپ کو شکست دے کر چاروں نشستیں اپنے نام کرلیں۔باقاعدہ تقریب میں کامیاب امیدواروں کوان کے عہدوں کا چارج دیا جائے گا ۔اس سلسلے میں\"تقریب انتقال اعزاز \"کا انعقاد پیر کے روز صبح 11بجے ہوگا ۔انتخابی نتائج کے مطابق نو منتخب صدر پیر مسعود چشتی نے 4ہزار53ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل شاہد مقبول شیخ 3ہزار118ووٹ حاصل کرسکے ۔سیکرٹری کے عہدہ پر کامیاب ہونے والے محمد احمد قیوم نے 3ہزار751ووٹ جبکہ ان کے مدمقابل میاں اصغر علی نے 3ہزار 392ووٹ حاصل کئے ۔نائب صدر کے لئے محمد عرفان عارف شیخ نے 4ہزار 309ووٹ لے کرکامیابی حاصل کی ان کی مدمقابل صوفیہ مسعود 2ہزار805ووٹ حاصل کرسکیں ۔فنانس سیکرٹری کے لئے دو خواتین اوردو مرد حضرات مدمقابل تھے اور کامیابی سید اختر حسین شیرازی کے حصہ میں آئی ،انہوں نے 2ہزار628ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے قریب ترین حریف عظیم اکرم نے 1ہزار 682ووٹ حاصل کئے جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار کی نومنتخب ایسوسی ایشن نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کردیا ۔نومنتخب صدر پیر مسعود چشتی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں متوازی نظام ہے جس کی آئین اجازت نہیں دیتا ،ہم فوجی عدالتوں کی مخالفت کرتے رہیں گے ،لاہور ہائی کورٹ بار نے فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی درخواست دائر کررکھی ہے اس کی بھرپور پیروی کریں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کی آزادی پر کوئی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ بار اور بنچ ایک ہی گاڑی کے دوپہیے ہیں ہم مل کر چلیں گے اور آئین کی بالا دستی کو یقینی بنائیں گے ۔ہائی کورٹ بار کے نومنتخب سیکرٹری محمد احمد قیوم نے کہا کہ بڑے مگرمچھ 80،80محکموں کی لیگل ایڈوائزریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ قانون کے تحت ایک وکیل دو سے زیادہ محکموں کا لیگل ایڈوائزرنہیں ہوسکتا ۔ہم بڑے مگرمچھوں سے لیگل ایڈوائزریاں واپس لے کر نوجوان وکلاء میں تقسیم کرنے کے لئے جدوجہد کریں گے ۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے موقع پر سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سینٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ کھلی دھاندلی ہے ،پارلیمنٹ میں ہارس ٹریڈنگ کا واویلہ کیا جارہاہے۔فوجی عدالتوں کے حوالے سے عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ عوام اور وکلاء دہشت گردی کے خلاف ہیں تاہم آئین سے بالا تر اقدامات نہیں ہونے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بار کا کردار ممبران جیسے چاہے ویسا ہوتا ہے آج وسیع نظر رکھنی ہوگی تا کہ کوئی غیر آئینی اقدام نہ ہو بار کا کوئی ممبر ایسا نہیں جو دہشت گردی کی مخالفت نہ کرتا ہواگر وکلاء کا وقار برقرار نہیں رہے گا تو عدلیہ کا وقار کیسے رہ سکتا ہے ،سابق صدر سپریم کورٹ بارایسوایشن ، معروف آئینی ماہر اکرم شیخ نے کہاہے کہ سیاسی قیادت نہیں چاہتی کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں اس لئے بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ سابق گورنر پنجاب اور پیپلز لائرز فورم کے رہنما سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں شو ہینڈ کے تحت کرانا جمہوریت کی نفی ہے اس امر سے گھر گھر فساد پھیلے گا شفاف الیکشن جمہوریت کی روح ہے ،انہوں نے کہا کہ بڑے طریقہ سے جمہوریت کو ناکام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،موجودہ حکومت بادشاہت چاہتی ہے،پارلیمنٹ کو ناکارہ کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔ بار الیکشن

مزید :

علاقائی -