امریکی رویہ عجیب، اعتماد اور دباؤ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں

امریکی رویہ عجیب، اعتماد اور دباؤ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں

  

 تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاک امریکہ تعلقات کی نوعیت بھی عجیب صورت اختیار کر گئی ہے، پہلے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا تھا اب دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی شروع ہے، اس کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے اور امریکی صدر کے ساتھ ساتھ امریکی انتظامیہ کے ترجمان کی طرف سے بھی تعریف کی اور کہا گیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب پوری غیر جانبداری سے جاری ہے اور کوئی تخصیص نہیں کی جا رہی۔ اس کے ساتھ ہی الزام تراشی بھی جاری رہتی ہے شاید یہ دباؤ برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اب اطلاع یہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس چیف نے سینٹ کمیٹی کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں یہ ’’انکشاف‘‘ کیا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک کالعدم ’’لشکر طیبہ‘‘ کو ملک کے اندر اڈے دے رکھے ہیں۔ اس رپورٹ میں اس کی وجہ بھارت کے ساتھ محاذ آرائی بتائی اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت سے خدشات ہیں اور اس پر دباؤ رکھنے کے لئے لشکر طیبہ کو استعمال کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ایک طرف یہ صورتِ حال ہے تو دوسری طرف پاکستان کے آرمی چیف کو مدعو کیا گیا۔ وی وی آئی پی پروٹوکول دے کر حساس اداروں کے علاوہ امریکی انتظامیہ کے تمام ذمہ داروں سے ان کی بات چیت کرائی گئی پھر وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خلاف سیمینار میں شرکت کی دعوت پر دورہ کیا، وہ واپس آئے تو ہماری ’’پرائم ایجنسی‘‘ آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، امریکہ دورے پر ہیں جہاں ان کے سی آئی اے کے چیف نیشنل سکیورٹی کے سربراہ اور دوسرے اعلیٰ حکام سے مذاکرات ہوئے ان میں انٹیلی جنس شیئرنگ کی بات ہوئی تو جنرل رضوان نے بھی یقیناً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹوں کا ذکر کیا ہوگا اور ایسے ثبوت بھی یقیناً دیئے ہوں گے۔ جو بلوچستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت کے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب بھارتی سیکریٹری خارجہ اسلام آباد آ رہے ہیں کہ مذاکرات کا پھر سے آغاز ہو۔ اندرونی سلامتی سے جڑی اس بیرونی صورت حال کے دوران پاکستان کے اندر سینٹ کے انتخابات مسئلہ بن گئے اور ہارس ٹریڈنگ کا شور مچا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں کل جماعتی کانفرنس میں بھی فیصلہ نہیں ہو سکا، اب عمران خان کہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو وہ سڑکوں پر ہوں گے ساتھ ہی ایک انٹرویو میں کہا مئی سے پہلے یہاں بہت کچھ ہونے والا ہے جبکہ خبریں یہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف والے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے سمجھوتے کے قریب تر پہنچ گئے ہیں اور جلد ہی اعلان بھی ہو جائے گا۔ ان حالات میں پیپلزپارٹی کا رویہ زیر بحث ضرور ہے لیکن نا قابل فہم نہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف میں بن جاتی اور وہ واپس اسمبلیوں میں بھی آ جاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کو اپنی پوزیشن پر غور کرنا ہوگا فی الحال پیپلزپارٹی سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستوں کے حوالے سے شطرنج بچھائے بیٹھی ہے۔ آئندہ ہفتہ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ امریکی رویہ

مزید :

تجزیہ -